بیوقوفیاں

bear

ایک دن ریچھ کے ہاتھ دومرغیاں لگیں تو وہ خوشی سے چلا اُٹھا۔
واہ واہ ! دو مرغیاں ۔ آج میں اپنے دوست شیر کی دعوت کروں گا اور ہم مزے سے مرغیاں کھائیں گے۔‘‘
اتفاق سے ایک چالاک لومڑی نے جو اس وقت ایک درخت کے پیچھے چھپی کھڑی تھی ریچھ کی بات سن لی اور چپکے سے ریچھ کا پیچھا کرتی ہوئی اس کے گھر تک آپہنچی۔ مرغیاں دیکھ دیکھ کر مکار لومڑی کے منہ میں پانی آگیا۔ لومڑی کے ذہن میں ایک ترکیب آئی۔
ریچھ اپنے گھر میں داخل ہوا اور مرغیاں پکانے کے لیے پانی چولہے پر چڑھانے لگا۔ اچانک مرغیاں بھاگ نکلیں۔ ریچھ ان کے پیچھے لپکا تو وہ ہاتھ نہ آئیں۔ آخر اس نے زور سے چھری ماری تو مرغیاں زخمی ہو گئیں۔ مکار لومڑی کھڑکی کے نیچے کھڑی اندر جھانک رہی تھی۔ مرغیوں کے خون کے قطرے اس کے سر پر ٹپکنے لگے لیکن وہ ابھی قدم نہیں اٹھا نا چاہتی تھی۔
ریچھ ایک ہاتھ سے مرغیاں پکڑ کر دوسرے ہاتھ سے ان کے پر نوچنے لگا ۔ اور پھروہ اپنے دوست شیر کو بلانے کے لیے سیٹی بجاتا ہوا باہر نکل گیا۔

tiger
دیکھو بچوں یہ بیچارے ایک دوسرے کے پیچھے بھاگ رہے ہیں

لومڑی چپکے سے اندر گھس آئی اور لذیذ مرغیاں دیکھنے لگی اس نے ا یک مرغی پکڑی اور اسے چیر پھاڑ کر نگل گئی ۔ مرغی کھاتے کھاتے اچانک سیٹی کی آواز سنائی دی۔ لومڑی نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا تو ریچھ آرہا تھا۔ اب بھاگنا تو ناممکن تھا وہ فوراً ایک کونے میں چھپ گئی۔
ریچھ جب گھر میں داخل ہوا تو اسے کچھ خیال گزرا کہ دعوت میں کسی چیز کی کمی ہے وہ فوراً ہی واپس پلٹا اور بغیر مرغیو ں کو دیکھے لوٹ گیا۔ لومڑی کونے سے نکلی اور دوسری مرغی لے کر بھاگ گئی۔ ادھر شیر گاتا ہوا ریچھ کے گھر آرہا تھا۔ مکار لومڑی درخت کے پیچھے چھپ کر مرغی کھا رہی تھی کہ شیر کے گانے کی آواز سن کر سوچ میں پڑی گئی۔ ریچھ سے دو دود ہاتھ کیسے کیے جائیں؟ آخر لومڑی کو ایک چال سوجھ ہی گئی۔
اس نے درخت سے بڑا سا پتا توڑ کر کان پر باندھا اورش یر کے پاس آکر دُھائی دینے لگی۔
’’اے جنگل کے بادشاہ شیر مجھے بچائو‘‘پھر اپنے کان کی طرف اشارہ کر کے بولی ’’ظالم ریچھ نے مجھے کھانے پر بلایا ۔ میں اس کی باتوں میں آگئی اور جو نہی اس کے گھر میں داخل ہوئی اس نے میرا کان کاٹ لیا۔ خوش قسمتی سے جان بچا کر بھاگ نکلی۔ ’’شیر شش و پنج میں پڑ گیا‘‘ اس نے پوچھا
’’کیا تم سچ کہہ رہی ہو؟ ریچھ نے مجھے بھی دعوت دی ہے ‘‘لومڑی نے شیر کو ڈراتے ہوئے کہا۔
’’خبر دار وہ ضرور آپ کے کان بھی کاٹےگا۔ اب وہاں جانے نہ جانے کا فیصلہ آپ خود ہی کر سکتے ہیں‘‘ ۔ شیر کو سوچ میں پڑا دیکھا تو لومڑی پُھر سے اُڑی۔ شیر نے دیوار سے دیکھا تو ریچھ کو اپنے ناخن تیز کررہا تھا۔شیر نے فوراً واپسی کا فیصلہ کیا اور یہ دیکھ کر مکار لومڑی تو ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہونے لگی۔
اب لومڑی نے ریچھ کے پاس آکر کہا۔

اور مرغیاں کھانے کے بعد مزے سے سوتی ہوئی لومڑی

معاف کیجئے ریچھ بھائی آپ کو کچھ بتانے آئی ہوں ’’میں نے ابھی ابھی میں نے شیر کو آپ کی مرغیاں چوری کے بھاگتے دیکھا ہے ‘‘۔
ریچھ کچھ سمجھدار تھا بولا یہ تو ہو ہی نہیں سکتا میں نے اسے خود دعوت پر بلایا تھا۔ اسے مرغیاں چرانے کی کیا ضرورت ہے۔
لومڑی نے کہا
’’بھائی تم کس قدر بے وقوف ہو تمہاری مرغیاں تو اب تک شیر کے پیٹ میں پہنچ چکی ہوں گی‘‘۔ ریچھ نے مرغیا ں جہاں پر رکھیں تھیں وہاں جا کر دیکھا تو مرغیاں نہ تھیں اب تو وہ غصے سے لا ل پیلا ہوگیا۔ اور شیر کی تلاش میں نکل پڑا۔ ‘‘
اب کیا تھا دوڑتے دوڑتے شیر کا دم نکلا جارہا تھا وہ ذرا رک کر سانس لینا چاہتا تھا کہ اچانک رک جائو ۔ رک جائو کی آواز سنائی دی اس نے جب مڑ کر دیکھا کہ ریچھ آرہا ہے تو ڈر کے مارے اور تیزی سے بھاگنا شروع کر دیتا۔
اور یوں سارے جنگل میں بغیر کچھ کیے وہ بھاگتے رہے، صرف دوسروں کی باتیں سن کر۔
پیارے بچو! یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ ہر بات جو کوئی دوسرا کہے یہ سچ نہیں ہوتی، سچ کو جاننے کیلئے صبر اور تحمل کا مظاہرہ کر کے سامنے والے سے پوچھنا چاہیے کہ یہ کیا ہے۔ بس دوسروں کی باتوں پرسو فیصد یقین نہیں کرنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں