جیسی کرنی ویسی بھرنی

mula_naseer_ud_din

پیارے بچو! آپ سب کو پتہ ہے کہ حسد بری بلا ہے۔ حاسد اپنا نقصان خود کرتا ہے ۔
ملا نصیر الدین اپنی دلچسپ باتوں کی وجہ سے بہت مشہور تھا ،اس کی اپنی باتوں کی وجہ بادشاہ نے اسے اپنا خاص وزیر بنایا ہوا تھا۔ وہ ہر روز ملا نصیر الدین کی دلچسپ باتیں سنتا اور خوش ہوتا۔ اسی وجہ سے بادشاہ اسے پسند کرتا تھا۔ یہ دیکھ کر کچھ دربار ی ملا سے حسد کرنے لگے تھے۔ وہ ہر و قت اسے بادشاہ کی نظروں سے گرانے کی ترکیبیں سوچتے رہتے۔ آخر ایک دن انہیں موقع مل گیا انہیں معلوم ہوا کہ ملا نصیر الدین نے کئی غریبوں کو اس وعدے پر روپیہ قرض دیا ہے کہ جب بادشاہ مر جائے گا تو قرض واپس کر دینا۔ ایک درباری نے بادشاہ کے کان بھر ے کہ حضور ملا نصیر الدین تو آپ کو مرتا دیکھنا چاہتا ہے، آپ کی وفات کے بعد امیر ہونے کے چکر میں ہے۔ بادشاہ کو بہت غصہ آیا کہ جس شخص کو اتنی عزت د ے رکھی ہے وہی میری موت کا خواہشمند ہے۔ اس نے اسی وقت ملا کو بلوایا اور پوچھا ’’ کیا یہ سچ ہے کہ تم نے خزانے کا بہت سا روپیہ اس وعدے پر قرض دے رکھا ہے کہ بادشاہ کے مرنے کے بعد واپس کر دینا۔
ملا نصیر الدین نے جواب دیا’’بادشاہ سلامت آپ نے ٹھیک سنا ہے، بادشاہ نے ناراض ہوتے ہوئے کہا ‘‘ اس کا مطلب ہے تو میری موت چاہتا ہے ؟‘‘
ملا نصیر الدین نے کہا بادشاہ سلامت یہ سب میں نے آپ کی سلامتی کے لئے کیا ہے۔
بادشاہ نے حیران ہو کر کہا ’’ وہ کیسے ؟ ‘‘
ملا نصیر الدین نے کہا جن لوگوں کو میں نے قرض دیا ہے ان کے پاس آپ کے مرنے کے بعد کا وعدہ کیا ہے۔ وہ تو دن رات آپ کی سلامتی کی دعائیں مانگ رہے ہیں۔ اگر خدانخواستہ آپ کو کچھ ہوگیا تو انھیں قرض واپس کرنا پڑے گا۔ بادشاہ یہ سن کر بہت خوش ہوا اور درباری اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔
بادشاہ نے فوراً اپنا قیمتی ہار اتار ااور ملا کے گلے میں ڈال دیا۔ یہ دیکھ کر غیبت کرنے والا جل بھن گیا۔ پس اس نے دل میں ارادہ کیا کہ وہ ملا کو ایسی مصیبت ڈالے گا یہ یاد رکھے گا۔ اور یہ کبھی دربار میں دکھائی نہ دے گا۔
وہ درباری ایک بہت بڑے جادو گر کے پاس گیا اور کہا کہ وہ کوئی ایسی ترکیب کرے کہ ملا کبھی دربار کا رخ نہ کرے ۔
جادوگر بولا’’تم فکر نہ کرو میرے پاس ایک جادوئی بونا ہے وہ ملا کو ایسا مزہ چکھائے گا کہ دربار کیا ملا یہ شہر چھوڑ جائے گا ۔جادوگر نے ایک تعویذ لکھا ملا نصیر الدین اور اس کی والدہ کا نام لکھ کر اس درباری سے کہا کہ کسی طرح یہ ملا کی جیب میں ڈال دو پھر ملا کا تماشہ دیکھو۔ درباری وہ کاغذ لے آیا اس نے اپنے خاص آدمی کو کہا کہ کسی طرح اس کاغذ کو ملا کی جیب میں ڈال دو۔ وہ کاغذ کو ملا کے کمرے میں لےگیا ملا۔ اس وقت زور زور سے خراٹے لے رہا تھا۔ اس آدمی نے بڑی ہوشیاری سے وہ کاغذ ملا کی جیب میں ڈال دیا۔ جادوگر جادوئی شیشے سے یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ اسی وقت اس پنجر ے کے پاس گیا جس میں اس نے بونا قید کر رکھا تھا اس نے اسے باہر نکالا اور کہا جائو اس آدمی کی جیب میں پرچی ہے وہ تمہیں چاند پر لے جائے گا، یہ سن کر بونا بہت خوش ہوا اور دوڑتا ہوا وہاں سے ملا نصیر الدین کے گھر کی طرف گیا۔ ملا نصیر الدین تیار ہو کر گھر سے نکلا ہی تھا کہ اچانک بونا اُچھلا اور اس کی گردن پر سوار ہوگیا اور چابک مارتے ہوئے کہا مجھے چاند پر لے چلو ،وہاں میری نانی امی رہتی ہے۔ میں اپنی نانی سے ملوں گا۔
ملا نصیر الدین ہکا بکا رہ گیا، سخت گھبرایا یہ کیا بلا گلے پڑ گئی ہے۔ اس نے بونے سے کہا ’’ بھائی میں تمہیں چاند پر کیسے لے جائوں، چاند پر تو کوئی بھی نہیں رہتا۔ بونے نے زور سے چابک ماری ’’چل مجھے چاند پر لے چل وہاں میری نانی رہتی ہے، میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں ،ایک چابک اور رسید کر دیا۔ بے چارے ملا کوجان کی مصیبت پڑ گئی ۔ اس نے بونے کو نیچے اتارنے کی بہت کوشش کی وہ جادو کا بونا تھا نیچے اترنے کا نام نہیں لیتا تھا۔ سوتے جاگتے ملا کی گردن پر سوار رہتا اور بات بات پر چابک رسید کرتا رہتا۔ اس تکلیف سے پریشان ملا کئی روز دربار میں نہ جا سکا۔ اب درباری خوش کہ ملا بادشاہ سے دُور ہو گیا، جب کچھ عرصہ ملا نہ آیا تو بادشاہ نے اس درباری کو وزیر بنا دیا کیونکہ اس نے بادشاہ کو بتایا کہ ملا روم تجارت کے لئے گیا ہے اور آپ کو بتایا تک نہیں بادشاہ کو بہت افسوس ہوا۔
حاسد درباری جواب وزیر بن چکا تھا بڑی آن بان سے شکار کھیلنے ایک جنگل میں گیا۔ اس نے وہاں ملا کو پریشان حال دیکھا اور طنزاً کہا دیکھا ملا جی! تم بادشاہ کے چہیتے تھے۔ اب بادشاہ تمہارا نام تک بھول چکا ہے۔ آج میں تمہاری طرح وزیر ہوں۔ ہا ہاہا ہا، اسی طرح باقی زندگی بھی گزارنا۔ بادشاہ کے دربار میں کبھی نہ آسکو گے۔اب ملا کی سمجھ میں آیا کہ یہ سارا چکر اسی درباری کا چلایا ہوا ہے اس کا توڑ بہت ضروری تھا۔
ملا آخر ملا نصیر الدین تھا۔ اس نے بونے کو خوشخبری سنائی کہ وہ چاند پر جانے کے لئے تیاری کر رہا ہے وہ سکون سے سو جائے، سفر لمبا ہے تھکاوٹ ہو جائے گی۔ اسے نانی سے ملوائوں گا، بونا سکون سے سو گیا۔ اب ملا نے اس کی تلاشی لی اس کی جیب سے بھی ویسا ہی تعویذ نکلا جس طرح اس کی جیب میں تھا اس نے یہ تعویذ پھینک دیا تھا اس نے دیکھا اس پر اس کا اور اس کی والدہ کا نام اور جنتر منتر لکھے تھے۔ اس نے فوراً اپنا اور والدہ کا نام کاٹ کر درباری وزیر اور اس کی والدہ کا نام لکھ دیا۔ وہ تعویذ لے کر کچھ دور گیا تھا کہ اسے ایک لکڑ ہارا مل گیا ،ملا نے کسی وقت اس پر احسان کیا تھا۔ اس نے وہ تعویذ دیتے ہوئے کہا کہ فوراً اس وزیر کے گھر جائے اور میری کنیز سے کہنا کہ فلاں وزیر کی جیب میں خاموشی سے رکھ دے ۔ لکڑ ہارے نے وہ پرچی ملا کی کنیز کو دی اور ساری بات بتا دی۔
کنیز کو محل کے خفیہ راستوں کا پتہ تھا وہ رات کو اس راستے سے وزیر کے کمرے میں گئی۔ اوریہ تعویزاس کی پوشاک میں ڈال دیا، بس پھر کیا تھا بونا رات کو ہی اٹھا وہ شہر کی طرف بھاگا۔ صبح جاتے ہی وزیر کی گردن پر سوار ہوگیا۔ اسے زور سے چابک رسید کی اور بولا! چل مجھے چاند پر لے چل وہاں میری نانی رہتی ہے۔
وزیر بھاگتا ہوا جادو گر کے گھر کی طرف گیا وہاں جا کر پتہ چلا کہ جادوگر کچھ دن پہلے مر چکا ہے۔ اب کیا ہوا وہ چابک کھاتا جنگل کی طرف بھاگ نکلا۔ وہ جنگل جنگل بھٹکتا پھرتا اور کہتا پھرتا ’’نہ میں حسد کرتا نہ مجھے یہ سزا ملتی۔‘‘
ملا نصیر الدین نہا دھو کر بہترین پوشاک پہنے بادشاہ کے دربار میں جا پہنچا اس نے بادشاہ کو سارا ماجرا کہہ سنایا اس پر بادشاہ بولا ’’جو کرے گا وہ بھرے گا‘‘ ۔
اسی کو کہتے ہیں جیسی کرنی ویسی بھرنی

اپنا تبصرہ بھیجیں