تولیدی صحت کے مسائل

women health

جنسی ملاپ کے ذریعہ منتقل ہونے والی بیماریاں ( ایس ٹی ڈیز) بشمول ایچ آئی وی ایڈز:
عورت کی جسمانی ساخت کی وجہ سے مرد کے مقابلے میں اس کے لیے یہ خطرہ زیادہ ہوتا ہے کہ وہ ایڈز اور دوسری جنسی بیماریوں کا شکار ہو جائے۔ ایسا اس لیے ہے کہ مرد کا نطفہ عورت کے جسم میں ٹھہر جاتا ہے اور وہ جو جراثیم لے جاتا ہے وہ فرج کی اندرونی سطح کے راستے خون میں شامل ہوجاتے ہیں، اور چونکہ عورت میں انفیکشن کی علامات اکثر ظاہر نہیں ہوتیں، اس لیے امکان ہوتا ہے کہ اس کا علاج ہی نہ ہو سکے۔
درحقیقت یہ ایک سماجی مسئلہ ہے۔ جنسی تعلق کے بارے میں اپنے فیصلوں پر عورت کا کنٹرول کم ہوتا ہے اور اکثر وہ غیر محفوظ ملاپ سے انکار نہیں کرسکتیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہر سال (165 ملین) 16 کروڑ 50 لاکھ عورتیں ایس ٹی ڈیز کا شکار ہوجاتی ہیں۔ صرف 1995ءکے دوران ایچ آئی وی سے متاثر ہونے والی عورتوں کی تعداد 16 لاکھ 50 ہزار ( 1.65 ملین) تھی۔ اگر ایس ٹی ڈیز کا علاج نہ کیا جائے تو یہ معذور کر دینے والے درد، پیٹرو کی شدید سوجن (پی آئی ڈی)، بانجھ پن اور حمل کے دوران مسائل کا باعث بن جاتی ہیں۔ اس کی وجہ سے بچہ دانی کے منہ کا سرطان (کینسر) کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ایچ آئی وی ایڈز تو عورت کی ہلاکت کا باعث بن سکتی ہے۔
بار بار حمل:
دنیا کے کئی علاقوں میں، نوجوان عورتوں کی ایک تہائی سے نصف تعداد تک 20 برس کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ماں بن جاتی ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی نہ کی جائے تو ان عورتوں کی اکثریت کو، دو زچگیوں کے درمیان قوت و توانائی حاصل کرنے کی مہلت نہیں ملتی۔ اس کی وجہ سے عورت کی صحت کمزور ہو جانے اورحمل اور بچوں کی پیدائش میں پیچیدگیاں ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ بار بار بچوں کی پیدائش کا مطلب یہ بھی ہے کہ عورت اپنی زندگی کو کنٹرول کرنے ،تعلیم حاصل کرنے اور اپنی مدد آپ کے لیے کوئی ہنر سیکھنے کی کم اہلیت رکھتی ہے۔
حمل اور بچوں کی پیدائش سے ہونے والی پیچیدگیاں:
گزشتہ 30 برسوں میں ، شیر خوار بچوں کے فوت ہونے کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے، لیکن ان عورتوں کی تعداد میں کمی واقع نہیں ہوئی جوحمل یا زچگی کے دوران مر جاتی ہیں۔ دنیا میں ہر منٹ پر ایک عورت حمل سے تعلق رکھنے والے کسی مسئلے کی وجہ سے ہلاک ہو جاتی ہے۔ ہر منٹ پر 30 عورتیں حمل کی وجہ سے زندگی بھر رہنے والی کسی بیماری یا معذوری میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ غریب ملکوں میں رہنے والی عورتوں کی تقریبا ایک چوتھائی تعداد حمل اور زچگی کی پیچیدگیوں سے شدید طور پر متاثر ہوجائے گی۔
غیر محفوظ اسقاط:
جب ایک عورت غیر محفوظ اسقاط کے ذریعے اپنے حمل کو ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے تو وہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال دیتی ہے۔ اس کے باوجود روزانہ تقریباً 50 ہزار عورتیں اور لڑکیاں غیر محفوظ طریقوں سے اپنے حمل کوختم کرنے کی کوشش کرتی ہیں کیونکہ ان کے پاس محفوظ طریقے سے اسقاط کا کوئی ذریعہ نہیں۔ ان میں سے کئی، آئندہ بچے پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتی ہیں یا مستقل رہنے والے درد، انفیکشن اور صحت کے دیگر مسائل سے دوچار ہو جاتی ہیں۔
عورتوں کا ختنہ:
عورتوں کا ختنہ، جس میں کسی لڑکی کے تمام یا کچھ بیرونی اعضا کاٹ دئیے جاتے ہیں، صحت کے سنگین مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ ان مسائل میں پیٹرو اور پیشاب کے نظام کے انفیکشن ، جنسی اور جذباتی مسائل اور بچوں کی ولادت میں مشکلات شامل ہیں۔ ان مسائل کے باوجود عورتوں کے ختنہ کاعمل وسیع پیمانے پر جاری ہے۔ ہر سال تقریبا 20 لاکھ (2 ملین) لڑکیوں کا ختنہ کر دیا جاتا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر لڑکیاں افریقہ میں رہتی ہیں تا ہم مشرق وسطیٰ اور ایشیا ءمیں بھی یہ واقعات پیش آتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں