مغرور زرافہ اور بی لومڑی

پیارے بچو! ایک جنگل میں بہت سے جانور رہتے تھے اُن میں شیر چیتا، ہرن ، لومڑی ، زرافہ، زیبرا، جنگلی بھینسے، لگڑ بگڑ ، تیندوا اور نیل گائے وغیرہ۔ جنگل کا بادشاہ بوڑھا ہو چکا تھا اب ہرنی، زیبرا وغیرہ کا شکار نہیں کر سکتا تھا۔ جنگلی ہاتھی بھینسے کے سینگوں سے ڈرنے لگا تھا۔ اُس نے دیکھاکہ ایک زرافہ درختوں سے شاخیں کھا رہا تھا، اُس نے سوچا آج اس کو خوراک بناتا ہوں۔ زرافہ قد میں لمبا تڑنگا تھا ،چونکہ اس کی گردن لمبی ہوتی ہے ،اُسے شہ رگ سے نہیں پکڑا جاسکتا۔ پس شیر نے پیچھے سے حملہ کیا، زرافہ کی کھال سخت ہوتی ہے آسانی سے اُدھڑ نہیں سکتی۔ شیر کا پہلا حملہ ناکام ہو گیا جب دوبارہ حملہ آور ہوا تو زرافہ نے ٹانگ مار دی ٹانگ سیدھی شیر کے سینے میں لگی وہ دُور جا گرا۔ شیر غصے سے دوبارہ حملہ آور ہوا زرافہ نے دوبارہ ٹانگ ماری تو شیر گر کر تڑپنے لگا۔ زرافہ نے ایک اور ٹانگ گھما کر مار دی شیر وہیں تڑپ تڑپ کر مر گیا۔ جنگلی جانور اسے دیکھ رہے تھے ،اب زرافہ کا غرور دیکھنے والاتھا اس نے جنگل کے بادشاہ کو مار گرایا تھا۔ وہ اکڑ کر چلنے لگا اب اُسے دوسرے جانور حقیر لگنے لگے تھے۔ وہ انھیں الٹے سیدھے ناموں سے پکارنے لگا تھا ۔ چونکہ جانور پر اس کی دہشت طاری تھی وہ سہمے رہتے اور زرافہ کو جواب نہ دیتے تھے۔ اب زرافہ کی حرکتیں بڑھتی جارہی تھیں۔


ایک دن چند مظلوم جانور بی لومڑی کے پاس آئے اور اس سے زرافہ کی شکایت کرتے ہوئے فریاد کی کہ وہ کوئی طریقہ بتائیں اب تو دوسرے شیر بھی اُس سے ڈرنے لگے ہیں۔
زیبرا نے روتے ہوئے کہا: بی لومڑی کیا بتائوں زرافہ مجھے لائنوں والا گدھا کہتا ہے یہ بھی کہتا ہے کہ تم میں اور گدھے میں صرف لائنوں کا فرق ہے لائنوں کی وجہ سے تم عقلمند نہیں بن سکتے۔
گدھے نے کہا :زرافہ مجھے ڈھینچو ں ڈھینچوں کہتا ہے اور کہتا ہے کہ جانوروں میں سب سے بیوقوف جانور ہوں ۔
ہرنی نے کہا: ’’زرافہ مجھے بکری کہتا ہے اور میرا خاندان بکری کے خاندان سے ملاتا ہے‘‘۔
اونٹ نے اونچا منہ کر کے کہا: ’’زرافہ مجھے کہتا ہے کہ میری طرح بلند قامت ہونے کی وجہ سے تم بہادر نہیں بن سکتے۔تم مجھے بیمار لگ رہے ہو تمہاری کمر پر بڑا سا پھوڑا ہے پہلے اس کا علاج کرائو جسے تم کو ہان کہتے ہو‘‘۔
بی لومڑی بولی: بس بس سب چپ کرو، زرافے کی باتیں اُسے مغرور ثابت کر تی ہیں۔ مجھے اس کا بندوبست کرنا ہوگا، لومڑی نے کہا۔ اگلے دن لومڑی زرافے کی تلاش میں نکل پڑی اسے اکڑکر چلتے دیکھ کر اس کے سامنے سے گزرتے ہوئے زور سے ہنستی ہوئی ایک طرف چلی گئی زرافہ دیکھتا ہی رہ گیا۔
اگلے دن پھر یہی ہوا لومڑی نے اُسے دیکھا اور مسکراتی ہوئی دوسری طرف مڑ گئی اب زرافہ اور بھی تلملایا۔
دو چار دن چھوڑ کر لومڑی نے پھر یہی حرکت کی جس کی وجہ سے زرافہ آگ بگولہ ہوگیا مگر لومڑی جا چکی تھی۔
اب زرافہ سوچ میں پڑ گیا آخر کیا بات ہے لومڑی مجھے دیکھ کر ہنستی کیوں ہے‘‘؟ سوچ بچا کر تا رہا۔
اگلے دن جب لومڑی آتی نظر آئی تو زرافہ نے آگے بڑھ کر کہا ’’بی لومڑی ،کیا بات ہے تم مجھے دیکھ کر ہنستی کیوں ہو؟
اس پر لومڑی نے کہا:’’ جنگل میں جانورطرح طرح کی باتیں کر رہے تھے کہ ایک لمبا ،بے ڈھنگا، بدصورت ، دراز قد، لمبی سی گردن ، چھوٹا سا منہ، چار ٹیڑھے میڑھے پیر، اتنا بڑا بدن اور چھوٹی سی دم والا جسم پر ڈبے بنے ہوئے ایک جانور ہے۔ میں جب تمہیں دیکھتی ہوں مجھے ہنسی آجاتی ہے مجھے ایسے لگتا ہے کہ وہ ٹھیک کہتے ہیں، جب میں نے گھر بات کی میرے بچے بھی تمہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر اجازت دوتو میں اپنے بچوں کو لے آئوں کہ وہ بھی تمہیں دیکھ کر ہنس لیں؟‘‘
زرافہ کو احساس ہوا کہ بی لومڑی جو کہہ رہی ہے اگر وہ سچ ہے تو مجھے کچھ سوچنا چاہیے ،وہ سوچ میں گم سم تھا کہ لومڑی اپنے بچوں کو لے آئی وہ بھی زرافے کو دیکھ کر ہنسنے لگی۔ زرافہ کا غصے سے برا حال ہوگیا وہ شرمندگی محسوس کر رہا تھا۔ بی لومڑی اُسے جھیل پر لے گئی زرافہ اپنا عکس دیکھ کر شرمندہ ہوگیا اُس نے سوچا میں آج کے بعد کسی کو مذاق نہیں کرو ں گا۔ہم سب جانوروں کو اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے پھر غرور کیسا مذاق کیسا؟۔
دیکھا بچو! ہم سب کو اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے ہمیں کسی کا مذاق نہیں بنانا چاہیے اور نہ ہی اپنے طاقتور ہونے کا ناجائز استعمال کرنا چاہیے۔
ساجد کمبوہ

اپنا تبصرہ بھیجیں