بیمار اور قریب الموت کے پاس بیٹھنا

islam-muslims
EjazNews

کسی بیمار کے پاس بیٹھنا اس کی تسلی و تشخصی کے لیے موجب خیر و برکت ہے اور بیٹھنے والا رحمت خداوندی میں داخل ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب بیمار کے پاس جاؤ تو تم بیمار سے کہو کہ وہ تمہارے واسطے دعا کرے کیونکہ اس کی دعا فرشتوں کی دعا کی طرح (مقدس اور مستجاب)ہوتی ہے۔ (ابن ماجہ)
حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یعنی جب تم مریض کے پاس یا قریب الموت کے پاس جاؤ تو وہاں نیک اور اچھی باتیں کہو کیونکہ تمہاری نیک باتوں پر فرشتے آمین کہتے ہیں۔ (مسلم، ابن ماجہ)
اور آپ ؐ نے فرمایا کہ جب تم کسی مرنے والے کے پاس پہنچو تو وہاں سورہ یٰسین پڑھو اور یہ بھی فرمایا کہ ”لا الہ الا الاللہ“ کی تلقین کرو (ابن ماجہ)، تلقین کا مطلب یہ ہے کہ اس کے سامنے کثرت سے لا الہ الا اللہ پڑھتے تاکہ سن کر وہ بھی یہ کلمہ کو پڑھنے لگے۔ نزع و سکرات کی حالت کو زیادہ تکلیف ہوتی ہے، اس سے مسلمان کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ (ابن ماجہ)
سکرات موت کے وقت کی دعا:
نزع کی حالت میں مرنے والے کے سامنے لا الہ الا اللہ پڑھیں تاکہ مرنے والا پڑھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لا الہ الا اللہ پڑھتا ہوا مر جائے وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اپنی زندگی سے مایوب ہو اور نزع کی سی حالت ہو گئی اور اس کو ابھی ہوش ہو تو اسے ان دعاؤں کو پڑھتے رہنا چاہیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکرات کے وقت ان دعاؤں کو پڑھا ہے۔ ”اللھم اغفرلی وارحمنی والحقنی بالرفیق الا علی“ (بخاری)۔ اے اللہ مجھے معاف کر دے، میری حالت پر رحم فرما اور مجھے رفیق اعلیٰ کے ساتھ ملا دے۔
”اللھم اعنی علی غمرات الموت او مکرات الموت“۔ اے اللہ! موت کی سختیوں اور بے ہوشیوں پر میری امداد فرما۔ (ترمذی)
میت کی آنکھیں بند کرنا:
جب جان نکل جائے تو میت کی آنکھیں بند کر دی جائیں اور ہاتھ پاؤں سیدھے کر کے تمام بدن کپڑے سے ڈھک دیاجائے۔
حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں حضرت ابو سلمہؓ کی وفات کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو حضور ؐ نے ان کی نظر کواوپر چھڑے ہوئے دیکھ کر فرمایا جب روح جسم سے جدا ہوجاتی ہے تو نظراس کا پیچھا کرتی ہے، پھر حضور ؐ نے ان کی آنکھوں کو اپنے دست مبارک سے بند کر دیا۔(مسلم)
حضرت شداد بن اوس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب قریب الموت آدمی کے پاس تم جاؤ تو اس کی آنکھیں بند کر دو کیونکہ رو ح کی مفارقت کے وقت نظر اس کے پیچھے جاتی ہے اور نیک باتیں کیا کرو کیونکہ تمہاری گفتگو پر فرشتے آمین کہتے ہیں۔(ابن ماجہ)
ازراہ شفقت اور محبت میت کی پیشانی کا بوسہ لینا بھی جائز ہے۔
حضرت عائشہ ؓ کا بیان ہے حضور ؐ نے عثمان ابن مظعون ؓ کی میت کو روتے ہوئے بوسہ دیا تھا اور اشک مبارک ان کے چہرے پر جاری تھے۔ (ابن ماجہ باب تقبیل المیت)۔
حضرت عائشہ ؓ کا بیان ہے حضور ؐ نے عثمان ابن مظعون ؓ کی میت کو روتے ہوئے بوسہ دیا تھا اوراشک مبارک ان کے چہرے پر جاری تھے۔ (ابن ماجہ)
حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ حضرت ابوبکر ؓ نے حضور ﷺ کی میت مبارک کو بوسہ دیا تھا۔ (ابن ماجہ)
نوحہ (رونا پیٹنا):
مرجانے کے بعد میت پر زور زور سے رونا پیٹنا، سرنوچنا حرام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے اورفرمایا کہ میت پر رونے سے میت کو عذاب دیا جاتا ہے۔ (بخاری)
اور رونے ولے بھی سخت مجرم ہیں، ہاں بلا آواز کے آنسو بہانا جائز ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آنسوؤں سے آہستہ آہستہ رونا خدا کی رحمت ہے۔
جب آپ ؐ کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا تو آپؐ نے روکر زبان مبارک سے فرمایا کہ اے ابراہیم ہم تیری مفارقت سے سخت غمگین ہیں۔
ایک صحابی بیمار تھے۔ آنحضرت ﷺ ان کی عیادت کو تشریف لے گئے۔ اتفاق سے اسی وقت ان کی رو ح جسم سے علیحدگی کی تھی۔ ان کی آنکھیں کھل ہوئی تھیں اور ہنوز جسم گرم تھا۔آپؐ نے ان کی آنکھیں بند کیں اورفرمایا کہ جب آدمی کی روح نکلتی ہے تو اس کی آنکھیں پیچھے لگی رہتی ہیں۔ پھر گھروالوں نے چلا چلا کر رونا شروع کر دیا۔ آپؐ نے فرمایا کہ ان کے لیے نیک دعا کرو۔کیونکہ فرشتے تمہاری باتوں پرآمین کہتے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوگیا کہ رونے والے کواس کا ضرور خیا ل رکھنا چاہئے کہ بے جا رونا، یا رونے کے دوران میں کوئی ناشائستہ کلمہ زبان سے نہ نکلنے پائے۔ ہاں اگر بے اختیار رونے کی آواز نکل جائے تو مضائقہ نہیں اور اگر قصدا چلا کر روئے تو یہ درست نہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ کرنے والیوں پر لعنت کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں