جدوجہد ہی حقیقی کامیابی ہے

children practice

میسا چوسا انسٹی ٹیوٹ نے نوجوانو ں پر کئی طرح کے تجربات کیے انہوں نے یہ دیکھنے کی کوشش کی کہ بے جا روکا ٹوک کے ان کی شخصیت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں یہ تحقیق دو مرحلوں پر مشتمل تھی ۔ 15ماہ سے کم عمر کے بچوں پر اور اس سے زیادہ عمر کے بچوں پر الگ الگ تحقیق کی گئی۔
ماہرین کے مطابق 15مہینے سے کم عمر کے بچے اپنے والدین سے سیکھنا شروع کرتے ہیں ۔والدین سمجھتے ہیں کہ ان کی بچوں پر نظر ہے لیکن نہیں بچوں کی والدین پر نظر ہوتی ہے جو کچھ بڑے کرتے ہیں وہی کچھ بچے بھی کرنا چاہتے ہیں ان کی ذہنی سوچ ، صلاحیت اور گھر کے حالات بچے کی شخصی نشوونما میں اہم کر دار ادا کرتے ہیں۔سائنس دانوں نے اسے ایفرڈ کنڈیشن کوشش قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق کئی مرحلوں پر والدین اپنے بچوں کو 30سیکنڈ یا اس سے زائد دیکھتے رہتے ہیں اور ان کی شخصیت پر کچھ اثرات مرتب ہوتے ہیں جبکہ ایک اور صورتحال کو نوایفرڈکنڈیشن کہاجاتا ہے یہ وہ صور تحال ہے جس میں بڑ ے انتہائی تیزی کے ساتھ اپنے مسئلے حل کرتے ہیں۔
محققین نے ان بچوں کو کھیلنے کے لیے کچھ موسیقی کے آلات دئیے اگر وہ اس کا آن اور آف کرنے کا چھپا ہوا بٹن تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے تو اس سے ان کی کھوج لگانے کی صلاحیتوں کا پتہ چلتا ہے ۔ انہوں نے اس چیز پر نظر کی کہ بچہ کس طریقے سے چھپا ہوا بٹن تلاش کرتاہے۔دوسری صورت میں کھلونا والدین کو دیا گیا اور بچے دور رہے اور دور سے سیکھتے رہے۔ سائنسدانوں نے ان دونوں تجربات سے بچوںمیں سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں میں فرق پایا۔
مائنڈ سیٹ کی طاقت
سائنسدانوں نے بچوں میں بھی مائنڈ سیٹ کی طاقت کا پتہ چلانے کی کوشش کی۔سٹین فورڈ یونیورسٹی کے کیرن میرڈ نے یہ انوکھا کام کیا۔ان کی تحقیق کے مطابق انسان کی کامیابیوں کے بارے میں دو طرح کی توقعات پائی جاتی ہیں ایک کا تعلق صرف مائنڈ سیٹ سے ہے، اس سوچ کے مطابق بچوں کا رویہ ان کی اپنی شخصیت تک محدود ہوتا ہے وہ باہر سے کچھ نہیں سیکھتے جبکہ دوسری سوچ کے مطاق مائنڈ سیٹ گروتھ مائنڈ سیٹ ہے یعنی اس میں کچھ دیکھ کر سیکھنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اپنی ریسرچ میں کیرن ڈیوڈ نے کہا کہ گروتھ مائنڈ سیٹ والے بچے زیادہ خوش رہتے ہیں اور زیادہ ترقی کرتے ہیں جبکہ فکسڈ مائنڈ سیٹ والے بچے عموماً زندگی کی دوڑ میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ اس کی تحقیق ان کی ایک اور محقق انجیلا ڈیتھورتھ کی تحقیق سے بھی ہوئی۔
بعض بچوں کے والدین بچوں کے سامنے ہر چیز کو بہت ہلکا لیتے ہیں ایسے والدین کو کبھی کبھی پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ میسا چوسا انسٹی ٹیوٹ کی سائنسدان لارا چوس کے مطابق بچوں کو یہ کہنا کہ آپ نے زندگی میں کوئی مقام حاصل کرنے کے لیے بہت محنت کی ہے اس سے بچے منفی تاثر لیتے ہیں اور زندگی کو بہت مشکل تصور کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں