تجارت کے فائدے

business-trist
EjazNews

اس میں ذرا بھی شبہ نہیں کہ تجارت سے بڑھ کر کوئی اچھا پیشہ دنیا بھر میں نہیں ہے ۔ جو مادی و روحانی اور دینی و دنیاوی فوائد ایک تاجر کو ہر وقت حاصل ہیں وہ کسی دوسرے پیشے والے کو نصیب نہیں۔ یہ ایک ایسا زرخیز پیشہ ہے کہ دولت وتجارت کامفہوم ایک سمجھا جاتا ہے۔ اہل ملازمت اگرآمدنی بڑھانے کاارادہ کریں توانہیں عموماً ناجائز و سائل سے کام لینا پڑتا ہے۔ لیکن ایک تاجر رات دن اپنے کام اور کام کے ساتھ آمدنی بڑھاتا ہے لیکن نہ اسے خلاف ورزی کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ کوئی مذہبی گناہ اس پر عائد ہوتا ہے تجارت کےذریعہ ایک انسان جس قدر دولت حاصل کرتا ہے وہ کسی اور ذریعہ سے ممکن نہیں ہے۔ متمدن ممالک میں اس کی روشن مثالیں موجود ہیں اورتجارت کی بدولت نہیں معلوم اس وقت یورپ اور امریکہ میں کتنے کروڑ پتی بن گئے ہیں جو چند روز پیشتر اور چند سال قبل لوازم زندگی کےلئے محتاج تھے۔ خود ہمارے ملک میں بھی ہمت افزائی اور تقلید کے لئے ایسے کامیاب تاجروں کی کمی نہیں ہے جن کو تجارت نے قعر پستی سے نکال کر عروج و کمال کی بلندیوں پرپہنچا دیا ہو۔
تجارت کے ذریعہ سے صرف دولت ہی حاصل نہیں ہوتی بلکہ ایک دوسری شے بھی نصیب ہوتی ہے جو کسی طرح دولت سے کم حیثیت نہیں رکھتی اور وہ آزادی ہے۔ کیا آزادی سے بڑھ کر کوئی دولت انسان کےلئے ہو سکتی ہے۔ یہ وہ نعمت ہے جس کے لئے ساری دنیا جدوجہد کر رہی ہے۔ ایک بے زبان طائر سے ایک عقل مجسم انسان تک اس کے لئے کوشاں ہے۔ جو آزادی ایک تاجر کو میسر ہے وہ در حقیقت کسی اور پیشہ کو تو کیا ایک بادشاہ کوبھی میسر نہیں ہے۔ ایک تاجر اپنے ارادے، اپنی خواہشات اور ضمیر کو پامال کرنے اور اپنی زندگی دوسروں کے قبضے میں دینے پر مجبور نہیں ہے وہ اپنی خوشی سے خوش اور اپنے رنج سے رنجیدہ ہوتا ہے۔ جو کچھ کرتا ہے اپنی خواہش، اپنے ارادے اور اپنے ضمیر کے مطابق کرتا ہے۔ اسے دنیا میں بے جا خو شامد اورچاپلوسی کی ضرورت پیش نہیں آتی اور یہ اتنی بڑی نعمت ہے جس کے لئے نہ معلوم کتنے دولت مندوں، بادشاہوں اور امیروں نے اپنی امارت اور سلطنت کو خیر باد کہہ دیا ہے۔ پس جو لوگ آزادی کو اپنا جائز حق سمجھ کر حاصل کرنا چاہتے ہیں انہیں تجارت کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔
تجارت کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ انسان دنیا کے نشیب و فراز سے آگاہ اور زمانہ کے گرم و سرد سے اچھی طرح واقف ہو جاتا ہے چونکہ ایک تاجر کو صبح سے شام تک طرح طرح کے لوگوں اور مختلف الطبائع آدمیوں سے ملنے جلنے اور مخلوط رہنے کا اتفاق ہوتا ہے اس لئے وہ کسی خاص تعلیم و تربیت کے حاصل کئے بغیر علم النفس کا ماہر ہو جاتا ہے۔ دنیا میں تجربہ ایک ایسی بے بہا شے ہے جو کسی قیمت پر بازار میں نہیں ملتی اور جب تک اس کے لئے عمر عزیز کا ایک بڑا حصہ صرف نہ کیا جائے وہ حاصل نہیں ہوتی، پس ایک تاجر کی یہ انتہائی خوش نصیبی ہے کہ چند سال کے عرصہ میں صد ہا سال کاتجربہ حاصل کر لیتا ہے، رنج و مسرت، سود و زیاں ایک نیک وبد کا تجربہ جو ایک تاجر کو ہوتا ہے وہ کسی اور پیشہ والے کو اپنی زندگی میں نہیں ہوسکتا دنیا میں انسان جس قدر تجربہ کار ہوتا ہے اسی قدر وہ افکار و مصائب سے آزاد رہتا ہے اور اپنی زندگی کو مضرت کے تمام پہلوﺅں سے بچا کر کامیاب بنا سکتاہے۔
عہد قدیم کے تاجروں کو یہ فائدہ بھی حاصل تھا کہ وہ اپنی تجارت کےسلسلہ میں مختلف اقوام و اقطاع عالم کی تاریخ و جغرافیہ سے بھی واقفیت حاصل کرتے تھے جس سے وہ بنی نوع کو فائدہ پہنچاتے تھے ممکن ہے کہ معمولی حالت میں ایک تاجر کو سیاحت کا موقع پیش نہ آئے لیکن پھر بھی دنیا کے متعلق اس کی معلومات دیگر اشخاص سے کہیں زیادہ ہوتی ہیں اور یہ معلومات ایک انسان کے لئے کچھ کم مایہ ناز نہیں ہیں۔
ان خوبیوں کے علاوہ تجارت اعلیٰ درجہ کی معلم اخلاق ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ایک تاجر میں جب تک اخلاقی خوبیاں مجتمع نہ ہوں۔ جب تک وہ صادق القول اور دیانت دار و نیک چلن اور کفایت شعار اس وقت تک اس کا کاروبار فروغ و ترقی حاصل نہیں کر سکتا اس لئے وہ ان اخلاق حسنہ کی پابندی پر مجبور ہوتا ہے اور تجارت اس کے دل و دماغ اور عادت و خصائل کی کافی ترقی کراتی ہے۔ یہ آراستگی اخلاق اور تہذیب خیالات ہونا تجارت کے سوا کسی دوسرے پیشہ میں مشکل ہے۔ اگر مذہب و تصوف کے پہلو سے دیکھاجائے تو ایک تاجر میں توکل کی جو شان پائی جاتی ہے وہ کسی دوسرے میں نظر نہیں آتی۔ سخت محنت و مشقت اور صرف زر کے بعد عواقب اور نتائج کو فراخ حوصلگی کے ساتھ خدا پر چھوڑ دینا ایک تاجر کے لئے ہی ممکن ہے۔
ایک تاجر جب صبح کو اٹھ کر دکان کھولتا ہے تو اس کا دل توکل سے معمور ہوتا ہے اور جب وہ اپنا مال و اسباب سے لبریز جہاز سمندر کی متلاطم موجوں کےسپرد کرتا ہے تواس وقت خدا کے سوا اسے کسی پر اعتماد نہیں ہوتا۔
پھرسب سے بڑی بات جو مذہبی نقطہ نظر سے نہایت قیمتی ہے وہ یہ ہے کہ تاجر صحیح اصول تجارت کی پابندی کے ساتھ کم و بیش جو کچھ کماتا ہے وہ سب طیب و حلال ہوتا ہے اور اس پیشے سے بڑھ کر کوئی پیشہ قابل پسندو اختیار نہیں ہو سکتا ہے۔ جس میں عدم جواز کا شائبہ نہ ہو اور جس میں کم ازکم اور زیادہ سے زیادہ جو کچھ حاصل ہو وہ سب مال پاک اور رزق حلال ہو۔
تجارت کا فائدہ صرف تاجر ہی تک محدود نہیں رہتا بلکہ دیگر بنی نوع انسان تک متجاوز ہوتا ہے۔ چنانچہ کسی ملک کی صنعت و حرفت کا فروغ اس کے تاجروں کےذریعہ ہوتا ہے۔ تجارت حرفتوں کو جگمگاتی ہے اور محنت پسند اہل حرفہ کی حوصلہ افزائی کرتی ہے جس ملک میں تجارت کمزور ہوتی ہے اس کی حرفتیں رفتہ رفتہ معدوم ہو جاتی ہیں۔ اہل حرفہ کا کام اس قدر ہے کہ وہ اپنے گھر میں بیٹھ کرصبح سے شام تک محنت کریں، لیکن ان کی محنت کا معاوضہ اور ان کے ہنر کو بازار میں نمایاں کرنا تاجر کا فرض ہے۔ پس اہل تجارت اس فرض کو جس قدر وسعت اور خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دیں گے اس حد تک ان کے ملک کی حرفتوں میں اضافہ اورترقی ہوگی۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ ملک کا ایک بڑا طبقہ کاریگروں اور ہنر مندوں کاصرف تاجروں کی تجارت ہی پر جس قدر فخر کرے بجا ہے۔ مکانوں اور ایوانوں کی آرائش مجازی، بو قلموں، پوشاکیں، لوازم زندگی کی افراط اور تمام سامان راحت وانبساط تجارت ہی کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ ہم اپنی شائستگی معاشرت کی آسانی اور اسباب تنعم کی کثرت پر ہمیشہ ارباب تجارت کے منت پذیر ہیں۔ اگر تجارتوں کے سلسلے بند ہو جائیں تو دنیا کا تمدن صدیوں پیچھے ہٹ جائے۔ اس بناء پر جن لوگوں نے تجارت کا پیشہ اختیار کیا ہے وہ دنیا کے تمدن و شائستگی کے بہت بڑے معاون ہیں اور اپنی ذات منفعت کے ساتھ بنی نوع کو بھی بہت بڑا فائدہ پہنچا رہے ہیں۔
ایک اورخاص فائدہ بھی تجارت سے بنی نوع کوپہنچتا ہے اور وہ تجارت کے سوا کسی دوسرے پیشہ سے ممکن نہیں ۔ یعنی ایک تاجر اپنی ذات کے علاوہ اپنے کاروبار کی بدولت اپنے بہت سے ہم وطنوں اور ہم قوموں کوبھی فکر معاش سے آزاد کر دیتا ہے۔ جب ایک کوٹھی قائم ہوتی ہے، کوئی کارخانہ کھلتا ہے یا ایک کاروبار جاری ہوتا ہے تو لازمی طورپر اس کے مالک کو کارکنوں کی ضرورت پڑتی ہے اور اس طرح اہل وطن کی ایک بڑی تعداد کے لئے معاش کا سلسلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ چنانچہ جن شہروں میں کثرت سے کارخانے قائم ہیں وہاں کی آبادی ہزاروں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں مختلف خدمات پر مامور ہیں اور فکر بے کاری سے آزاد ہیں۔ اس نقطہ خیال سے ایک تاجر کی کاروباری زندگی نہایت مفید اور قابل تقلید ہے۔ مختصر یہ ہے کہ تجارت بہت فوائد رکھتی ہے اور وہ قومیں نہایت مبارک ہیں جو تجارت کی ضرورت اور اہمیت سے واقف ہو گئی ہیں اورشب و روز اس کی وسعت اور ترقی میں سرگرم ہیں۔
غرض تمدنی، اقتصادی، معاشی اور سیاسی ترقی کا راز ساری تجارت ہی میں مضمر ہے جس کو اس سے دلچسپی ہے وہ ہر حیثیت سے خوش و خرم ہے اور جس کواس کا لگاﺅنہیں وہ اوروں کے دست نگر ہیں۔ تجارت کرنے والے غیر تاجر کے تہذیب وتمدن، معیشت ، سیاست، مذہب پر بھی قابض اور مسلط ہو جاتے ہیں اوران کو اپنا غلام بنا لیتے ہیں ۔جو قوم تاجر نہیں وہ مردہ سمجھی جاتی ہے بلکہ مردہ ہی ہے جو قوم تاجر ہے وہ زندوں میں شمار ہوتی ہے گویا موت و یاتاب تجارت پر موقوف ہے۔
اسلام نے اسی لئے بار بار تجارت کی رغبت دلائی ہے اس کے فضائل و برکات اور دینی و دنیوی فوائد سے آگاہ کیا ہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجارت کرنے والے اور ایک شہر سے دوسرے شہر تک مال پہنچانے والے کو روزی دی جاتی ہے اور مال روکنے والا خدا کی مہربانیوں سے دور کر دیا گیا ہے۔ (ابن ماجہ)
سچی تجارت کرنے والا بڑی خوبیوں کا مالک ہے وہ رسولوں، نبیوں اور نیک لوگوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔

احیاءالعلوم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک بہادر صحابی کو دیکھاکہ صبح صبح اپنے کاروبار میں مصروف ہوگیا۔ لوگوں نے کہا کہ اس کی جوانی اللہ کے راستہ میں صرف ہوتی تو بہت اچھا تھا۔ آپ نے فرمایا یہ نہ کہو اس لئے کہ اگر یہ کام اپنے نفس کے لئے اور دوسروں سے بے نیاز ہونے کے لئے کرتا ہے تو یہ بھی ایک قسم کا جہاد ہے۔
اور اگر با بچوں کے لئے کرتا ہے تب بھی راہ خدا میں ہے۔ حضرت امام احمد بن حنبلؒ سے لوگوں نے دریافت کیا کہ آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو اپنے گھر یا مسجد میں بیٹھا رہے اوریہ کہے کہ میں کچھ نہ کروں گا جب تک کہ میرے پاس روزی خود بخود نہ آجائے۔ تو آپ نےی ہ جواب دیا کہ ایسا شخص نادان اور احمق ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث نہیں سنی ہے کہ : ”اللہ تعالیٰ نے میری مروزی نیزے کے سایہ میں رکھی ہے۔ “(احمد)
نیز آپ نے پرندوں کے متعلق فرمایا: پرندے صبح بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو آسودہ ہو کر آتے ہیں۔ (ترمذی)
یعنی وہ دن بھر روزی تلاش کر کے کھا پی کر واپس آتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں