جب کتوں نے مجھے بہت پٹوایا

doges

یہ رات کا وقت تھا۔میں اپنے کمرے میں لیٹے ہوئے نیند کے مزے لے رہے تھا کہ اچانک ایک آواز کان میں پائی۔ بھوں ، بھوں ، بھوں “ میںاپنی قسمت کو کوستے ہوئے اٹھا، کتوں کی گرما گرم کانفرنس جاری تھی۔ تمام نمائندے زور و شور سے امن چین کے موضوع پرتبادلہ خیال کر رہے تھے۔ میں اتنے غصے میں تھا کہ گھر سے آتے ہوئے اپنی ہاکی بھی ساتھ لایا تھا۔ لیکن کمبخت کتوں نے کسی غیر خانبدار نمائندے کو داخل ہوتے ہوئے دیکھ کر تیزی سے میری طرف لپکنا شروع کیا اور گھٹنے پر ایک نے اپنی مہر ثبت کر دی، مجھے سخت غصہ آیا۔ اندھیرے کی وجہ سے کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔ اٹکل پچو ہاکی ہوا میں چلائی تو ایک آواز میرے کانوں میں پڑی ۔
”ارے کم بخت ! نامعقول! تجھ سے تو ابھی میں نپٹتا ہوں“ یہ سن کر میری روح اچھل کر حلق میں آگئی۔ کانپتے ہاتھوں سے ٹارچ جلائی تو دیکھا کہ ایک بزرگ زمین پر بیٹھے کراہ رہے ہیں۔ ”آئے! ارے کم بخت ! ادھر آ!“ میری سٹی گم ہو گئی اور فوراً میں نے سومیل فی گھنٹے کی رفتار سے بھاگنا شروع کردیا۔ بزرگ میرے پیچھے تھے۔ تھوڑی دیر کی ”اولمپک ریس “ کے بعد مڑ کر پیچھے دیکھا تو بزرگ غائب تھے۔ میں نے غور سے دیکھا تو ایک گٹر نظر آیا جس پر ڈھکن رکھنے کی ناگوار زخمت غالباً کارپوریشن نے گوارا نہ کی تھی۔ اس گٹر میں ”غڑاپ غڑاپ“ کی آوازوں کے ساتھ یہ آوازیں آرہی تھیں ۔ ارے کم بخت ! گدھے ! ناشدنی ! اس گٹر سے نکلوں پھر تجھے دیکھتا ہوں !“ میں نے اطمینان کا سانس لیا اورگھر کی طرف چلنا شروع کر دیا۔لیکن دوستو! میں راستہ بھر میں یہ سوچتا رہا کہ یہ انکل کہاں سے ٹپک پڑے تھے ان کتوں کے بیچ میں۔ تھوڑی دیر بعد سمجھ آئی کہ شایدوہ بھی اپنی نیند خراب ہونے کی وجہ سے انہیں بھگانے آئے تھے اور میری ہاکی ان کو لگ گئی۔ گھر پہنچ کر کمرے کا دروازہ کھولا ہی تھا کہ ایک آواز آئی ”چور! چور! پکڑ و!“
ابھی میں صورت حال کی سنگینی اور چور کے محل وقوع کا اندازہ کر ہی رہا تھا کہ کسی نے کپڑے دھونے والا ڈنڈا میرے سرپر جمایا، مجھے ستارے کیا، سورج، چاند ، مریخ ، زہرہ ، مشتری وغیرہ سب دکھائی دے گئے۔ اس کے بعد کسی نے کمبل پھینک کر دبالیا۔ یعنی یک نہ شد دو شد۔ پھر بھائی جان کی فاتحانہ آواز سنائی دی۔ ”پکڑ لیا“ میں نے شور مچانا شروع کر دیا۔ ”بچاﺅ ! بچاﺅ ! میں فہیم! فہیم ! “ اتنے میں کسی نے کمبل الٹا دیا۔ مابدولت کا چاند سا مکھڑا دیکھ کر کئی حیرت بھری آوازیں ابھریں۔ ”ارے ! تم اور پھر سب نے ہنسنا شروع کر دیا۔ میں بھیگی بلی بنے انھیں گھورتا رہا ۔تھوڑی دیر بعد پتہ چلا کہ میں گیٹ کا دروازہ کھلا چھوڑ کر چلا گیا تھا جس کی وجہ سے گھر والے سمجھے کہ کوئی چور گھس گیا ہے بس اسی کی تاک میں میری پٹائی ہوئی۔ البتہ دل ہی دل میں ،میں یہ جملہ دہراتا رہا ۔ ”خدا غارت کرے ان کتوں کو “ جن کی وجہ سے یہ سارا واقعہ آن کی آن میں پیش آیا۔
فہیم احمد فہیم

اپنا تبصرہ بھیجیں