بیوی کے حقوق

slamic_wife
EjazNews

امام الانبیاء، سرکارِ دوعالم، شہنشاہِ کون و مکاں، سیّد المرسلین، خاتم النّبیین، رحمتِ دوعالم، حضور نبی کریمﷺ ایک سفر سے تشریف لارہے ہیں۔ آپؐ کے ساتھ ازواجِ مطہراتؓ بھی اونٹوں پر سوار ہیں۔ سہ پہر کی ساعتیں اپنے اختتام پر ہیں اور ابھی طویل سفر باقی ہے۔ دن بھر سخت ترین کرنوں سے تپتی دھوپ بکھیرنے کے بعد سورج مغرب کی جانب گام زن ہے۔ شام کے سائے صحرا کے خاموش ماحول کے حسن کو دوبالا کررہے ہیں۔ صحرائی پرندے بھی اپنے مسکن کی جانب محوِپرواز ہیں۔ ابھی مدینہ دور ہے۔ طویل سفر اور آنے والی تاریک رات کے پیشِ نظر حدی خوانوں نے اونٹوں کی رفتار بڑھادی ہے۔ حضور اکرمﷺ کو جب اونٹوں کی تیز رفتاری کا علم ہوا، تو آپؐ نے حدی خوانوں سے فرمایا ’’اونٹوں کو آرام سے چلائو، ان پر آئینے و آبگینے ہیں۔‘‘ اپنی ازواجِ مطہراتؓ کے بارے میں اللہ کے رسولؐ کے یہ زرّیں القاب کرئہ ارض کی تمام پاکیزہ بیویوں کے ماتھے کا خوب صورت جھومر بن کر جہاں حدیث کی کتابوں میں محفوظ ہوگئے، وہیں رہتی دنیا تک کے لیے تمام شوہروں کو بیویوں کی عفّت و عِصمت اور نزاکت و حفاظت کا لافانی پیغام بھی دے گئے۔ صرف یہی نہیں، نبی مکرمؐ نے نیک سیرت بیویوں کو دنیا کی سب سے قیمتی متاع اور سب سے بڑا خزانہ قرار دیتے ہوئے میاں، بیوی کے رشتے کو دنیا کا سب سے حسین ترین رشتہ بھی قرار دیا۔ بلاشبہ، انسانی رشتوں میں جو رشتہ سب سے پہلے وجود میں آیا، وہ شوہر اور بیوی ہی کا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کی، تو ان کی رفاقت کے لیے امّاں حوّا کو پیدا کیا۔ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ’’اللہ نے تمہیں ایک انسان (حضرت آدمؑ) سے پیدا کیا اور ان سے ان کی بیوی کو بنایا، پھر ان دونوں سے کثرت سے مرد و عورت پیدا کرکے روئے زمین پر پھیلا دیئے۔‘‘ (سورۃالنساء)’’ سورۃ الحجرات‘‘ میں اللہ تعالیٰ، عورتوں اور مَردوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ ’’اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا، اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے، تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرو۔ اللہ کے نزدیک تم میں سے زیادہ عزت والا وہ ہے، جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے مرد کو عورت سے زیادہ طاقت و قوّت عطا فرمائی، تو عورت کو پھول کی طرح نازک، ریشم کی طرح نرم، رنگوں کی طرح خوش نما، حسّاس دل کے ساتھ لطیف و حسین جذبات سے لب ریز، دکھ سکھ کی ساتھی، شریکِ سفر اور پیار و محبت کا خزینہ بنایا۔ ایثار و قربانی، عفوودرگزر، صبر و شکر، مہرووفا، خدمت و اطاعت، فہم و فراست اور نزاکت و نفاست کی دولت سے مالا مال کیا۔ شرم و حیا کو اس کا زیور قرار دیا۔ تعظیم و تکریم، عفّت وحرمت کے اعلیٰ مقام پر فائز کیا۔ بیوی کو شوہر کے گھر کی ملکہ، اس کی عزّت کا نگہبان بنایا، تو شوہر کو اس کا محافظ و سرپرست مقرر کیا۔ سورۃ البقرہ میں اللہ نے شوہر اور بیوی کے تعلق کو نہایت خوب صورت الفاظ میں یوں بیان کیا ہے۔ ’’عورتیں تمہارا لباس ہیں اور تم عورتوں کا لباس ہو۔‘‘ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’تم میں سے بہترین وہ ہیں، جو اپنی بیویوں کے ساتھ اچھا برتائو کرتے ہیں۔ ان کے رہن سہن، کھانے پینے، صحت و آرام اور دیگر ضروریاتِ زندگی کا خیال رکھتے ہیں۔ ان کے ساتھ عفوودرگزر، پیار و محبت اور عزّت کے ساتھ پیش آتے ہیں۔‘‘حضور اکرمﷺ کی ازواج مطہراتؓ میں عرب کے نام وَر رئیسوں، سرداروں اور مشہور باعزت گھرانوں کی نورِنظر اور لختِ جگر شامل تھیں۔ شہزادیوں کی طرح زندگی بسر کرنے والی ان پاک باز خواتین کے قرب و جوار سے بھی کبھی غربت کے اندھیروں کا گزر نہ ہوا تھا۔ یہ مختلف رنگ و نسل اور قوموں سے تعلق رکھتی تھیں، جن کے رسم و رواج، رہن سہن، عادات و اطوار اور مزاج بھی ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ کوئی محبت و شفقت سے لبریز، تو کوئی ایثار و قربانی کے جذبے سے سرشار۔ کوئی سراپا عفوودرگزر، تو کوئی نہایت حلیم الطبع۔ کوئی علم و دانش کی پیکر، تو کوئی حاضر جوابی میں یکتا۔ کوئی ناداروں، غریبوں اور مسکینوں کی ملجاء، تو کوئی حکمت و معاملہ فہمی اور متانت و ذہانت میں اپنا ثانی نہیں رکھتی تھیں۔ حضور اکرمﷺ اپنی ازواجِ مطہراتؓ کے ہر رنگ سے بہ خوبی واقف تھے۔ایک مرتبہ آپؐ نے حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا۔ ’’اے عویش! (آپؐ حضرت عائشہؓ کو پیار سے عویش بھی کہا کرتے تھے) جب تم ناراض ہوتی ہو اور جب خوش ہوتی ہو، تو میں پہچان لیتا ہوں۔‘‘ حضرت عائشہؓ بڑی حیران ہوئیں اور فرمایا۔ ’’یارسول اللہؐ آپ کیسے پہچانتے ہیں؟‘‘ آپؐ نے فرمایا۔ ’’جب تم خوش ہوتی ہو، تو لاورب محمد ؐ (یعنی محمد ؐ کے رب کی قسم) کہہ کر قسم کھاتی ہو اور جب ناراض ہوتی ہو، تو لاورب ابراہیم ؑ (یعنی ابراہیم ؑ کے رب کی قسم) کہہ کر قسم کھاتی ہو۔‘‘ حضرت عائشہؓ نے مسکراتے ہوئے عرض کیا۔ ’’یارسول اللہؐ! بے شک آپؐ نے صحیح پہچانا۔‘‘
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت 9؍ازواجؓ حیات تھیں۔ آپؐ تمام کے ساتھ برابری کی سطح پر سلوک روا رکھتے تھے۔ سب کے حجرے علیٰحدہ تھے، ازواجؓ کے پاس جانے کے دن مقرر تھے، جن پر سختی سے عمل کرتے۔ سفر یا غزوات میں جانے کے لیے قرعہ فرماتے اور جن کا نام آتا، انہیں ساتھ لے جاتے۔ تقاضائے بشریٰ کے پیشِ نظر کبھی ان میں آپس میں معمولی ناراضی بھی ہوجاتی، لیکن سرکارِ دوعالمؐ نہایت حکمت، بردباری، عفوودرگزر سے کام لیتے ہوئے ان کی ناراضیوں اور تلخیوں کو محبت و پیار میں تبدیل کردیا کرتے اور یوں آپ کا یہ مدبّرانہ حسنِ سلوک ان کی اطاعت و فرماں برداری اور محبت و پیار میں مزید اضافے کا باعث بنتا۔ آپؐ نے ازواج مطہراتؓ کے درمیان عدل و انصاف کی وہ اعلیٰ مثال قائم کی، جس کی وجہ سے ان میں کبھی کسی قسم کے احساسِ محرومی کا شائبہ تک نہ ہوا۔ بیویوں کے ساتھ آقائے دوجہاںؐ کا یہ شان دار، منصفانہ طرزِتعلق اور حسنِ سلوک رہتی دنیا تک شوہروں کے لیے درس ِہدایت ہے۔ حالاں کہ یہ وہ زمانہ تھا کہ جب پوری دنیا اور خاص طور پر عرب معاشرے میں عورت کو گھر کی باندی، لونڈی، بچّوں کی خادمہ اور نوکرانی سمجھا جاتا تھا کہ جس کی نہ کوئی عزت تھی اور نہ احترام۔ایسے میں اسلام نے بیوی کو عزت و احترام کا خاص مقام عطا کرکے ہر لحاظ سے اس کے حقوق مقرر فرما دیئے، تاکہ اس کی کسی قسم کی حق تلفی نہ ہو۔ چوں کہ عورت پیدائشی طور پر صنف نازک ہے، لہٰذا شریعت اسلامی نے مرد کو پابند کیا کہ عمدہ اخلاق کے ساتھ اس کی دل جوئی کرتے ہوئے اس کے تمام حقوق کی احسن طریقے سے ادائیگی کرے۔ شریعتِ اسلام کے مطابق، بیویوں کے حقوق میں سب سے پہلا حق، حقِ مہر ہے۔ جو نکاح کے موقعے پر شوہر کی طرف سے حقوقِ زوجیت کی بناء پر مقرر کیا جاتا ہے۔ مہر، نکاح کی لازمی شرائط میں سے ایک ہے۔
حقِ کفالت:
بیوی کے حقوق میں دوسرا اہم حق یہ ہے کہ شوہر اس کی کفالت کرے۔ یعنی بیوی کے تمام ضروری اخراجات مثلاً غذا، لباس، رہایش وغیرہ کو اپنی استطاعت کے مطابق پورا کرنا شوہر کے فرائض میں شامل ہے۔ شریعت میں بیوی کے ان اخراجات کو’’نان نفقہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ سورۃ البقرہ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ ’’خوش حال آدمی اپنی استطاعت کے مطابق ،اور غریب آدمی اپنی توفیق کے مطابق معروف طریقے سے نفقہ دے۔‘‘ حضرت حکیم بن معاویہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضور اکرمؐ سے دریافت کیا کہ بیوی کا خاوند پر کیا حق ہے؟ آپؐ نے فرمایا ’’جیسا خود کھائے، ویسا اسے کھلائے۔ جیسا خود پہنے، ویسا اسے پہنائے۔ نہ اسے برابھلا کہے اور نہ اس سے جدا ہو۔‘‘ حجۃ الوداع کے موقعے پر حضورؐ نے عورتوں کے بارے میں نصیحتیں فرماتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ’’ تم پر تمہاری بیویوں کا حق ہے کہ تم انہیں اچھا کھلائو اور اچھا پہنائو۔‘‘ ایک حدیثِ مبارکہ میں آپؐ نے فرمایا ’’جو شخص اپنی بیوی کے نفقہ میں فراخی کرتا ہے، یعنی اس کے اخراجات فراخ دلی اور خوشی سے اٹھاتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے روزغنی کردے گا اور بہشت میں وہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ ؑ کی رفاقت میں ہوگا۔‘‘حضرت امام غزالی ؒ ’’احیاء العلوم‘‘ میں فرماتے ہیں’’بیوی، بچّوں کی فکر کرنا اور ان کے آرام و راحت کے لیے جدوجہد کرنا، راہِ خدا میں جہاد کے برابر ہے۔ حلال رزق کے لیے جدوجہد کرنا اور دین کی طرف سے ان کی رہنمائی کرنا، ہر شوہر پر فرض ہے۔‘‘حضرت سعد بن ابی وقاصؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمؐ نے فرمایا ’’تم اللہ کی خوش نودی حاصل کرنے کے لیے جو کچھ بھی خرچ کرو گے، اس کا تمہیں ثواب دیا جائے گا، یہاں تک کہ جو لقمہ تم اپنی بیوی کے منہ میں دو گے، اس کا بھی تمہیں ثواب ملے گا۔‘‘حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا ’’ایک دینار وہ ہے، جسے تم اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہو، ایک دینار وہ ہے، جسے تم غلام پر خرچ کرتے ہو، ایک دینا روہ ہے، جسے تم مسکین پر خرچ کرتے ہو اور ان سب میں سے زیادہ اجر اس دینار پر ملے گا، جسے تم اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتے ہو۔ (صحیح مسلم)۔ شریعت نے عورت کو اس بات کی اجازت دی ہے کہ وہ اپنی جائز ضروریات کو پورا کرنے کے لیے شوہر کی غیر موجودگی میں بہ قدرِ ضرورت اس کے مال میں سے لے سکتی ہے۔ حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ ہند (حضرت ابوسفیانؓ کی بیوی) رسول اللہؐ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا ’’یارسول اللہؐ! ابو سفیان کنجوس آدمی ہیں۔ اگر میں ان کے مال میں سے کچھ ان کی اجازت کے بغیر ان کے بچّوں پر صَرف کرلوں، تو کیا مجھے گناہ ملے گا؟‘‘ حضورؐ نے فرمایا ’’تجھے کوئی گناہ نہیں ہوگا بہ شرط یہ کہ تو ان پر معروف طریقے کے مطابق صَرف کرے۔‘‘ (صحیح مسلم)
شریعتِ اسلامی کی رو سے اہل و عیال کے نان نفقہ اور تمام اخراجات کی ذمّے داری مرد کی ہے۔ اب یہاں یہ بات نہایت اہم ہے کہ وہ خواتین، جو ملازمت پیشہ ہیں اور گھریلو اخراجات میں اپنے شوہر کی مدد کررہی ہیں، وہ اس بات کی حق دار ہیں کہ شوہر بھی گھریلو معاملات میں ان کی برابر مدد کریں؟ ہمارے معاشرے کا یہ المیہ ہے کہ ملازمت پیشہ خواتین، اس تعفّن زدہ معاشرے میں صبرآزما حالات کے درمیان اپنی ملازمت کے بعد جب شام کو تھکی ہاری گھر واپس آتی ہیں، تو کھانا پکانے سے لے کر گھر، بچّوں اور شوہر کی تمام تر ذمّے داریاں ان ہی کے ناتواں کندھوں پر ہوتی ہیں، یہاں تک کہ شوہر کے کپڑے دھونے سے لے کر بوٹ پالش،اور پھر بچّوں کا ناشتا، تیاری، انہیں اسکول بھیجنا بھی ملازمت پیشہ بیوی اپنے فرائضِ منصبی میں شامل سمجھ کر ادا کرتی ہے،جب کہ شوہرِنامدارآفس سے آکر ٹی وی دیکھنے، اخبار پڑھنے، فیس بک یا ٹیوٹرپر مصروف رہنے یا پھر دوستوں کے ساتھ گپ شپ میں وقت گزارتے ہیں۔ یقیناًیہ انتہائی زیادتی کا رویّہ ہے۔ اگر بیوی، معاشی طور پر شوہر کی مدد کررہی ہے، تو پھر ایک اچھے اور نیک شوہر کا فرض ہے کہ وہ تمام خانگی اور گھریلو معاملات میں بیوی کی مکمل مدد کرے۔ اس طرح بیوی کے دل میں شوہرکی عزت و احترام میں اضافہ ہوگا، جو آپس میں محبت و پیار میں اضافے کا باعث بنے گااور یوں دونوں کے باہمی تعاون سے گھریلو ماحول پرامن اور پرسکون ہوگا۔
حسنِ سلوک:
ایک روز ،حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے۔ دیکھا کہ باہر چند حبشی نیزہ بازی کا کھیل دکھا رہے ہیں۔ آپؐ نے امّ المومنین سیّدنا عائشہ صدیقہؓ سے پوچھا۔ ’’عائشہؓ! کیا کھیل دیکھو گی؟‘‘ حضرت عائشہؓ ابھی کم عمر ہی تو تھیں، بڑی چاہت سے فرمایا۔ ’’جی ہاں، یارسول اللہؐ! ضرور دیکھوں گی۔‘‘ اور پھر سرکارِ دوعالم، شہنشاہِ دوجہاں، اللہ کے محبوب نبیؐ، امام الانبیاء اپنی اہلیہ محترمہ کے شوق کی تکمیل کے لیے چادر کا پردہ کرکے حجرے کے دروازے پر کھڑے ہوگئے اور حضرت عائشہؓ آپؐ کے کاندھے مبارک پر اپنی ٹھوڑی رکھ کر دیر تک یہ کھیل دیکھتی رہیں۔ یہاں تک کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھک گئے۔ آپؐ نے دریافت کیا۔ ’’عائشہؓ! اور دیکھو گی یا بس…؟‘‘ حضرت عائشہؓ نے فرمایا۔ ’’یارسول اللہؐ ابھی اور دیکھوں گی۔‘‘ جب تک حضرت عائشہؓ کھیل دیکھتی رہیں، آپؐ اسی حالت میں کھڑے رہے۔ ایک مرتبہ حضرت عائشہؓ نے فرمایا۔ ’’یارسول اللہؐ! آیئے دوڑنے کا مقابلہ کرتے ہیں۔‘‘ آپؐ نے تبسّم فرماتے ہوئے آمادگی کا اظہار کردیا۔ حضرت عائشہؓ کم عمر بھی تھیں اور دبلی پتلی بھی، لہٰذا وہ حضورؐ سے آگے نکل گئیں۔ کچھ عرصے بعد حضرت عائشہؓ نے پھر دوڑ کے مقابلے کی فرمائش کی۔ حضورؐ پھر تیار ہوگئے، لیکن اس مرتبہ حضورؐ جیت گئے اور فرمایا۔ ’’یہ تمہاری ا ُس جیت کا جواب ہے۔‘‘ازواجِ مطہراتؓ کے ساتھ بہترین حسنِ سلوک کے بے شمار واقعات احادیث کی کتب میں درج ہیں،جن میں آپؐ ایک ہم درد، مہربان، نہایت شفیق شوہر، مثالی غم گسار، دل جوئی اور محبت کرنے والے رفیقِ حیات کے طور پر نظر آتے ہیں۔ شریعتِ اسلامی نے بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک پر بڑا زور دیا ہے۔ رسول اللہؐ نے بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے والے شوہر کو امّت کا بہترین اور صاحبِ ایمان شخص قرار دیا۔ آپؐ نے فرمایا ’’کامل ایمان والے مومن وہ ہیں کہ جو اپنے اخلاق میں سب سے اچھے ہوں اور تم میں سب سے اچھے وہ لوگ ہیں، جو اپنی بیویوں کے حق میں سب سے اچھے ہوں۔‘‘(ترمذی)۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا۔ ’’تم میں سے سب سے اچھا وہ ہے، جو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے اچھا ہو، اور مَیں اپنے گھر والوں کے لیے تم میں سب سے زیادہ اچھا ہوں۔‘‘ (ترمذی)۔ حجۃ الوداع کے موقعے پر آپؐ نے شوہروں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ ’’لوگو! سنو، اپنی بیویوں کے ساتھ اچھے سلوک سے پیش آئو اور ان کے حقوق، دیانت داری کے ساتھ ادا کرو۔‘‘(ترمذی)
بلاشبہ، حضورسرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے ازدواجی تعلقات، حسنِ معاشرت اور اخلاق کا اعلیٰ نمونہ تھے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ’’ آپؐ ہم میں اس طرح ہنستے بولتے، باتیں کرتے کہ معلوم ہی نہ ہوتا تھا کہ کوئی اولوالعزم نبیؐ ہیں۔‘‘ آپؐ نہایت خندہ پیشانی کے ساتھ مسکراتے ہوئے گھر میں داخل ہوتے، گھریلو ضروریات کے بارے میں گفتگو کرتے، خیریت دریافت کرتے، ازواج مطہرات ؓ کی ضروریات کے بارے میں آگاہی حاصل کرتے۔ کسی بھی اہلیہ سے سخت لہجے میں گفتگو نہیں کرتے۔ اگر کوئی بات ناگوار بھی گزرتی، تو اسے اس وقت نظرانداز فرما کر کسی اور موقعےپر نہایت پیار و محبت سے اس کی اصلاح فرماتے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنی ازواجِ مطہراتؓ کی دل کھول کر تعریف کرتے اور ان کی خوب ہمّت افزائی فرماتے۔ اپنی تمام ازواجِ مطہرات ؓ سے محبت کرتے۔ حضرت خدیجہؓ سے محبت کا یہ عالم تھا کہ زندگی بھر انہیں یاد کرتے رہے، تاحیات ان کی سہیلیوں کو تحفے تحائف بھیجتے رہے۔اکثر حضرت سودہؓ مذاق فرمایا کرتیں، تو آپؐ خوش ہوتے۔ بے شک، ازواج ِمطہراتؓ کے ساتھ حضور اکرمؐ کا حسنِ سلوک، دنیا کے تمام شوہروں کے لیے تقلید کا بہترین نمونہ ہے۔تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ آپؐ نے کبھی کسی اہلیہ پر ہاتھ اٹھایا، نہ انہیں گھر سے نکالا، نہ ان کی تذلیل کی، نہ لعن طعن کیا، نہ ان پر طنز کے تیر چلائے، نہ انہیں کبھی میکے واپس جانے کی دھمکی دی اور نہ ہی کبھی انہیں طلاق کی دھمکی دی۔ اگر کبھی آپ ؐ کو کسی بات سے بہت زیادہ تکلیف ہوتی، توخاموش ہوجایا کرتے اورمزاج شناس ازواجِ مطہراتؓ سمجھ جایا کرتیں کہ حضورؐ کو ہماری یہ بات پسند نہیں آئی۔ ازواجِ مطہراتؓ کی عزت و احترام اور ان کے احساسات کا خیال رکھنے کا یہ عالم تھا کہ اگر ایک زوجہ کے بارے میں کوئی بات ہوتی، تو دوسری سے فرما دیتے کہ ان کو نہ بتانا، ورنہ انہیں دکھ ہوگا۔ ہم مسلمان اس نبیؐ کے امّتی ہیں کہ جنہوں نے بیویوں کو عزت و احترام کے اعلیٰ مقام پر فائز کرتے ہوئے انہیں آئینہ اور درخشاں آبگینے قرار دیا۔ سورۃ النساء میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’تم اپنی بیویوں کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی بسر کرو۔ اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں، تو عجب نہیں کہ تم کسی چیز کو نا پسند کرو اور اللہ اس میں بہت کچھ بھلائی پیدا کردے۔‘‘ عورت صنفِ نازک ہے۔ اللہ نے اسے بے انتہا خوبیوں سے نوازا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی اس میں ضد کی حِس بھی رکھی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’’ اللہ نے عورت کو ٹیڑھی پسلی سے پیدا کیا ہے، اگر اسے زبردستی سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے، تو توڑ ڈالو گے۔‘‘ (صحیح مسلم)۔ دراصل اس تمثیل میں بڑی حکمت پنہاں ہے۔ عورت عمومی طور پر محبت، پیار، نرمی، تحفظ اور سرپرستی کی خواہاں ہوتی ہے۔ اس کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا شوہر اسے محبت بھری نظروں سے دیکھے، اس کی تعریف کرے، اس کے پاس بیٹھے، اسے وقت دے، اس کے کاموں کی قدر کرے۔ وہ ان سب کو تحسین و تشکّر کی نظر سے دیکھتی ہے۔ بعض اوقات صحابہؓ عبادت و ریاضت میں اتنے مصروف ہوجایا کرتے کہ بیویوں کی جانب رقبت سے نہیں دیکھتے تھے۔ حضورؐ نے انہیں اعتدال کی تلقین فرماتے ہوئے کہا ’’اسلام رہبانیت کا مذہب نہیں ہے۔ تمہاری بیویوں کا بھی تم پر حق ہے۔ وہ اس بات کی حق دار ہیں کہ تم ان کی قربت میں وقت گزارو اور ان پر توجّہ دو۔‘‘
عادلانہ طرزِ عمل:
ہر بیوی کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کے معاملے میں حق و انصاف سے کام لیا جائے۔ ہمارے معاشرے میں عموماً ساس بہو کا رشتہ اتنا احسن نہیں ہوپاتا، جتنا ہونا چاہیے۔ جہاں ایک طرف ماں کو اپنی متاعِ عزیز اچانک دوسرے کے حوالے کرنے کا فطری احساس ہوتا ہے، وہاں بیوی محترمہ شروع ہی سے شوہر پر اپنا حق جتانا شروع کردیتی ہے۔ اس صورت میںشوہردونوں کی نفسیاتی کیفیت کو سامنے رکھتے ہوئے حکمت کے ساتھ اپنے عادلانہ طرزِعمل سے بیوی اور ماں کی اَن دیکھی غیر محسوس خلیج کو بہت جلد پر کرنے میں کام یاب ہوجاتا ہے۔ وہ اپنی ذہانت سے معاملات اس طرح رکھتا ہے کہ وہ ماں کا فرماں بردار بھی ہوتا ہے اور بیوی کے ساتھ ناانصافی کا مرتکب بھی نہیں ہوتا۔ کیوں کہ جہاں وہ ماں کے حقوق و احترام کی پاس داری کرکے جنّت کا حق دار بنتا ہے، وہاں وہ بیوی کے حقوق کا بھی احترام کرتا ہے۔جب کہ دوسری طرف اسلامی ماحول میں پرورش پانے والی دینی تعلیم سے بہرور لڑکیاں بہت جلد اپنے آپ کو نئے ماحول میں ڈھال کر شوہر کی معاون و مددگار ثابت ہوتی ہیں۔اور پھر ایک سے زیادہ بیویاں ہونے کی صورت میں ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ ان کے کھانے پینے، رہائش اور دیگر ضروریات میں برابر کا سلوک اور برتائو رکھنا بھی شوہر کی ذمّے داری ہے۔ کسی ایک طرف زیادہ جھکائو اور دوسری کو بالکل نظرانداز کردینا، اسلام میں کسی طور پر بھی پسندیدہ نہیں ہے۔ ایسے شخص کو قیامت کے روز سخت ترین عذاب سے گزرنا ہوگا۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’جس کی دو بیویاں ہوں اور وہ ایک کو نظرانداز کرکے دوسری کی طرف زیادہ مائل ہو، تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا آدھا دھڑ گرا ہوا ہوگا۔‘‘(ابن ماجہ)
حقِ خلع:
اسلام میں طلاق ایک ناپسندیدہ فعل ہے،تاہم انتہائی صورت میں جس طرح مرد کو طلاق کا حق دیا ہے، اسی طرح عورت کو بھی خلع کا حق دیا گیا ہے۔ سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں (یعنی شوہر اور بیوی) حدودِ الہٰی پر قائم نہ رہیں گے، تو ان دونوں کے درمیان اس معاملے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ بیوی، شوہر کو کچھ معاوضہ دے کر علیحدگی حاصل کرلے۔‘‘ شریعت کی اصطلاح میں اسے ’’خلع‘‘ کہتے ہیں۔ خلع کا یہ معاملہ اگر دونوں کے درمیان گھر کے اندر ہی طے پا جائے، تو بہتر ہے، ورنہ عورت خلع لینے کے لیے عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹا سکتی ہے۔موطا امام مالک میں ایک روایت تحریر ہے کہ ایک صحابیہ حبیبہ بنتِ سہل، حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ وہ اپنے شوہر حضرت ثابت بن قیس سے علیٰحدگی چاہتی تھیں۔ رسول اللہؐ نے حضرت ثابت بن قیس کا وہ مال، جو حضرت حبیبہ کے پاس تھا، حضرت ثابت کو واپس دلوادیا اور حضرت حبیبہ کو خلع حاصل ہوگیا۔ یہ اسلام کا پہلا خلع تھا۔ پھر حضرت ثابت نے جمیلہ بنتِ ابی سے نکاح کیااور انہوں نے بھی بذریعہ خلع علیحدگی اختیار کرلی۔(فتح الباری)
نکاح نامے میں دیا گیا حق:
اگر ہم اپنے گردوپیش کا جائزہ لیں، تو اندازہ ہوتاہے کہ ہزاروں کی تعداد میں ایسی خواتین موجود ہیں، جو سخت گیر شوہر اور ظالم سسرال والوں کے عذاب کو خاموشی سے برداشت کرنے پر صرف اس لیے مجبور ہیں کہ انہیں شرعی اور ملکی قوانین کی رو سےاپنے حقوق کا علم ہی نہیں ہے اور اگر ہے بھی، تو معاشرے اور خاندان والوں کے طنز و طعن کے خوف سے ہر ظلم و زیادتی سہنے پر مجبور ہیں۔ اورپھر ہمارے پیچیدہ عدالتی نظام نے بھی ان بے کس خواتین کے پیروں میں بیڑیاں ڈال دی ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ نکاح نامے میں مسلم خاندانی قوانین کے آرڈیننس مجریہ 1969ء کے تحت وضع کیے گئے ان کے شرعی اور قانونی حقوق کی شقوں پر بھی نکاح کے وقت اکثر لکیر پھیر کر خارج کردیا جاتا ہے۔ نہ نکاح خواں اس کی اہمیت سے آگاہ کرتے ہیں اور نہ لواحقین اسے سمجھنا چاہتے ہیں۔ انہیں تو صرف بیٹی بیاہنے کی فکر ہوتی ہے۔پھر لڑکی سے نکاح نامے پر دستخط کرواتے وقت سارا منظر اس قدر جذباتی کردیا جاتا ہے کہ پڑھی لکھی لڑکیاں بھی آنکھ بند کرکے دستخط کردیتی ہیں۔اگر نکاح سے چند روز قبل فریقین نکاح نامے پر دی گئی تمام 25؍دفعات کا بغور مطالعہ کرکے اورلڑکی سے بھی پڑھوا کر ان پر باہمی رضامندی سے اتفاق کرلیں،تو نکاح کے وقت کسی ناپسندیدہ صورتِ حال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ نیز،کسی اچھے نکاح خواںکو بھی نکاح سے پہلے فریقین کو تمام شرائط کے بارے میں بتاناچاہیے، تاہم بدقسمتی سے عموماً ایسا نہیں ہوتا۔
حقِ میراث:
قرآن کریم کی سورۃ النساء میں اللہ نے جہاں شوہرکو بیوی کے ترکے میں حصّہ دار مقرر کیا ہے، وہاں بیوی کو بھی شوہر کے ترکے میں حصّہ دار بناتے ہوئے فرمایا ہے کہ ’’اگر شوہر بے اولاد وفات پاتا ہے، تو بیوی کو اس کے ترکے کا چوتھا حصّہ ملے گا اور اگر وہ صاحبِ اولاد ہے، تو پھر وہ شوہر کے ترکے کے آٹھویں حصّے کی حق قدار ہوگی۔‘‘اللہ تعالیٰ کے ان واضح احکامات کے بعد کسی کو بھی اختیار نہیں کہ وہ شوہر کے ترکے میں ملنے والے اس کی بیوی کے حصّے کو غصب کرے۔ ترکے میں بیوی کا حصّہ اس کا شرعی اور قانونی حق ہے، جس کی ادائیگی لواحقین پر فرض ہے۔ جو رشتے دار، بیوی کو اس کے حقِ میراث سے محروم رکھتے ہیں، وہ سخت گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔
تمدّنی حق:
اسلام نے شوہر کے انتخاب میں بھی عورت کو بڑی حد تک آزادی دی ہے۔ نکاح سے پہلے لڑکیوں کی مرضی اور ان کی اجازت کو ضروری قرار دیا گیاہے۔ ارشادِ نبویؐ ہے۔ ’’عورت کا نکاح اس کی مرضی کے بغیر نہ کیا جائے۔‘‘ جب حضرت علیؓ نے حضرت فاطمۃ الزہرہؓ سے نکاح کا پیغام دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود حضرت فاطمہؓ کے پاس تشریف لے گئے اوران کی مرضی دریافت کی۔ حالاں کہ وہ ازواجِ مطہراتؓ یا دیگر خواتین سے یہ کام لے سکتے تھے، لیکن انہوں نے بیٹی کے پاس جانا خود ضروری سمجھا۔ یقیناً اس بات میں آج کے والدین کے لیے ایک بہت بڑا سبق پنہاں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں