بے ایمان دکاندار

shop kiper

پیارے بچو ! یہ بہت وقت پہلے کی بات ہے ایک کسان گھر سے مکھن بنا کرشہر میں لا کر بیچ دیتا تھا ۔ وہ جس دکاندار کو یہ مکھن بیچا کرتا تھا اس سے اپنی ضرورت کی اشیاءلے لیتاتھا یعنی وہ ادلا بدلا کیا کرتا تھا۔ کسان ایماندار تھا۔ ایک دن کسان کی بیوی نے جو مکھن تیار کر کے دیا تھا کسان اسے لے کر فروخت کرنے کے لیے گاﺅں سے شہر کی طرف روانہ ہوا، مکھن گول پیڑوں کی طرز پر بنا ہوا تھا۔ہر پیڑے کاوزن ایک کلو تھا۔کسان نے حسب معمول مکھن دکاندار کوفروخت کیا اور اس کے بدلے میں چائے کی پتی ، چینی تیل اور دوسری چیزیں خرید کر واپس آگیا۔
کسان کے جانے کے بعد دکاندار نے مکھن کو سنبھال کر رکھنا شروع کیا۔ اسے خیال گزرا کہ کیوں نہ ایک پیڑے کا وزن کیا جائے ، وزن کرنے پر پیڑا نو سو گرام کا نکلا حیرت اور صدمے سے دکاندار نے ایک ایک کر کے سارے پیڑے تول ڈالے مگر کسان کے لائے ہوئے سب پیڑوں کا وزن ایک جیسا اور نو سو گرام تھا۔دکاندار کو کسان پر بہت غصہ آیا۔ اس نے کہا اس کو دوبارہ آنے دو اس کے بعد میں اس کی خبر لوںگا۔
بچو! اگلے ہفتے اپنے معمول میں مکھن لے کر جیسے دکان کے تھڑے پر چڑھا ،دکاندار تو جیسے غصے سے چلایا ،دفعہ ہو جا بے ایمان ،دھوکے باز شخص ،کاروبار کرنا تیرا دستور نہیں ،نو سو گرام کو ایک کلو گرام کہہ کر بیچتا ہے، میں تیری شکل دیکھنا گوارا نہیں کرتا، دکان کے گرد بہت سے لوگ جمع ہو گئے اور دیکھنے لگے آخر معاملہ کیا ہے۔ کسان افسردہ ہو گیا۔ پریشان حال تھا کسان کی بہت بے عزتی ہو رہی تھی۔
بچو! کسان نے اظہار ہمدردی میں دکاندار سے کہا،میرے بھائی مجھ سے بدزن نہ ہو،ہم غریب لوگ ہیں، ہمارے پاس باٹ (تولنے میں وزن کرنے کیلئے رکھے جانے والے گرام)خریدنے کے لیے پیسے نہیں، اتنی ہماری استطاعت کہاں۔بھائی ایک کلو چینی جو آپ سے لے کر جاتا ہوں اسے ترازو کے پلڑے میں رکھ کر دوسرے پلڑے میں مکھن تولتا ہوں۔ یہ وزن اسی چینی کے مطابق ہے۔
تو بچو!سب لوگوں نے دکاندار کو برا بھلا کہا اور کسان کو اللہ نے عزت دی، اسی لیے کہتے ہیں برائی برائی ہوئی ہے وہ کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی طرح نقصان ضرور پہنچاتی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں