بچوں کے منہ اور دانتوں میں تکلیف

Toothache in children
EjazNews

منہ کی بناوٹ کچھ اس انداز کی ہوتی ہے کہ ا س کا تعلق جہاں ایک طرف نظام ہضم سے ہوتا ہے وہاں یہ سانسیں لینے کے عمل اور بولنے کے عمل کا ایک حصہ ہے۔ اوپر اور نیچے کے جبڑے ہڈیوں دار خول ہوا کرتے ہیں جن کے درمیان ناک کی ہڈی ہوتی ہے۔جس کے نیچے ایک سخت پلیٹ سی ہوتی ہے۔ یہ پلیٹ منہ اور ناک کو ایک دوسرے سے الگ کرتی ہے۔
اس کے دو حصے ہیں۔ایک سامنے کا اور ایک نرم پر گوشت حصہ جو نرم پلیٹ ہوا کرتا ہے۔ یہ پلیٹ حلق کے عقبی حصے کو غذا چباتے وقت اس طرح دبایا کرتی ہے کہ وہ غذا ناک میں داخل نہیں ہوسکتی۔ یعنی یہ پلیٹ حد فاصل کا کام کیا کرتی ہے۔
منہ میں زبان بھی ہوا کرتی ہے۔ جو منہ کے بیشتر حصے پر مشتمل ہوتی ہے ۔ نرم فائبر سے بنی ہوئی ۔ اس کے اوپری حصےپر چھوٹے چھوٹے خلیات ہوتے ہیں جو ذائقے کی پہچان کیا کرتے ہیں اور انسان ہر قسم کے ذائقوں کی تمیز ان ہی خلیات کے ذریعے کر سکتا ہے۔
ہونٹ ، زبان ،دانت اور منہ کے بیرونی حصے کا دروازہ ہوا کرتے ہیں۔ بلغم، تھوک ، رال اور رطوبت وغیرہ ان ہی حصوں سے ہوتی ہوئی باہر آیا کرتی ہے۔
دانت:
دانتوں کا بیرونی نظر آنے والا حصہ کسی تاج کی طرح ہوا کرتا ہے۔ دانتوں کے اوپر سخت قسم کی ایک حفاظتی تہہ ہوتی ہے جسے اینامل کہتے ہیں۔ یہ دانتوں کو تکلیف کے احساس سے نجات دلانے کے علاوہ ڈینٹائن کی حفاظت کا کام بھی کرتی ہے۔
ڈینٹائن دانتوں کے نیچے ایک سخت قسم کی ہڈی ہے جو حرار ت اور کیمیکل کا احساس دلایا کرتی ہے ۔ ڈینٹائن کے اندر پلیٹ ہوا کرتے ہیں جو اعصابی سسٹم سے منسلک ہوتے ہیں جن میں خون کے ویسل ہوتے ہیں۔
دانتوں کے تاج کے نیچے روٹ ہوا کرتا ہے جو جبڑوں کی ہڈیوں پر مشتمل ہوتا ہے اور عام طور پر دانتوں کے تاج سے بڑاہوتا ہے۔ یہ روٹ سی مینٹم (دانت کے استخوانی غلاف مسوڑھے کے اندر دانت کی جڑ کے اوپر لپٹا ہوتا ہے) سے گھرا ہوا ہوتا ہے جو اپنی ساخت اور کمپوزیشن میں ڈینٹائن جیسا ہوتا ہے۔ یہ دانتوں کو اپنے سوکٹ میں محفوظ اور مضبوط رکھنے کے کام آیا کرتا ہے۔
دانتوں کی تین اقسام ہوا کرتی ہیں۔ انسائزر ، کینائن اور مولارس۔
بالغوں کے دانت کینائن اور مولا رس کے درمیانی بناوٹ کے ہوا کرتے ہیں۔
بچوں کے دانتوں ، زبان اور منہ میں کئی اقسام کی پیچیدگیاں ہو جاتی ہیں۔ آپ ان کی علامات کو دیکھ کر یہ فیصلہ کر سکتی ہیں کہ بچہ کس قسم کی تکلیف میں مبتلا ہے۔ یہ وہ بچہ جو غذا لینے سے انکار کر دے اور دیکھنے سے بیماری محسوس ہو،ا سے تو ضروری ڈاکٹر کے پاس لے جایا جائے۔ مگر ایک بچہ جو بالکل تندرست دکھائی دیتا ہو لیکن اس کے منہ میں تکلیف ہو۔ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ اس کے ساتھ کوئی اور خرابی نہیں ہے۔ البتہ وہ منہ یا زبان یا دانتوں کی کسی شکایت میں مبتلا ہو گیا ہو۔وہ بچہ جو غذا لینے سے انکار کر دے اور دیکھنے سے بیمار محسوس ہو اسے تو ضرور ی ڈاکٹر کے پاس لے جایا جائے ۔ مگر ایک بچہ جو بالکل تندرست دکھائی دیتا ہو لیکن اس کے منہ میں تکلیف ہو۔ اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ اس کے ساتھ کوئی اور خرابی نہیں ہے۔ البتہ وہ منہ یا زبان یا دانتوں کی کسی شکایت میں مبتلا ہو گیا ہو۔
آپ مندرجہ ذیل علامات کے ذریعے اس کی تکلیف کا اندازہ کر سکتی ہیں۔
پریشان کرتا ہوا۔ خاص طور پر رات کے وقت ایک گال سرخ ہو رہا ہو۔ ایک مسوڑھے پر ہلکے ہلکے دانے اور دانتوں کی نکلتی ہوئی نوک۔ بچہ دانت نکال رہا ہے۔ یہ علامات خاص طور پر دس سے چودہ مہینوں یا پھر دو سے ڈھائی سال کی عمر میں ظاہر ہو ا کرتی ہیں۔
دودھ وغیرہ پینے سے انکار کر دے ۔ خاص طور پر جب اورنج وغیرہ کا جوس پلانا چاہیں اس وقت بہت تکلیف کا اظہار کرے۔ مسوڑھوں میں سرخ کناروں کے ساتھ سوجے ہوئے سرخ دھبے۔ یہ چھالے ہونٹوں، گالوں وغیرہ پر بھی ہو سکتے ہیں۔
منہ کے چھالے:
خشک پھٹے ہوئے ہونٹ: کبھی کبھی اندر کا گوشت دکھائی دیتا ہوا۔ یہ تکلیف خشک سرد موسم میں زیادہ ہوا کرتی ہے۔
ہونٹوں کا پھٹنا: اس سے بچانے کے لئے بچے کے ہونٹوں پر کوئی کریم وغیرہ لگا دیں۔ خاص طور پر اس وقت جب وہ باہر جارہا ہو۔
منہ کے ارد گرد خشک، سرخی مائل دائرہ جس میں تکلیف اور خارش ہو۔ جلد پھٹی ہوئی بھی دکھائی دے۔ ایکزیما کی ایک قسم۔ یہ اس وقت زیادہ ہوتی ہے جب بچہ اپنی زبان کو باہر نکال کر گالوں اور ہونٹوں پر پھیرتا رہتاہے۔ رات کے وقت کوئی اچھی سے ویسلین لگا دیا کریں۔
دکھتا ہوا، منہ کے نزدیک ہونٹوں پر ہلکی ہلکی خارش کے ساتھ ۔ سرخی کے ساتھ چھوٹے چھوٹے دانے بھی واضح ہو سکتے ہیں۔ ٹھنڈ کا اثر ہو سکتاہے۔ خاص طور پر جب موسم ابر آلود اور سرد ہو۔
دودھ پینا شروع کرے لیکن پھر درمیان میں چھوڑ دے یا انکار کر دے۔ گالوں کے اندر سفید دھبے جیسے دودھ کے نشان پڑ گئے ہوں اور جب ٹشوز کے ذریعے انہیں مٹانے کی کوشش کی جائے تو وہ برقرا رہیں۔
اس کا تعلق بچے کی نیپی واش سے ہو سکتا ہے۔
ماں کے ذریعے یا بوتل کے ذریعے دودھ پینے والے بچے کے اوپری ہونٹ پر ہلکے ہلکے دانے۔
بھوک سے بے تاب بچے جب جلدی جلدی دودھ چوسنے لگیں۔ اس وقت اس قسم کی علامات ظاہر ہو جاتی ہیں اور یہ نقصان دہ نہیں ہوتے۔
دانتوں خون کا نکلنا: جب برش کیا جائے۔ اس کا سبب سخت برش سے دانتوں کی صفائی بھی ہے۔ یا پھر مسوڑھوں کی کسی بیماری کی ابتدائی علامت ہے۔
دانت میں درد:امکان دانتوں میں خرابی کا ہے لیکن کبھی کبھی سائی ناسائٹس میں بھی دانتوں میں درد ہونے لگتا ہے۔صرف اس وقت درد جب کوئی ٹھنڈی یا میٹھی چیز کھائی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں