بے وقوف گدھا

donkey

پیارے بچو! یہ کہانی ایک کہاوت پر مبنی ہے بہت سال پہلے کی بات ہے کہ ایک شہر میں دھوبی کے پاس اایک بوڑھا گدھا تھا، دھوبی سارا دن گدھے سے کام لیتا اور شام کو اسے کُھلا چھوڑ دیتا، گدھا ادھر ادھر گری ہوئی چیزیں کھا کر پیٹ بھر لیتا۔ دھوبی اسے اچھا چارہ نہیں ڈالتا تھا ،اس لیے گدھا کافی کمزور ہو گیا۔ ایک شام وہ بہت بھوکا تھا وہ ادھر ادھر گرے چھلکے وغیرہ کھاتے کھاتے کھیتوں کی طرف نکل گیا، وہاں اسے گیدڑ نظر آیا گیدڑ بھی بھوکا تھا۔ دونوں نے خوراک کی تلاش شروع کر دی۔ وہ ایک کھیت میں گئے وہاں ککڑیاں بھی موجود تھیں ۔ وہ بہت خوش ہوئے ،ککڑیاں دونوں کو بہت پسند آئیں۔ دونوں نے انہیں خوب جی بھر کر کھایا۔ دونوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ہر روز اس کھیت میں آئیں گے اور خوب ککڑیاں کھائیں گے۔ گدھے اور گیدڑ کے درمیان دوستی ہوگئی۔ وہ ہررات ککڑیوں کے کھیت میں جاتے اور مزے سے انہیں کھاتے۔ گدھے کی صحت اچھی ہوگئی اور وہ موٹا تازہ ہوگیا۔
ایسا ہی چل رہا تھا کہ ایک رات وہ ککڑیوں کے کھیت میں آئے، انہوں نے خوب ککڑیاں کھائیں۔ اس دن گدھا کچھ زیادہ ہی خوش تھا اس نے خوشی میں ادھر ادھر بھاگنا شرو ع کر دیا۔ گیدڑ نے اسے سمجھایا کہ اس طرح بھاگنے سے کھیت کے مالک کو پتہ چل جائے گا ۔ گدھے نے اپنے دوست کی بات غور سے نہ سنی۔ وہ اس سے کہنے لگا’’ میں آج بہت خوش ہوں مجھے سمجھ نہیں آتی کہ میں کیا کروں …؟ میرا دل چاہتا ہے کہ میں اپنا پسندیدہ گانا گائوں…وہ بھی اونچی آواز میں …‘‘ گیدڑ کچھ سمجھدار تھا کہتا ہے’’کیوں بے وقوفی کی باتیں کرتے ہو؟ تمہاری آواز کھیت کے مالک تک پہنچ گئی تو بھلا وہ ہمیں ایسے چھوڑ دے گا۔ وہ ہماری پٹائی کرے گا اور کھیت سے نکال دے گا۔ آج میرا دل چاہتا ہے کہ میں گانا گائوں۔ تم مجھے منع مت کرو…
’’گدھے نے کہا ’’میرے بھائی، تمہاری آواز ایسی اچھی نہیں کہ تم اچھا گانا گا سکو، بس رہنے دو …؟؟ ‘‘ گیدڑ نے اسے گانے سے روکنے کے لیے کہا ،گدھے نے سوچا کہ گیدڑ کی اپنی آواز کون سی اچھی ہے۔ وہ اس کی آواز سے حسد کرتا ہے وہ گانے لگا تو گیدڑ نے پھر اسے منع کیا مگر گدھے نے اپنا گانا شروع کر دیا، ’’ڈھیں ۔ ن۔ ن۔ڈھی۔ یں۔یں، چوں ۔ ن۔ ن۔ جونہی گدھے نے اپنا نغمہ شروع کر دیا ۔ گیدڑ فوراً کھیت سے باہر کی طرف بھاگا۔ جونہی گدھے کی آواز، کھیت کے مالک کے کان میں پڑی۔ اس نے ایک موٹی لاٹھی ہاتھ میں لی اور کھیت کی طرف بھاگا۔ اس نے گدھے کی وہ ٹھکائی کی کہ بیچارا گدھا زمین پر گر پڑا ،کسان نے گدھے کی گردن کے ساتھ ایک پتھر باندھ کر اُسے چھوڑ دیا۔ گدھا آہستہ آہستہ لنگڑاتا ہوا کھیت سے باہر آیا۔ وہ ایک قدم اٹھاتا تو اس کے گلے میں بندھا پتھر اس کی ٹانگوں سے ٹکراتا۔ اسے سخت تکلیف ہو رہی تھی، کھیت کے باہر اُس کا دوست کھڑا تھا۔ اس نے گدھے کے گلے میں لٹکے پتھر کو دیکھا اور کہنے لگا : ’’مبارک ہو، میرے دوست تمہیں گانے پر اچھا انعام ملا ہے…‘‘
تو پیارے بچو! یاد رکھو جب خوش ہوتے ہیں تو خوشی میں اس قدر اوتاولے نہیں ہو جاتے کہ ہو ش و حواس کھو بیٹھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں