جیسا کرو گے ، ویسا بھرو گے

Queen

کسی گاﺅں میں ایک کسان اپنی بیٹی کے ساتھ رہتا تھا۔ اس کی بیوی فوت ہو چکی تھی۔ لوگو ں کے کہنے پر اس نے ایک ایسی بیوہ عورت سے شادی کرلی جس کی اپنی بھی ایک بیٹی تھی۔ شادی کو ابھی کچھ عرصہ ہی گزرا ہوگا کہ اس نے اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا۔ اپنی بیٹی کو تو وہ اچھا کھلاتی پلاتی مگر کسان کی بیٹی کو بس سوکھی روٹی پر ہی گزارا کرنا پڑتا۔
ایک دن وہ کسان کی بیٹی سے کہنے لگے،
”سامنے وہ جو پہاڑ ہے اس پر بہت میٹھے انگوروں کی بیلیں ہیں، جاﺅ وہاں سے انگور توڑ لاﺅ۔ “
پہاڑوں پر برف جمی ہوئی تھی اور سوتیلی ماں اچھی طرح جانتی تھی کہ اگر لڑکی پہاڑوں تک پہنچ بھی گئی تو زندہ واپس نہ آئے گی۔ اس نے اون کا لباس پہلے سے ہی تیار کر رکھا تھا وہ لڑکی کو پہنایااور سوکھی روٹی کے چند ٹکڑے دے کر اسے گھر رخصت ہو گئے۔
لڑکی گرتی پڑتی اور سردی سے کانپتی ہوئی اس پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ گئی جس کا پتہ سوتیلی ماں نے بتایا تھا۔ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ کر اس نے انگوروں کی بیلوں کو بہت تلاش کیا مگر وہاں تو انگوروں کی بیلیں تھیں ہی نہیں اور جو درخت تھے وہ بھی برف سے ڈھکے ہوئے تھے، سردی کی شدت سے اس کے دانت بج رہے تھے اور بدن پر کپکپی طاری تھی۔اچانک اس کی نظر دور بیٹھے چار سایوں پر پڑی جب وہ ان کے قریب پہنچی تو اس نے دیکھا چار بونے ایک الاﺅ کے گرد بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس نے انہیں سلام کیا اورخود بھی الاﺅ کے قریب جا بیٹھی۔ جب اس کے بدن کو کچھ حرارت پہنچی تو اس کی بھوک بھی چمک اٹھی۔ اس نے اپنے تھیلے سے سوکھی روٹی کے ٹکڑے نکالے اورانہیں چبانے لگی۔
اسے روٹی کھاتے ہوئے دیکھ کر ایک بونا بولا۔”بیٹی مجھے بھی تھوڑی سی روٹی دو ۔“
اس نے روٹی کا ایک ٹکڑا بونے کو پکڑا دیا ۔ یہ دیکھ کر دوسرا بونا بھی بولا ۔
”مجھے بھی روٹی دو“
لڑکی نے ایک ٹکڑا اسے بھی دے دیا۔
اب تیسرا کہنے لگا،
”میں متریا تھوڑی ہوں۔ مجھے بھی بھوک لگی ہے۔“
لڑکی نے روٹی کا ایک ٹکڑا اسے بھی دے دیا۔ یہ دیکھ اب چوتھے بونے سے بھی رہا نہ گیا اور وہ بولا
مجھے بھی ایک ٹکڑا چاہیے۔
لڑکی نے روٹی کاایک ٹکڑا اسے بھی دے دیا اور اس کے بعد جو تھوڑی سی بچ رہی وہ اس نے خود کھالی۔ پھر کچھ دیر آگ سینکنے کے بعد جب وہ اٹھنے لگی تو ان میں سے ایک بونا بولا۔
بیٹی تونے ہمیں روٹی کھلائی ہے یہ تیرا ہم پر احسان ہے۔ اب ہم پر ایک نیکی اور کرتی جا۔
لڑکی نے کہا:آپ حکم دیں، میں آپ کو ہر قسم کی خدمت کرنے کو تیار ہوں ۔
بونا بولا:ہمارے گھر کے سامنے بہت برف جمی ہوئی ہے، اسے ذراوہاں سے ہٹا تو دو۔
لڑکی بہت سمجھدار تھی، اس نے ایک لمبا، نوکیلا پتھر اٹھایا اور اس کی مدد سے برف ہٹانا شروع کر دی۔ جب وہ ساری برف ہٹا چکی تو اسے برف کے نیچے دبی ہوئی انگوروں کی ایک ٹوکری ملی۔
یہ ٹوکری تمہارے لیے ہے۔
یہ سن کر لڑکی بہت خوش ہوئی اور جب وہ ٹوکری اٹھا کر وہاں سے چلنے لگی تو ایک بونا بولا۔
بیٹی میری یہ دعا ہے کہ تو حسین سے حسین تر ہوتی جائے۔
دوسرا بونا بولا۔
خدا ہمیشہ تجھے خوش رکھے۔
تیسرے نے کہا،
خدا تجھے بادشاہ کی ملکہ بنائے۔
چوتھا بولا
خدا کرے جب تو بات کرے تو تیرے منہ سے لعل و جواہر نکلیں۔ لڑکی ان بونوں کی دعائیں لے کر وہاں سے رخصت ہو گئی۔ رات گئے جب وہ گھر پہنچی تو اسے دیکھ کر سوتیلی ماں آگ بگولہ ہو گئی۔
کہاں لگا دی تم نے اتنی دیر ، تجھے موت کیوں نہ آگئی، سوتیلی ماں نے اس کے بال کھینچتے ہوئے کہا۔ لڑکی جب اپنے سفر کا حال سنانے لگی تو اس کے منہ سے لعل و جواہر گرنے شروع ہو گئے۔ یہ دیکھ کر سوتیلی ماں کے اندر شک کی آگ مزید بھڑک اٹھی اور اس نے لڑکی کی اچھی خاصی پٹائی کر دی۔
دوسرے روز اس نے اپنی حقیقی بیٹی کو میٹھے پراٹھے بنا کر دئیے اسے گرم کپڑے پہنا ئے اور کہا ۔
بیٹی اب تو بھی اس پہاڑ پر جا
اس کی لڑکی بھی گرتی پڑتی وہاں جا پہنچی، اس نے نہ تو بونوں کو سلام کیا نہ دعا دی اور جا کر الاﺅ کے قریب بیٹھ گئی۔
جب اس کے بدن کو کچھ حرارت پہنچی تو اس نے میٹھے پراٹھے نکالے اور انہیں مزے سے کھانے لگی۔ اسے پراٹھے کھاتے ہوئے دیکھ کر ایک بونا بولا۔
بیٹی مجھے بھی دے۔
چل دور میں کوئی یہ پراٹھے تمہارے لیے لائی ہو ں، لڑکی نے اسے دھتکار دیا۔
اب دوسرا بونا کہنے لگا۔
چل بیٹی مجھے ہی دے دو۔
لڑکی نے جواب دیا، میں کوئی آپ کی نوکرہوں کہ آپ کو پراٹھے کھلاﺅں۔
تیسرے نے بھی کہا۔
اچھا اگر ان کو نہیں دیتی تو پھر مجھے ہی دے دو۔
چوتھا کہاں چپ رہنے والوں میں سے تھا۔ بولا۔
میں نے بھی کھانے ہیں۔
لڑکی نے غصے سے کہا، میں آپ سے پہلے بھی یہ بات کہہ چکی ہوں کہ یہ پراٹھے میں اپنے لیے لائی ہوں، آپ کے لیے نہیں۔
اس کی بات سن کر بونے ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔
اپنے سارے پراٹھے کھانے کے بعد جب لڑکی اٹھنے لگی تو بونے بولے۔
بیٹی ہمارے گھر کے سامنے بہت برف جمی ہوئی ہے ذرا سے ہٹاتی جا۔
لڑکی نے نفرت آمیز لہجے میں کہا ،میں کوئی آپ کے باپ کی نوکر ہوں جو آپ کی برف ہٹاﺅں۔
ایک بونا بولا، اچھا تو یہ با ت ہے تو سن میری بددعا ہے کہ تو دنیا کی بدصورت ترین لڑکی بن جائے۔
دوسرے نے کہا، خدا کرے تو کنواری ہی مرے۔
تیسرا بولا، خدا کرے جب تو بولے تو تیرے منہ سے مینڈک گریں۔
چوتھے نے بھی اسے بددعا دی۔ خدا کرے تو دنیا سے ایسے ہی جائے جیسا انہوں نے کہا ہے۔
رات گئے جب وہ لڑکی خالی ہاتھ گھر لوٹی تو ماں نے سفر کا حال پوچھا وہ اپنے سفر کا حال سنانے لگی تو اس کے منہ سے چھوٹے چھوٹے مینڈک گرنے شروع ہو گئے۔
یہ دیکھ کر اس کی ماں نے اپنا سر پیٹنا شروع کر دیا۔
دوسرے دن وہ سوتیلی بیٹی سے پھر کہنے لگے۔
وہ سامنے جو دور پہاڑ نظر آرہا ہے اب تم وہاں جاﺅ سنا ہے وہاں کے سیب بہت میٹھے ہوتے ہیں۔
لڑکی بے چاری بغیر احتجاج کیے گھر سے چل پڑی ،ابھی وہ کچھ ہی دور گئی ہو گی کہ راستے میں اسے بادشاہ کی سواری جاتی ہوئی نظر آئی ۔
بادشاہ کی نظر جب اس لڑکی پر پڑی تو وہ اس کا عاشق ہوگیا۔ اس نے اپنے دل کا حال دوسرے دن وہ سوتیلی بیٹی سے پھر کہنے لگی۔
وہ سامنے جو دور پہاڑ نظر آرہا ہے اب تم وہاں جاﺅ ، سنا ہے وہاں کے سیب بہت میٹھے ہوتے ہیں۔
لڑکی بے چاری بغیر احتجاج کیے گھر سے چل پڑی۔ ابھی وہ کچھ ہی دور گئی ہوگی کہ راستے میں اسے بادشاہ کی سواری جاتی ہوئی نظر آئی۔ بادشاہ کی نظر جب اس لڑکی پر پڑی تو وہ اس کا عاشق ہوگیا۔ اس نے اپنے دل کا حال وزیر کو بھی بتا دیا۔ جب وزیر نے لڑکی سے اس کے بارے میں پوچھا تو اس نے اپنی سوتیلی ماں کے ظلم کی ساری داستان وزیر کو سنا دی۔ جب وہ بول رہی تھی تو اس کے منہ سے لعل و جواہر گرنے شروع ہو گئے۔ وزیر نے وہ سبھی لعل و جواہر اٹھا کر اپنے رومال میں باندھ لیے اور لڑکی سے پوچھا کہ وہ بادشاہ کی ملکہ بننا پسند کرے گی۔ لڑکی نے جب اثبات میں سر ہلایا تو بادشاہ بہت خوش ہوا اور اسے اپنے ساتھ محل میں لے آیا۔ پھر کچھ دنوں کے بعد اس کی شادی بڑی دھوم دھام سے بادشاہ کے ساتھ ہو گئی۔
کئی دن گزر جانے کے بعد بھی جب وہ لڑکی گھر نہ پہنچی تو اس کی سوتیلی ماں یہی سمجھی کہ راستے میں کہیں مر گئی ہو گی مگر یہ بات تو وہ جانتی ہی نہ تھی کہ اب اس کی سوتیلی بیٹی بادشاہ کے محل کی رانی بن چکی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں