بھارت کے زیر تسلط مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں تو پہلے ہی عام تھیں، لیکن اب انتہا پر ہیں

kashmir
EjazNews

5اگست کو بھارت کی مودی سرکار نے اپنے آئین کے آرٹیکلز، 370اور35اے منسوخ کر دئیے، جس کے تحت مقبوضہ جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل تھی۔ یہ آرٹیکلزاقوامِ متّحدہ کی قراردادوں کی بھی عکّاسی کرتے تھے، کیونکہ ان کی رُو سے مقبوضہ کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے اور اس کے باسیوں کو استصواب رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل کی تنسیخ نے پوری دنیا میں تشویش کی لہر دوڑا دی ۔ آئین میں ترمیم سے قبل مزید ہزاروں فوجی مقبوضہ کشمیر بھیجے گئے، جہاں پہلے ہی 7لاکھ بھارتی سپاہی تعینات تھے۔ نیز، آئینی ترمیم کے بعد کشمیری عوام کے غیظ و غضب سے بچنے کے لیے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ۔مودی سرکار کے اس عاقبت نا اندیشانہ فیصلے نے کشمیری عوام کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے۔ وہ کسی صورت بھی یہ فیصلہ قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔ پاکستان بھی، جو مسئلہ کشمیر کا اہم فریق ہے، اسے مسترد کر چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر مُلک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ اگرچہ مقبوضہ وادی میں شدید بے چینی اور خوف پایا جاتا ہے، لیکن کشمیری عوام کی آواز دبانا ناممکن ہے۔ بھارت کے زیر تسلط اس خطۂ ارض میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں تو پہلے ہی عام تھیں، لیکن اب کشمیری عوام کو خوراک اور ادویہ تک دستیاب نہیں۔

کشمیری مسلمانوں کاقتل عام اور جنگ آزادی کا آغاز

https://twitter.com/ImranKhanPTI/status/1263185222662791169?s=20

وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں کہا کہ مودی سرکاری مقبوضہ کشمیر میں جنگی جرائم کر رہی ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی سے دنیا کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے، میں دہرا رہا ہوں، بھارت توجہ ہٹانے کیلئے فالس فلیگ آپریشن کرے گا۔
ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ بھارت کے 9 لاکھ سکیورٹی اہلکار کشمیریوں پر ظلم کر رہے ہیں، جنہوں نے سری نگر میں15 گھر نذر آتش کردئیے۔

کشمیر نئے سیاسی تناظر میں

وزیراعظم نے کہا کہ ہندوتوا پر ایمان رکھنے والے قابض بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت فورتھ جینیوا کنونشن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آبادی کا تناسب بدلنے کی کوشش جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔
وزیراعظم عمران خان وقتاً فوقتاً کشمیر کے مسئلے پر گفتگو کرتے رہتے ہیں۔اور یہ بات بڑی شدت سے منظر عام پر آرہی ہے کہ انڈیا کسی بہانے کی تلاش میں ہے کہ وہ کسی خفیہ آپریشن کی کرے۔وزیر خارجہ بھی اس طرف توجہ دلا رہے ہیں۔

البتہ اصل صورتِ حال کرفیو ہٹنے کے بعد ہی منظرِ عام پر آئے گی، جو یقیناً بھیانک ہو گی۔

اگرچہ ماضی میں بی جے پی اور کانگریس دونوں کے ادوارِ حکومت میں پاکستان اور بھارت کے درمیان گفت و شنید کا سلسلہ جاری رہا۔ بھارت کی سول سوسائٹی بھی پاک، بھارت دوستی پر زور دیتی رہی، لیکن اس وقت بھارت میں انتہا پسندی عروج پر ہے انتہا پسند ہندو پاکستان سے تعلقات کو مذہبی رنگ دے رہے ہیں اور جذباتی بھارتی اینکرز جنگ و جدل کی باتیں کر رہے ہیں۔ ماضی میں پاکستان فنکاروں نے بھارت میں نہ صرف کروڑوں روپے کمائے، بلکہ اعلیٰ ترین ایورڈز بھی حاصل کیے، لیکن اب صف اول کے مسلمان بھارتی اداکاروں کو پاکستان کُوچ کرنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔ تاہم، بھارت کے نفرت انگیز اور جارحانہ اقدامات پر پاکستان نے کافی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا۔ وزیر اعظم، عمران خان نے اپنی وکٹری اسپیچ سے لے کر مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے پہلے تک بار ہا اپنے بھارتی ہم منصب کو مذاکرات کی پیش کش کی۔ پاکستان نے جذبۂ خیر سگالی کے تحت کرتار پور راہ داری کھولی ۔ عمران خان نے مودی کو دوسری مرتبہ وزیر اعظم بننے پر ایک سے زائد مرتبہ مبارک باد کے پیغامات بھیجے، لیکن اس کا نتیجہ آرٹیکل 370کی منسوخی کی صورت نکلا۔

تحریک آزادی کشمیر : تعلیمی اداروں، اساتذہ اور طلبہ تنظیموں کا کردار

اپنا تبصرہ بھیجیں