جلسے میں ”پاکستان زندہ بعد “کا نعرہ لگانے والی لڑکی غدار قرار

Pakistan_zinda_bad
EjazNews

انڈیا میں بڑھتی ہوئی ذات پات اور مسلمان مخالف نظریہ نے انڈیا کو پوری طرح بانٹ کر رکھ دیا ہے ایک طرف وہ لوگ ہیں جو تمام مذاہب کے ساتھ مل جل کر رہنا چاہتے ہیںاور دوسر ی جانب ایسے لوگ ہیں جن کا ماننا ہے کہ یہاں پر ہندو راج ہونا چاہیے۔ ان کو کئی سو سال بعد جا کر حکومت ملی ہے۔
متنازع شہریت قانون کے خلاف مظاہروں میں شدت آتی جا رہی ہے اور ان مظاہروں میں اب ہندو، عیسائی اور دیگر مذاہب کے افراد بھی مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہے۔
گزشتہ روز متنازع شہریت قانون کے خلاف ہونے والے ایک جلسے میں ”پاکستان زندہ باد “ کے نعرے گونجتے رہے۔ لڑکی کو منع کرنے کے باوجود اس نے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے۔ نعرے لگانے والی لڑکی کو جیل بھیج دیا گیا۔بنگلور میں ہونے والے متنازع شہریت کے قانون کیخلاف ہونے والے جلسے میں لڑکی نے پاکستان زندہ بعد کے بعد ہندوستان زندہ بعد کے بھی نعرے لگائے لیکن پاکستان زندہ بعد کہنا اس پر بہت بھاری رہا ۔ لڑکی کو غداری کیس میں جیل بھیج دیا گیا ہے۔
اس لڑکی کے بارے میںبتایا جارہا ہے کہ یہ مسلم لڑکی نہیں ہے۔ ورنہ ابھی تک تو پورے ہندوستان میں مسلمانوں کو غداری کے بڑے بڑے پوسٹر مل چکے ہوتے۔

انڈیا میں ہونے والے اس جلسے میں صورتحال اس وقت دلچسپ ہوگئی جب لڑکی نے پاکستان زندہ بعد کے نعرے لگائے تو اسد الدین اویسی مڑ کر واپس آئے اور اسے روکنے کی کوشش کرنے لگے۔ مگر لڑکی نہیں رکی۔ویڈیو میں دیکھا گیا ہے کہ لڑکی کو مزید لوگوں نے بھی روکنے کی کوشش کی لیکن وہ پھر بھی نہیں رکی۔
اسدالدین اویسی نے وضاحت کی کہ وہ جلسے کے بعد نماز پڑھنے جا رہے تھے کہ لڑکی نے ”پاکستان زندہ باد“کے نعرے لگائے، جنہیں سننے کے بعد وہ واپس مڑے اور لڑکی کو روکنے کی کوشش کی۔
پاکستان کیخلاف اس قدر نفرت پائی جارہی ہے کہ پاکستان زندہ باد کہنے سے بھی لوگ غدار قرار دئیے جارہے ہیں۔ جب معاشر ہ اس قدر متشدد ہو جائے تو جان لیجئے یہ معاشرہ اب تباہی کی جانب گامزن ہو چکا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں