بہت سے سوالات جن کا جواب شاید نہیں ہوتا

suicide-hanging
EjazNews

عمر اصغر خان پاکستان کی سیاست کا نامور درخشاں ستارہ تھے۔ 3جولائی 1953ءکو پاک فوج فضائیہ کے سابق سربراہ ائیر مارشل اصغر خان کے گھر میں انہوں نے آنکھ کھولی ۔ اکنامکس ،فلسفہ اور سیاسیات میں انہوں نے اعلیٰ ڈگریاں حاصل کیں اور قائداعظم یونیورسٹی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ پاکستان کے مختلف حصوں کا دورہ کر نے کے بعد قوم کے دکھ درد کا احساس ہوا تو سماجی خدمت ، جنگلات کے تحفظ ، قابل عمل زراعت ، خواتین کی بحالی اور مختلف ترقیاتی سکیموں میں علاقہ بدر ہونے والے لوگوں کی بحالی کے لیے این جی او بنائی۔ اپنی جماعت قومی جمہوری پارٹی کی بھی بنیاد رکھی۔ مگر 25جون 2002ءکو کراچی میں اپنے بڑے بھائی کی رہائش گاہ پر پراسرار حالت میں مردہ پائے گئے۔ ان کی لاش پنکھے کے پرسے لٹک رہی تھی۔ ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ اور ان کی بہو اپنے سسر سے کبھی نہ مل سکی۔ کیونکہ تینوں بیٹوں کو وہ کم عمری میں ہی تنہا چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہو گئے تھے۔ انہوں نے بچوں کو بہت پیار دیا اور اسی لیے بچے یہ سمجھ ہی نہ سکے کہ ان کے والد نے کیوں آنکھیں موند لیں۔ ہوسکتا ہے بہت سے لوگوں کے ذہنوں سے اب عمر اصغر خان کی دھندلی سی تصویر بھی محو ہو گئی ہو۔ مگر وہ آج بھی اپنے احباب کے دلوں اور ذہنوں میں زندہ ہیں۔ ان کے اہل خانہ آج تک یہ راز نہ پاسکے کہ ان کے والد نے اپنی زندگی کیوں ہار دی۔عمر اصغر خان وفاقی وزیر تھے اور وہ اپنے بھائی کے گھر پر ڈیفنس میں موجود تھے۔ ان کی عمر 48برس تھی۔ پولیس نے پوسٹمارٹم رپورٹ کی روشنی میں ان کی موت کو خودکشی قرار دیا۔ اس وقت وہ اپنے برادر نسبتی کے گھر پر مقیم تھے۔ جب اہل خانہ نے دروازہ اندر سے بند پایا۔ صبح سویرے اٹھ جانے والے عمر اصغر خان کو جگانے کے لیے دروازہ کھٹکھٹایا اندر سناٹا تھا چنانچہ دروازہ توڑا گیا تب پتہ چلا کہ ان کی لاش ایک پنکھے سے لٹک رہی ہے۔ آئی جی سید کمال شاہ موقع پر پہنچے ،سٹی پولیس چیف اسد جہانگیر بھی معائنہ کیا۔ عمر اصغر خان کا قد5فٹ 10انچ تھا جبکہ ان کی لاش 10فٹ اونچی چھت سے لٹک رہی تھی۔ ان کا ایک پاﺅں کرسی پر تھا اور دوسرا ہوا میں معلق۔ بقول پولیس انہوں نے بستر کی چادر کی مدد سے خودکشی کی ان کے جسم پر تشدد کا کوئی نشان نہ تھا۔ البتہ ان کی ٹریچ Trachea یعنی سانس کی نالی اور Hyoid کی ہڈی سلامت تھی۔ خودکشی کی صورت میں یہ دونوں ہڈیاں ٹوٹ جایا کرتی ہیں۔ بہر کیف خودکشی کا یہ راز بھی آج تک عیاں نہ ہو سکا۔
پاکستان میں سینکڑوں لوگ آنر کلنگ کا بھی شکار ہوتے ہیں ان میں سے بہت سے افراد اپنے ہی اہل خانہ میں سے کسی فرد کی جان لینے کے بعد خود کو بھی موت کے سپرد کر دیتے ہیں۔ چنانچہ آنر کلنگ نے دوسروں کی کلنگ کے علاوہ ایسے واقعات کا پتہ نہیں جس میں خود لوگوں نے بھی خودکشی کی۔ تاہم 2011ءمیں پنجاب میں مجموعی طور پر 364افراد آنر کلنگ میں مارے گئے۔ 2012ءمیں 366، 2013ءمیں 388، 2014ءمیں 404، 2015ءمیں 328، 2016ءمیں 248،اور 2017ءمیں 181 لوگ آنر کلنگ میں مارے گئے۔ ان میں زیادہ تعداد ماری جانے والی لڑکیوں اور ان کے شوہروں کی ہے۔ جبکہ بہت کم تعداد ایسے افراد کی بھی ہے جنہوں نے اپنی سگی بیٹیوں کو خون میں نہلانے کے بعد خود کو موت کے سپرد کیا۔ ایسے جنونی لوگ لاہور ڈویژن میں زیادہ پائے جاتے ہیں۔ لیکن اب ان کی تعداد پنجاب بھر میں سب سے کم رہ گئی ہے۔ 2017ءمیں ان جنونیوں نے اپنے سمیت گوجرانوالہ اور راولپنڈی ڈویژن میں 19-19افراد کی جانیں لیں جبکہ سرگودھا میں 16، فیصل آباد میں 19اور شیخوپورہ میں 9 افراد آنر کلنگ کا نشانہ بنے۔
خودکش بمبار سے زیادہ خطرناک آدمی کوئی نہیں انہیں اپنی زندگی سے تو نفرت ہوتی ہی ہے لیکن یہ دوسروں کو بھی زندہ دیکھناپسند نہیں کرتے۔ 2017ءمیں دہشت گردوں نے خودکش اور دوسرے حملوں میں صرف بلوچستان میں 308افراد کے خون سے ہاتھ رنگے۔ خودکش اور دوسرے بمبار وں کی تعداد 183تھی ۔ جبکہ فاٹا میں 102حملے ہوئے۔ جن میں مجموعی طور پر 8سو سے زائد افراد شہید ہوئے جبکہ 84دہشت گرد ان خودکش حملوں میں مارے گئے۔ آزاد کشمیر میں بمبار بننے والے 12دہشت گرد دھر لیے گئے۔ خیبر پختونخوا ہ میں دہشت گردوں نے 75حملے کیے۔ جس میں 43سویلین اور 43شہری شہید ہوئے۔ 15دہشت گرد بھی مارے گئے۔ ان میں سے کچھ خودکش حملہ آور تھے۔ سندھ میں بھی 2017ءمیں دہشت گرد قدرے قابو میں رہے اور 40حملوں میں 112افراد شہید ہوئے جن میں 92سویلین اور 17سکیورٹی فورسز کے اہلکار تھے۔ ایک خودکش حملہ ہوا جبکہ 110مشتبہ افراد مارے گئے اور 153 پولیس کی حراست میں ہیں۔ پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں دہشت گردی کے واقعات میں 7فیصد اضافہ ہوا لیکن خوش قسمت ہیں کہ شرح اموات میں 37فیصد کمی ہوئی۔ 15 کارروائیوں میں 34سویلین اور 24 سکیورٹی فورسز کے اہلکار شہید ہوئے ۔ 3خودکش دھماکے 2016ءمیں ہوئے جس کے بعد 105دہشت گرد مارے گئے اور 298 پولیس کی حراست میں ہیں۔ یوں گزشتہ 2سال سے اپنی جان ہتھیلی پر لے کر پھرنے والے دہشت گرد بھی سکیورٹی فورسز کے ہتھے چڑھے ہیں۔ اور ان کی خودکش کارروائیوں میں کمی آئی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ پولیس نے کرا چی میں پولیس مقابلوں میں جتنے افراد کو ہلاک کیا دہشت گرد ی میں شہید ہونے والے افراد کی تعداد ان سے کہیں کم ہے۔
2017ءمیں پاکستان کے 64اضلاع میں دہشت گردوں نے 370حملے کیے۔ جن میں سے 24حملے خودکش تھے۔ شہید ہونے والوں کی کل تعداد 815اور زخمیوں کی کل تعداد 1726تھی یہ واقعات 2016ءکے مقابلے میں 16فیصد کم تھے۔ شہادتوں میں بھی 10فیصد کمی آئی۔ حکام اب تک یہ نہیں جان سکے کہ یہ دہشت گرد آخر کیوں اپنے ہی بھائیوں کی جانو سے کھیل رہے ہیں ہر طرح کا یقین دلانے کے باوجود ان کے ذہنوں پر انسانیت کے دکھ کیوں اثر نہیں کرتے۔
ایک اور رپورٹ کے مطابق 2017ءمیں 23خودکش حملوں میں 1387افراد شہید ہوئے۔ ان کی نفسیات کے بارے میں کچھ بھی وثوق سے نہیں کہا جاسکتا۔ بس یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ لوگ گمراہی کی دلدل میں اتنے دھنس چکے ہیں کہ اب ان کا اوپر اٹھنا مشکل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں