تین سیب

بادشاہ_اور_وزیر

رات ہوئی تو شہر زاد نے داستان پھر سے یوں شروع کی:
اے شاہ عالم پناہ! اس نوجوان نے خلیفہ ہارون الرشید سے عرض کیا کہ یہ عورت میری بیوی تھی اور یہ بزرگ جو قتل کا جرم اپنے سر لینا چاہتا ہے، یہ میری بیوی کا باپ ہے۔ ہم دونوں میاں بیوی گیارہ سال تک ایک دوسرے کے غم گسار رہے۔ اس عرصے میں خدا نے ہمیں تین بچے دئیے۔ ہم دونوںنہایت سلوک سے رہتے تھے مگر ایک مہینہ ہوگیا کہ وہ بیمار ہوئی۔ کسی دم تپ نہ چھوڑتا تھا۔ تھوڑے ہی دنوں میں کمزور و نحیف ہونے لگی۔آخر کافی علاج کے بعدبخار ٹوٹ گیا صرف کمزوری باقی رہ گئی۔ آج کل اس تدبیر میںتھی کہ اچھی تاریخ دیکھ کے غسل صحت ہو جائے۔ اس نے مجھ سے فرمائش کی کہ میرا جی چاہتا ہے کہ کہیں سے سیب ملتا تو سونگھتی ۔ اس کی خوشبو سے روح کھل اٹھتی اور تھوڑا سا کھا بھی لیتی۔ میں نے کہا یہ کون سی بڑی چیز ہے جس کے لیے تم یوں عاجزی سے کہتی ہو۔ اس وقت بازار میں جا کے ڈھونڈا مگر کہیںسیب نہ ملا۔ خالی ہاتھ جو گھر واپس آیا تو بیوی کو بڑی مایوسی ہوئی۔
دوسرے روز میں نے باغوں میں جاکے تلاش کیا۔ وہاں بھی پتا نہ لگا۔ ایک شخص نے کہا کہ اس موسم میں سیب کہاں ہوتے ہیں جو تم تلاش کرتے پھرتے ہو۔ اور اگر تم ضرور ہی سیب حاصل کرنا چاہتے ہو تو بصرے جاﺅ وہاں کے شاہی باغ میں ضرور مل جائیں گے۔
میں خوش خوش گھر آیا اور بیوی کو تسلی دی کہ جی چھوٹا نہ کرو۔ میں ابھی بصرے کی تیاری کرتاہوں اوروہاں جا کر تمہارے لیے سیب لاتا ہوں۔
وہ نہایت خوش ہوئی اور کہاکہ بے شک میں نے تمہیں تکلیف میں ڈالا۔ لیکن اگر مجھے ایک بھی سیب لا دو گے تو میں پھر سے زندہ ہو جاﺅں گی۔ اور تمہارے اس احسان کو ہمیشہ یاد رکھوں گی۔ میں نے جواب دیا کہ یہ کوئی احسان نہیں، بلکہ تمہاری طرف سے مجھ پر فرض ہے کہ تمہاری ہرجائز ضرورت پوری کروں۔
بصرہ یہاں سے پندرہ دن کی راہ ہے۔ تڑکے گجر دم اٹھ کے کمر باندھی اور سفر پر روانہ ہوا، وہاں پہنچاتو خلیفہ کے باغ سے بمشکل تین سیب ہاتھ آئے۔ اسی کو غنیمت سمجھا۔ لے کے الٹے پاﺅں گھر پہنچا۔ بیوی نے سیب دیکھے تو جامے میں پھولی نہ سمائی۔ باغ باغ ہو گئی۔ میرے حق میں دعائیں دینے لگی پھر سیبوں کی خوشبو سونگھی اور انہیں سرہانے رکھ لیا۔
میں رات کو سویا رہا ۔ صبح اٹھ کر وضو کیا نماز پڑھی، قرآن کے ایک سپارے کی تلاوت کی۔ دن چڑھے دکان کو چلا کہ بازار کا وقت ہے۔ کوئی گاہک آئے تو کچھ بیچوں۔ چار پیسے پیدا کروں۔ اچانک سامنے سے ایک لڑکے کے ہاتھ میں سیب دیکھا میں حیران ہوا۔ اس کو پاس بلا کر پوچھا کہ یہ سیب کہاں سے لائے ہو؟ اس نے میرے گھر کا نام لیا۔ یہ سنتے ہی میرے تن بدن میں آگ لگ گئی کہ میں تو اتنی تکلیف اٹھا کر بصرے سے سیب لایا اور بیوی نے اس لڑکے کو دے دیا۔ گھر پہنچا تو دیکھا کہ دو ہی سیب پلنگ پر رکھے ہیں۔تیسرا غائب ہے۔بیوی سے پوچھا کہ تیسرا سیب کہاں گیا؟۔ تو وہ بے چاری گھبرا گئی۔ اس پر دل کا دورہ پڑا اور وہ اسی وقت مر گئی۔ میں نے سوچا کہ لوگ سمجھیں گے کہ میں نے بیوی کو قتل کیا ہے۔ کچھ تدبیر کروں۔ لاش کو میں چھپاﺅں۔ پس میں نے لاش کو صندوق میں ڈال کے قفل لگایا اور دریا میں بہا دیا۔ جب وہاں سے گھر لوٹا تو اپنے بڑے بیٹے کو روتے پایا۔ میں نے پوچھا:
بیٹے ! کیوں روتے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ کل شام کو میں نے اپنی ماں کے پلنگ پر سے ایک سیب اٹھایا تھا کہ کچھ دیر سونگھوں گا، پھر وہیں رکھ دوں گا۔ آج اس کو لے کے نکلا تھاکہ ایک لڑکے نے میرے ہاتھ سے چھین لیا اور بھاگ کھڑا ہوا۔
جوں ہی میں نے یہ بات سنی، پچھاڑ کھا کر زمین پر گر گیا۔ بہت روی، پچھتایا، پریشان ہوا۔ لیکن اب پچھتانے سے کیا حاصل؟ سو ،اے خلیفہ ! میں اپنی بیوی کا قاتل ہوں۔ اس کا خون میری گردن پر ہے لہٰذا قتل کرنا ہے تو مجھے کر کہ قیامت کے روز مجھ سے باز پرس نہ ہو۔
تب خلیفہ نے کہا جو قتل جان بوجھ کرنہ کیا گیا ہو ہ خدا کے نزدیک قابل معافی ہوتا ہے۔ اصل میں قاتل تو نہیں بلکہ وہ لڑکا ہے جو تیری بیوی کی موت کا باعث ہوا۔ پھر خلیفہ جعفر سے مخاطب ہوا:
تجھ کوتین روز کی مہلت دیتا ہوں ۔ اس عرصے میں اس لڑکے کو پیدا کرو ،ورنہ تو مارا جائے گا۔
وزیر بے چارہ حیران تھا۔ خدا خدا کر کے ایک عذاب سے جان چھوٹی تھی کہ دوسرے عذاب نے آن گھیرا۔ بادشاہ سے رخصت ہو کے روتا ہوا اپنے گھر گیا اور سوچا کہ بس تین دن تک میری زندگی ہے، چوتھے روز ضرور مارا جاﺅں گا۔ اس شہر میں ہزاروں لڑکے ہیں۔ اس کم بخت کا پتا کیوں کر چلے گا؟ ،پھر سوچا خدا کی کریمی سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ دو روز تلاش میں گزر گئے۔ مگر لڑکا ہاتھ نہ لگا۔ تیسرے روز سب لوگ وزیر کے گھر جمع ہو کر رونے پیٹنے لگے کہ آج اس کی زندگی کا آخری دن ہے۔ بس چند گھڑیوں کامہمان ہے۔ جعفرعزیزوں، رشتہ داروں اور دوستوں سے مل کر رخصت ہوا کہ خلیفہ اس کا منتظر ہوگا۔ اتنے میں خلیفہ کا ایک سپاہی آن پہنچا کہ آپ کو دیر ہو رہی ہے جلدی تشریف لے چلیے۔ خلیفہ نے جلد آنے کو فرمایا ہے۔ جعفر اس کے ساتھ ہو لیا۔
جب گھر سے باہر نکلاتو سامنے سے ایک درزی کو پانچ چھ سالہ لڑکی، جس سے وزیر بہت پیار کرتا تھا، آتی دکھائی دیا۔ وزیر نے پہرے کے لوگوں سے کہا کہ ذرا مجھ کو اجازت دو کہ میں اس ننھی بچی کو پیار کر لوں۔ زندگی کا آخر ی دن ہے پھر میری اس کی ملاقات کہاں ہوگی۔ یہ کہہ کر اس نے لڑکی کو اٹھالیا۔ اور اسے یوں پیار کرنے لگا جیسے دور سفر پر جاتے وقت کوئی باپ اپنی بیٹی سے کرتا ہے۔ اتفاق سے وزیرنے محسوس کیا کہ بچی نے کوئی گول سی چیز اپنے گریبان میں چھپا رکھی ہے۔ پوچھا:
بیٹی! یہ تمہارے گریبان کے نیچے کیا ہے ؟۔ بچی نے جواب دیا بابا! یہ سیب ہے جس پر ہمارے بادشاہ سلامت کا نام لکھا ہوا ہے۔ میں نے یہ سیب اپنے نوکر سے جس کا نام ریحان ہے، لیا ہے۔
وزیر جعفر یہ قصہ سن کر حیران ہوااور بچی سے سیب لے کر ریحان کو طلب کیا۔ پوچھا تم نے یہ سیب کہاں سے لیا ہے؟۔ اس نے کہا ”خدا اور خدا کا رسول آگاہ ہے کہ نہ بادشاہ کے باغ سے چرایا ہے نہ کسی کے گھر سے پایا ہے۔ کچھ دن ہوئے چند چھوٹے لڑکے کھیل رہے تھے، میں نے ایک کے ہاتھ میں یہ سیب دیکھا تو فوراً اس سے چھین لیا۔ پھر اسے دو ریال میں خلیفہ کی بیگم کے ہاتھ بیچ دیا۔
وزیر جعفر نے اس لڑکے کی بدذاتی پر بہت تعجب کیا اور اس کو خلیفہ کے حضور پیش کیا۔ لڑکے نے جو کچھ وزیر سے کہا تھا وہی خلیفہ کے روبرو بیان کیا۔ اس پر خلیفہ نے جعفر سے کہا اس بد کر دار کے سبب ایک بے گناہ کی جان گئی۔ اس کو ایسی سزا دے کہ دیکھنے والوں کے لیے عبرت ناک ہو۔
وزیر نے عرض کیا حضور بجا فرماتے ہیں۔ اس کا قصور واقعی ناقابل معافی ہے۔ مگر پہلے مجھ سے مصر کے دو وزیروں شمس الدین اور نور الدین کی عجیب وغریب داستان سن لیجیے۔ اگر حضور کی مرضی ہو تو میں اس کوبیان کروں۔ اور اگر یہ داستان سن کر آپ خوش ہوں کہ اس لڑکے کا قصور معاف ہو جائے۔
خلیفہ نے فرمایا اچھا! تو اس داستان کوبیان کر مگر میرا دل گواہی دیتا ہے کہ وہ قصہ اتنا عجیب و غریب نہ ہوگا کہ یہ غلام رہائی پائے۔خیر ! دیکھا جائے گا تو داستان شروع کر۔

اپنا تبصرہ بھیجیں