بے وقوف کون؟

employee

پیارے بچو!ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک امیر آدمی جس کے پاس پہلے سے کئی نوکر چاکر تھے۔ ایک بے روزگار شخص نوکری م انگنے کیلئے آیا اور کہا کہ جناب میں بے حد غریب ہوں،میرے مسائل بہت زیادہ ہیں، لیکن میں محنتی بہت ہوں آپ جو کام کہیں گے میں کروں گا اور آپ کے یہاں نوکری چاہتا ہوں۔ پہلے تو رئیس آدمی نے نوکری دینے سے انکار کیا مگر اس آدمی کے بہت زیادہ گڑ گڑانے پر ترس آگیا اور اسے نوکری دے ڈالی۔۔
کچھ عرصہ گزر گیا ، اب سیٹھ صاحب کو اس شخص کی بالکل ضرورت نہ تھی۔ یہ کہہ کر کہ کل سے کام پر نہ آنا نکالنا نہیں چاہتےتھے کیونکہ وہ پھر واسطے دینا شروع کر دیتا ۔
اب سیٹھ صاحب نے ایک ترکیب سوچی۔ سیٹھ صاحب نے اسی آدمی کو بلایا اور کہا’’ یہ لوچھڑی اور جائو تمہیں جو سب سے زیادہ جو بے وقوف شخص ملے، اسے یہ چھڑی دے دینا۔ ‘‘
نوکر مالک سے وہ چھڑی لے کر بے وقوف کی تلاش میں نکل پڑا۔ اس نے بہت تلاش کیا کوئی بے وقوف مل جائے مگر اسے جو بے وقوف ملے وہ اس کے لیے ٹھیک نہیں تھے۔ کیوں کہ اسے تو بہت بڑے بے وقوف کی تلاش تھی۔
کئی روزگزر جانے کے بعد اسے ایک شخص ملا۔ اس نے بتایا کہ تمہارے مالک بہت سخت بیمار ہیں اور چل پھر بھی نہیں سکتے۔ یہ سن کر نوکر مالک کے گھر چل دیا تاکہ خبر گیری کر سکے۔
نوکر مالک کے پاس پہنچا اور خیریت پوچھی۔ مالک نے کہا’’اب میں زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ اب میں ایسی جگہ جارہا ہوں جہاں سے کوئی واپس نہیں آیا۔‘‘
نوکر نے پوچھا ’’حضور ! جہا ں آپ جارہے ہیں، کیا وہاں بھی ایسے شان دار گھر اور نوکر چارکر موجود ہیں ؟ وہاں کے لیے آپ اپنے ساتھ کیا لے جارہے ہیں؟
سیٹھ یہ سن کر بہت شرمندہ ہوا اور بولا’’نہیں، میں نے وہاں کے لیے کچھ نہیں بنایا‘‘۔
نوکر حیرت سے بولا ’’جہاں آپ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جارہے ہیں وہاں کے لیے کچھ نہیں بنایا اور یہاں کے لیے آپ نے یہ عالیٰ شان عمارت بنوائی، باغ لگائے اور ۔۔۔۔‘‘
یہ کہتے ہوئے نوکر نے وہ چھڑی مالک کو دے دی اور کہا ’’اس چھڑی کے آپ ہی سب سے زیادہ حقدار ہیں،حق دار ہیں۔‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں