جلدی امراض اور احتیاطی تدابیر

skin_care
EjazNews

گومڑے
گومڑے جلد کی ایک گروتھ ہیں جو وائرل انفیکشن کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیںاس کی بہت سی اقسام ہیں۔
عام گومڑے جس جسم کے کسی بھی حصے پرنمودار ہو سکتے ہیں لیکن یہ خاص طور پر سے ہاتھوں، انگلیوں ، چہرے اور گردن پر نمودار ہوتے ہیں۔ وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ تک پھیل سکتے ہیں (مثال کے طور پر ایک انگلی سے دوسری انگلی تک)۔
پیروں کے گومڑے تلوئوں میں نمودار ہوتے ہیں۔ یہ الگ الگ بھی ہو سکتے ہیں اور جھنڈ کی صورت میں بھی۔ یہ سخت اور کھردرے ہوتے ہی اور ا ن میں درد بھی ہو سکتا ہے۔
گومڑوں کو دور کرنے کی سب سے زیادہ سریع اور موثر صورت کاسمیٹک سرجری یا ادویات کا استعمال ہے تاہم کچا لہسن ایک عام گھریلو علاج ہے ۔ لہسن کولگانے سے گومڑا ختم ہو جاتا ہے آپ اپنی غذا میں بھی لہسن کو باقاعدگی کے ساتھ شامل کر کے اس کی خصوصیات سے مستفید ہو سکتے ہیں۔
گومڑے زیادہ امکانی طور پر اس وقت نمودار ہوتے ہیں جب مدافعتی نظام کمزور ہو جاتا ہے۔ ایسی غذائیں کھائیں جن میں وٹامن اے کی مقدار زیادہ ہو گومڑوں کے مزید نکلنے کو روکا جاسکتا ہے نیز صحت مند جلد کو برقراررکھنےمیں مدد ملتی ہے۔ جن اشیاء میں وٹامن اے پایا جاتا ہے ا ن میں کلیجی، مکھن ،انڈے کی زردی پنیر اور دودھ وغیرہ شامل ہیں۔ وٹامن سی بھی مدافعتی نظام کو بڑھاوا دیتا ہے اور خلیو ںکی دیواروں کو مضبوط بنانے میں مدد دیتا ہے۔ جن اشیاء میں وٹامن سی زیادہ پایا جاتا ہے ان میں نارنگی ، پپیتا ، امرود، ہری مرچیں ، اسٹرابیری وغیرہ شامل ہیں۔ ان غذائوں کے استعمال سے گومڑوں کی روک تھا م میں مدد ملتی ہے۔

جلد کی حفاظت کیجئے یہ بہت نازک اور حساس ہوتی ہے

چونکہ گومڑے اس وقت نمودار ہوتے ہیں جب آپ کا مدافعتی نظام معمول سے کم ہو جاتا ہے اس لئے یہ ضروری ہے کہ آپ ہر ایسی چیز کے استعمال سے گریز کریں جس سے آپ کی صحت پر دبائو پڑتا ہو۔ کافین اور نکوٹین کے استعمال میں کمی کیجئے۔ اس سے آپ نہ صرف یہ کہ بہتر نظر آئیں گی بلکہ آپ کے مدافعتی نظام کے بہتر ہو جانے کے باعث آپ یہ محسوس کریں گی کہ آپ کی عمومی توانائی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
ایسی دوائیں، تیل اور ٹنکچر وغیرہ خاصی بڑی تعداد میں موجود ہیں جو جلد کو مستحکم کرنے میں اور گومڑوں وغیرہ جیسے جلد کے انفیکش کی روک تھام میں مدد کرتے ہیں۔
لہسن کے تیل میں ایک اہم عنصر شامل ہوتا ہے جسے ایلی سین کہتے ہیں۔ یہ ان کلید ی انزائمز کا راستہ روک دیتا ہے جو بیکٹریاں اور وائرس کو ٹشوز پر حملہ کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ چائے کے درخت کا تیل قدرتی تیلوں کے ساتھ حل ہو جاتا ہے اور جلد کی کیمسٹری کو تبدیل کر دیتا ہے۔ جس کےباعث حملہ آور جراثیم کی تعداد کم ہو جاتی ہے اور اس طرح انفیکشن کا خطرہ بھی گھٹ جاتا ہے۔ چائے کے درخت کا تیل زخموں کے مند مل ہونے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہےاور نشانات باقی رہ جانے کے امکانات میں بھی کمی کرتا ہے۔
گولڈن سیل ٹنکچر میں معالجاتی مرکبات شامل ہوتے ہیں جن میں اینٹی بایوٹک اور مدافعت کو بڑھانے والے خواص پائے جاتے ہیں۔
ایلو ویرا جیل میں اینٹ یوائرل، اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی فنگل خواص پائے جاتے ہیں۔
پائوڈی آرکو ٹنکچر ایک سدا بہار درخت کے اندرونی تنے سے حاصل کیا جاتا ہے اور اس میں طاقتور اینٹی وائرل مرکبات موجود ہوتے ہیں اسے جب براہ راست استعمال کیا جاتا ہے تو یہ گومڑوں کے خاتمے میں مدد دیتا ہے اور جلد کے زخموں کو مند مل کرتا ہے۔
چنبل:
چنبل ایک ایسی طویل عرصہ تک جاری رہنے والی جلدی بیماری ہے جس میں جسم پر دھبے ابھر آتے ہیں اور ان پر سفید رنگ کے چھلکے نمودار ہوتے ہیں۔ یہ مرض جو کہ غیر متعدد ہے ، عام طور سے دس سے تیس سال تک کی عمر کے درمیان ابھرتا ہے اگرچہ یہ کسی بھی عمرکے لوگوں کو لاحق ہو سکتا ہے جسم کی جن جگہوں پر یہ سب سے زیادہ ہوتا ہے ان میں کھوپڑی، کہنیاں، پشت کا نچلا حصہ اور گھٹنے شامل ہیں ۔ چنبل سے پیروں اورہاتھوں کے ناخن بھی متاثر ہو سکتے ہیں ان کا رنگ پیلا پڑ سکتا ہے۔ چنبل اس وقت پیدا ہوتا ہے جب جلد کے خلیے بڑھتے اور پھیلتے ہیں جلد کے نئے خلیے جلد کی نچلی تہوں میں تشکیل پاتے ہیں اورانہیں اوپری سطح تک پہنچنے میں عام طورسے اٹھائیس دن کا عرصہ لگتا ہے جہاں آکر وہ جھڑ جاتے ہیں۔ چنبل میں یہ دور تقریباً آٹھ دن تک جاری ر ہتا ہے۔ نئے خلئے بہت جلدی جمع ہو کر پختہ ہو جاتے ہیں اور اس لئے وہ آسانی سے نہیں جھڑتے ۔ جلد سرخ ہو جاتی ہے، اس میں سوزش ہونے لگتی ہے اور اس پر سفید چھلکوں والے ابھرے ہوئے دھبے نمودار ہو جاتے ہیں ایسی غذائیں جن میں زیادہ اینٹی آکسی ڈینٹس شامل ہوں خلیوں کو محفوظ رکھنے میں مدددیتی ہے۔

دیکھ بھال کے لحاظ سے مشکل ترین جلد کمبی نیشن اسکن

گاجر ، ٹماٹر ، بلیو بیری اور اسٹرابیری اور رس بھری ان سب میں اینٹی آکسی ڈینٹس موجود ہوتے ہیں جو چنبل کے بار بار نمودار ہونے کی روک تھام کرتے ہیں۔ ہفتے میں کم از کم تین بار روغنی مچھلی کھانے سے یا دو سے پانچ گرام تک مچھلی کا تیل استعمال کرنے سے سوزش زدہ جلد کو آرام حاصل ہو سکتا ہے۔ ایسی غذائی اشیاء جن میں وٹامن اے شامل ہو، جلد کے نشوونمامیں باضابطگی پیدا کر سکتی ہیں اور مرض کے بار بار کے حملوں کی روک تھام کر سکتی ہیں ۔ مکھن اور دودھ میں وٹامن ے اے پایا جاتا ہے۔
مندرجہ اشیاء چنبل کے مریضوں کے لئے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں۔
اسٹک گریپ سیڈ کا جوس اینٹی آکسی ڈینٹ خواص کا حامل ہو تا ہے اور اس لئے یہ جلد کو مختلف قسم کی بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔
گائو زبان کا تیل بھی اسی طرح کے اینٹی آکسی ڈینٹ فوائد کا حامل ہے۔
محققین نے یہ پتہ لگایا ہے کہ تمباکو نوشی کرنے والے لوگوں میں اس بیماری کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے ۔ خاص طور سے ان لوگوں کو جو ایک دن میں بیس یا اس سے زیادہ سگریٹ پیتے ہیں، تمباکو نوشی نہ کرنے والوں کے مقابلے میں دگنا خطرہ لاحق ہو تا ہے تمباکو نوشی عورتوں کو تمباکو نوش مردوں کے مقابلے زیادہ خطرہ لا حق ہوتا ہےمحققین کے مطابق چنبل کے چار مریضوں میں سے ایک مریض کویہ بیماری تمباکو نوشی کیوجہ سے لاحق ہوتی ہے۔
ایگزیما اور ڈیر ما ٹائی ٹس:
جلد میں نمی کو برقراررکھنے کی غرض سے آپ کو چاہئے کہ بنیادی روغنی ایسڈوں (ای ایف اے ایس) کو اپنی غذائوں میں شامل رکھیں۔ اپنی جلد کو نمی سے بھرپور رکھ کے آپ اس خشکی کا مقابلہ کر سکیں گی جو ایگزیما یا ڈیما ٹائی ٹس جیسی بیماریوں کو پیدا کر دہ ہے۔بعض تحقیقات سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ جو لوگ ایگزیماکے شکار ہیں ان میں ای ایف اے ایس کو پروسیس کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ ای ایف اے ایس کی کمی گاما لینو لینک ایسڈ (جی ایل اے ) کی کمی کی صورت میں منتمج ہو سکتی ہے۔ اس کے بارے میں اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کیجئے کہ آپ کو اپنی غذا میں جی ایل اے کی کمی کو دور کرنے کے لئے کیا کرنا چاہئے۔
دھوپ سے جھلسنے کی دھبے:
الٹرا وائلٹ شعاعوں کی دو قسمیں ، یعنی یووی اے اور یووی بی، جلد میں سرخی ، سوزش اور دھوپ سے جلنے کا درد پیدا کرتی ہیں۔ دھوپ سے جھلسنے کی علامتیں آہستہ آہستہ ظاہر ہوتی ہیں اور چوبیس گھنٹے کے بعد یہی پوری طرح سے ظاہر ہوتی ہیں۔ جھلسنے کی شدت ہلکی اور درمیان سے لے کر بہت زیادہ تک ہوسکتی ہے۔ یووی شعاعیں ڈرمیس میں بہت گہرائی تک سرایت کر جاتی ہیں اور خلیوں کو نقصان پہنچاتی ہیں جو آنے والے برسوں میں جلد کے کینسر کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ ایسے لوگ جن کی جلد کی رنگت گوری، آنکھیں نیلی اور بال بھورے یا سرخ ہوتے ہیں جلسے جانے کی زد میں سب سے زیادہ آتے ہیں لیکن سانولی رنگت والے لوگ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔ دھوپ سے جھلسنے کے تمام واقعات کے نتیجے میں جلد پر قبل از وقت جھریاں نمودار ہو جاتی ہیں اور عمر رسیدگی کی نشاندہی کرنے والے دھبے پیدا ہونے لگتے ہیں۔ مرض کو کم کرنے اور دھوپ کے مضر اثرات کو دورکرنے کی غرض سے جھلسے ہوئے حصوں پر تازہ ٹماٹر ملئے، اور اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ بہت سا پانی پیجئے اور ایسی غذائیں کھایے جن میں پانی کا تناسب زیادہ ہو۔ اپنے جسمانی نظام کو پوری طرح سےڈی ہائیڈریٹڈ رکھنے کے باعث آ پ کو لو لگنے کا امکان کم ہو گا اور آپ کی جلد ان خلیوں کو جھاڑ کر پھینک سکے گی جو کہ دھوپ کی وجہ سے خشک ہو چکے ہیں۔
دھوپ کی وجہ سے جھلسنے کے مضر اثرات سے جلد کو محفوظ رکھنے کے لئے ایسی چیزوں کو اپنی غذا میں شامل کیجئے جن میں وٹامن سی زیادہ پایا جاتا ہے جیسے ہری مرچیں ، پپیتا، اسٹرابیری اور سنگترے وغیرہ آپ کی روزانہ کی غذا میں خاص طور سے اس وقت جبکہ آپ کو دھوپ کا سامنا ہو وٹامن سی صحت مند کولیجن کو پیدا کرنے اور اسے برقراررکھنے کیلئے ضروری ہے۔ کولیجن جلد کا اہم ترین جزو ترکیبی ہے جو اسے مضبوطی، گداز اور لچک دیتا ہے اس میں اہم اینٹی آکسی ڈینٹ خواص بھی پائے جاتے ہیں جو عمر رسیدگی کے عمل کو روکنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ ایسی غذائوں کے کھانے سے بھی جن میں وٹامن ای کی زیادہ مقدار پائی جاتی ہو جیسے سورج مکھی کے بیج، شکر قندی اور پالک، جلد کو صحت مند رکھنے میں مدد ملتی ہے اور سورج کی نقصان دہ شعاعوں سے جلد کو کچھ تحفظ بھی حاصل ہوتا ہے۔ اگر آپ جلد کے جھلسنے کا شکار ہو گئی ہیں تو وٹامن ای خلیوں کی درستگی اور ان کے احیاء میں آپ کی مدد کرے گا۔
اگر آپ دھوپ میں دن گزارنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں تو آپ کو یہ جان لینا چاہئے کہ الکحل کیا اثرات پیدا کر سکتا ہے۔ صرف آپ کے دماغ پر ہی نہیں بلکہ آپ کے جسم پر بھی۔ اگر آپ دھوپ میں کام کر رہی ہیں تو آپ کو چاہئے کہ جتنا پانی آپ عام طور سے پیتی ہیں۔ ا س سے کم از کم ایک لیٹر زیادہ پانی پئیں تاکہ آپ پوری طرح سے ہائیڈریٹڈ ہیں۔
دھوپ سے جھلسے کے موثر علاج کے لئے نہانے کے ٹھنڈے پانی میں بابو نہ کے تیل یا لیونڈر آئل کی سو بوندیں ملا لیجئے۔ یہ تیل جلد کی خارش اور بے چینی کو دور کر کے اسے سکون بخشتے ہیں، خارش کو دور کرنے کے لئے ایلو ویرا جیل بھی لگائی جاسکتی ہے۔
یہ بات بہت اہم ہے کہ آپ اپنی جلد کے لئے صحیح قسم کی سن اسکرین کا انتخاب کریں۔ سن پروٹیکشن فیکٹر کی درجہ بندی 2سےلے کر 60ہوتی ہے۔ یہ نمبر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس پروڈکٹ میں آپ کو الٹرا وائلٹ شعاعوں سے بچائے رکھنے کی کتنی قوت ہے۔ اگر آپ عام طور سے تیس منٹ تک دھوپ میں رہتی ہیں تو ایس پی ایف 15اس طرح ڈیزئن کیا گیا ہے کہ آپ کو تقریباً 450منٹ تک محفوظ رکھ سکے ۔ یہ مدت تقریباً سات گھنٹے کے مساوی ہے۔زیادہ تر لوگوں کو کم از کم ایسپی ایف 15سے آغاز کرنا چاہئے تاہم بھورے اور سرخ بالوں والے لوگوں ،گوری رنگت والوں اور خاص طور سے بچوں کو زیادہ بہتر تحفظ کی غرض سے ایس پی ایف 30کی ضرورت ہوگی۔ سن اسکرین کے باقاعدہ استعمال میں کوتاہی نہ کیجئے۔ خاص طور سے نہانے کے بعد، خواہ آپ واٹر پروف سن اسکرین ہی کیوں نہ استعمال کر رہی ہوں۔ اگر آپ دھوپ سے جھلس گئی ہیں تو جلد کے متاثرہ حصوں پر ٹماٹر یا پپیتا ملئے اس سے سرخی کے دور ہونے میں مدد ملے گی اور جلد جلد ہی ٹھیک ہو جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں