بچوں کے ساتھ جرائم کرنے والوں کی نفسیات کیفیات

children harassment-1
EjazNews

جرائم پیشہ عناصر کے علاج اور ان کی نفسیات پر یورپ اور امریکہ میں زبردست تحقیق ہوتی رہی ہیں اور ہو بھی رہی ہیں۔ بڑھتے ہوئے جرائم پر قابو پانے کے لیے ہم ان سے کافی حد تک رہنمائی لے سکتے ہیں کہا جاتا ہے ہر شخص معصوم پیدا ہوتا ہے، حالات اسے برا یا اچھا بنا دیتے ہیں، زمانے کے حوادث انسان کے میلان ، طبیعت اور اس کے ادراک کو متاثر اور مسخ کر دیتے ہیں اور پھر وہ اسی سانچے میں ڈھل جاتا ہے جس سانچے میں اس کی ذہنی اور جسمانی پرورش ہوتی ہے۔

بچے بالغ کب ہوتے ہیں؟

غیر ملکی جریدے دی کنور سیشن میں بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے مجرموں پر رپورٹ شائع کی۔ کیلے رچرڈز کا تعلق آسٹریلیا سے بھی ہے۔ اپنی تحقیق میں انہوں نے مغربی آسٹریلیا میں بالخصوص بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے جرائم پیشہ عناصر کی نفسیات کا جائزہ لیا ۔ہمارے ہاں یہ تشدد یا مرض پھیلتا جارہا ہے۔ اس کی شدت پر قابو پانے میں کئی وجوہات کی بنا پرناکامی کا سامنا ہے ابتدائی دور میں بچے مجرم کی نفسیات اور جرم کی شدت کو سمجھ نہیں پاتے۔ کچھ خوفزدہ بچے اپنے والدین کو کچھ بھی بتاتے ہوئے گھبراتے ہیں۔ مغربی آسٹریلیا نے کچھ ایسا کام کیا جس سے ہم رہنمائی لے سکتے ہیں انہوں نے ایسے عناصر کی ایک طویل فہرست مرتب کی ۔ انہوں نے عوام کی مدد سے آسٹریلیامیں متشدد افراد کی ایک فہرست مرتب کی ۔ انہی کی مدد سے انہوں نے بچوں پر تشدد یا جنسی تشدد کی وجوہات جاننے کی کوشش کی۔ آپ کے خیال میں کوئی مجرم ایسا کیوں کر سکتا ہے۔ اس تحقیق میں اس نے پیڈوفیلیا (Papdophilia) اور جنسی استحصال کی وجوہات کا معاشرے سے پوچھنا تھا۔ وہ اس کو کس طرح لیتے ہیں اور اس سماجی برائی کا خاتمہ کس طرح کیا جاسکتا ہے۔ آن لائن بھی لوگوں سے اس بارے میں آراءطلب کی گئی۔ 8سو افراد کے تبصرے نے ماہرین نفسیات کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ اس پروگرام پر جنوبی آسٹریلیا میں اب عملدرآمد شروع کیا جائے گا۔ اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے مرتکب افراد کو نئے سرے سے ایک پروگرام شروع کیا گیا ہے۔اکثریت کے نزدیک اس ذہنی کیفیت کا علاج ہتھکڑیوں میں نہیں یہ ہتھکڑیوں سے باہر ڈھونڈا جانا چاہیے۔ زیادہ تر افراد کے نزدیک اس کی چار بڑھی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ ان کی انہی خطوط پر ہونے والی نشوونما ہے۔ یعنی گھر یا گھر کے باہر اس کے قریب ترین حلقوں میں ، جہاں وہ رہتا ہے ان لوگوں میں یہ بیماری پائی جاتی تھی اور اس کے ذہن میں یہ عادت یا برائی پیدائش کے بعد جڑ پکڑنے لگی۔ کچھ کے نزدیک پیڈو فائز یعنی پیڈو سیبیا کا شکار افراد پیدا ہی اسی طرح ہوتے ہیں۔ دوسرے نمبر پر بچپن میں ان کی ذہنی نشوونما میں خاص طور پر اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کسی سے معلوم کیا کسی نے انہیں بتایا جس سے ان کی نشوونما اسی انداز میں ہوئی۔ اگر کسی کا ذہن کسی بات کو قبول کر لیتا ہے تو اس کے ذہن کو بدلنے کے لیے کوئی قانونی ڈھانچہ مدد گار ثابت نہیں ہوسکتا یہ وہ رائے تھی جس نے اہل آسٹریلیا کو چونکا دیا۔ یعنی سزا اس مرض کا کوئی علاج نہیں۔ کوئی شخص اس کے بچپن میں پرورش پانے والی ذہنی کیفیت کو بدل نہیں سکتی۔
آپ کسی کی آنکھ کا رنگ نہیں بدل سکتے۔ اسی طرح کسی ریپسٹ کی سوچ یا انداز فکر کو بدلنا تقریباً ناممکن ہے۔

چونیاں میں بچوں سے زیادتی کے ملزم تک پولیس کیسے پہنچی

کچھ کے نزدیک پیڈو سیلیا یا بچوں سے زیادتی ایک ذہنی بیماری ہے۔ چنانچہ اس کا علاج ماہرین نفسیات سے پوچھاجانا چاہیے۔ اور کسی بھی ایسے مجرم کو ہتھکڑیو ں کو جکڑنے کے ساتھ ساتھ اسے ذہنی مریض قرار دے کر اس کے لیے نفسیاتی معالج کا علاج کیا جانا چاہیے ایک ماہر کا تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ پیڈو فیلیا ایک قسم کا ذہنی مرض ہے۔ اس کا دماغ کی بنتھ ہی درست نہیں ہوئی اسی لیے وہ بچوں کی جانب متوجہ ہوا۔ان لوگوں کا دماغ ہی الٹا چلتا ہے جسے بدلنا انسان کے بس میں نہیں۔
امریکہ میں ایسی بے تحاشا تحقیقات ہوئیں امریکہ کی طرح آسٹریلیا میں بھی اس نئی تحقیق کے نتائج مختلف نہیں بلکہ سائیکل آف ابیوز تھیری پر پورا اترے۔ انسان کو بچپن میں اگر کسی کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کے ذہن میں متشدد خیالات ابھرتے ہیں۔یعنی جس انداز سے کسی کو پڑھایا یا سکھایا گیا وہی انداز مستقبل میں اس کے ساتھ جڑا رہتا ہے۔ اس کے پیچھے یہ عام سا نقطہ ہے کہ آج کے ایسے مجرم بچپن میں خود بھی اسی طرح کے جرم کا نشانہ بنے۔ اور انہوں نے بچپن کے جرم کا انتقام اس طرح سے لیا۔ایک آن لائن پوسٹر پر کسی نے درج کیا یہ تو برائی کا ویشس سائیکل (Vicious cycle) ہے۔ تحقیق کے مطابق اکثر مجرم بچپن میں اکثر جرم کا نشانہ بنے۔ بیشتر مجرموں نے درحقیقت اپنے ساتھ زیادتی کا بدلہ اتارا۔ آخر کار عوامی بحث کے بعد ماہرین نے کچھ نتائج اخز کیے۔ ایک مجرم دوسرے جرم کا حوالہ دیتا ہے اور وہ بچپن میں خود سے چھینی گئی معصومیت اور بچپنے کا انتقام لیتاہے۔ مجرم اس کے ساتھ بچپن کی برائی اس کے ساتھ زندگی بھر ایک بھیانک خواب کی طرح جڑی رہتی ہے۔ وہ اپنے تصورات سے پیچھا چھڑا نہیں سکتا اس بیمار ذہنیت کو فرار کا ایک ہی راستہ دکھائی دیتا ہے اور وہ ہوتا ہے کسی دوسرے کے بچپن کو تباہ کر دو۔ تاہم معاشرے سے اس جرم کی جانب نفرت حاصل تھی۔ اسی لیے پیڈو فیلیا کے ساتھ نابالغ افراد کی رغبت کا مرض بھی کہا جاتا ہے۔ اس بارے میں ماضی میں کی گئی تحقیقات کے کئی نتائج کو درست تسلیم نہیں کیے گئے۔کچھ کے خیال میں بعض لوگ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ لیکن یہ تصور درست نہیں اور نہ ہی کبھی ٹھیک طریقے سے سمجھا گیا ہے۔ ماہرین نفسیات نے ان تمام تشریحات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی رپورٹ مرتب کی اور اسے ان چار نکات سے زیادہ کہیں پیچیدہ مسئلہ قرار دیا۔ اس میں سے ایک دو نقاط ابھی درست ثابت نہیں ہوئے ۔ یہ ضروری نہیں کہ بچپن میں کسی برائی کا نشانہ بننے والا جوانی میں خود بھی وہ جرم کرے۔ تاہم تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی کہ پیڈو فولک کی نشوونما ہی (Innate) خطوط پر ہوتی ہے۔لیکن یہ بات ہر کیس میں درست ثابت کرنا مشکل ہے۔ کیونکہ سبھی پیڈو فائلز نے بچوں پر تشدد کرنے والے پیڈو فیلیا نہ تھے۔ تاہم سائیکل آف ابیوس تھیری کو بھی مزید وضاحت کی ضرورت ہے۔ کیونکہ بچپن میں تشدد یا زیادتی کا نشانہ بننے والے بہت سے بچے بڑے ہو کر یہ حرکت نہیں کرتے۔ بلکہ ایسی کبھی قبیح حرکت کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ پھر اس سائیکل آف ابیوس کے تصور کو کیونکر فٹ کیا جاسکتا ہے۔ پھر بہت سے اس کا نشانہ بننے والی بچیاں ہیں جو بڑے ہو کر بہت معصومانہ زندگی گزارتی ہیں جبکہ یہ حرکت کرنے والے مرد ہوتے ہیں۔ اس سے نشانہ بننے یا نشانہ بنانے کا تعلق ثابت کرنا ماہرین نفسیات کے نزدیک ذرا مشکل ہوگیا۔یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایسی حرکت کرنے والے نوجوانوں کو بہت بدنامی ملتی ہے۔ یہ اطلاعات جنگل کی آگ کی طرح معاشرے میں پھیل جاتی ہیں۔ اس بنا پر کہا جاسکتا ہے کہ شاید اس کی وجوہات اس کے پھیلاﺅ میں بھی ہے کیونکہ آج ان اطلاعات کو سننے والے بچوں میں آگاہی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ تاہم اس کے دیگر عوامل کا پتہ چلانے کے لیے بچے کی عمر جرم کی شدت جنس اور دیگر معاملات کا جائزہ لینا از حد ضروری ہے۔ کچھ ماہرین نے اسے ذہنی خلل قرار دیا۔ کچھ اداروں نے بھی اس عادت کو ذہنی خلل تسلیم کیا۔ تاہم اسی حوالے سے تحقیق کرنے والے ایک ادارے ڈائیگنوسٹک اینڈ سٹیٹسکل مینول آف مینٹل ڈس آرڈرز نے اسے پورے طور پر تسلیم نہیں کیا۔ ایسا اسی صورت میں ممکن ہے جب پیڈو فولیا سے کسی شخص میں صحیح معنوں میں کوئی خلل پیدا ہوا ہو۔ اور اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہو یا بنائے جانے کا اندیشہ ہو۔ اگر مختصراً پوچھا جائے کہ عوام کی رائے پر ماہرین نفسیات کسی نتیجے پر پہنچے تو ہمارا مختصر سا جواب ہے ہاں اور نہیں۔ اس کی بے تحاشا وجوہات ہیں ۔ ہر شخص ایک مختلف ماحول میں پرورش پاتا ہے۔ اس کی ذہنی نشوونما دوسروں سے مختلف ہوتی ہے۔ تاہم اس سے ہمیں بہت کچھ پتہ چل سکتا ہے۔ مستقبل میں اچھے معاشرے کو تشکیل دے کر ہم بچوں کو اس قسم کے جرم سے محفوظ کر سکتے ہیں۔ہم نے ایسے کسی مجرم کو اب تک پشیمان نہیں دیکھا۔ اس میں کسی قسم کی پشیمانی کے آثار دکھائی نہیں دئیے۔ جس کا مطلب صاف ظاہرہے کہ یہ مرض ان کے ذہن میں اس قدر سراہیت کر چکا ہے کہ ان کے لیے اب ان سے بچنا ممکن نہیں۔ اس بارے میں امریکہ میں بہت بڑی تحقیق ہوئی یہ تحقیق نیشنل سیکچول وائیلنس ریسرچ سنٹر نے کی۔ اس کثیر الجہتی تحقیق کے نتائج اس تشدد پر قابو پانے میں مدد گار ثابت ہوئے۔ اس سلسلے میں امریکی ریسورس سنٹر نے ملک کے چیدہ چیدہ ماہرین نفسیات کی مدد سے مدد حاصل کی۔ اور اس کی تحقیق لگ بھگ 30سالہ ریکارڈ کو پیش نظر رکھتے ہوئے مرتب کی گئی۔ کچھ نے معاشی ناہمواری کو اس بیماری کی خرابی قرار دیا۔ کچھ کے نزدیک ان اطلاعات کے پھیلاﺅ میں تبدیلی لانے کے لیے ثقافتی فورم کی ضرورت ہے۔ دراصل اس کا پیغام ہی غیر انسانی انداز میں پھیلائے جانے کے بعد یہ تشدد پھیل رہا ہے۔ ماہرین کے نزدیک سماجی ڈھانچہ اس تشدد کے پھیلاﺅ کی ایک وجہ ہے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس بیماری کے پیچھے انسانی جسم میں جنم لینے والی نفسیاتی تبدیلیاں ہیں۔ لہٰذا اس کو جڑ سے اکھاڑ دینے کے لیے انہی پالیسیوں پر عملدرآمد کرنا ضروری ہے جو ان سے بچا سکیں۔ کیونکہ جب ایک مرتبہ یہ واقع ہو جاتا ہے تو بہت سے پہلونمایاں ہوتے ہیں اور ان پہلوﺅں کو ٹھیک کرنا ممکن نہیں۔ اسے ایک خاص قسم کا مینٹل ازم کہا جاسکتا ہے۔ لہٰذ ا اس کے علاج کے لیے مینٹل ماڈل پر عمل درآمد ضروری ہے۔ تعلیمی اداروں کو بچوں سے اس سے بچاﺅ کے بارے میں سکھایا جانا ضروری ہے۔ امریکی تحقیق میں خاندان کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔ اور ناقص کوریج کے باعث یہ جرم پھیلا اس کے پھیلاﺅ کے باعث ابتدائی نشووونما میں پائی جانے والی خرابیوں کو گردانا گیا۔ چنانچہ اس کا علاج بھی ذہنی نشوونما کو بہتر بنا کر ہی کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ ہمیں گھر کے اندر نشوونما کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اسی کے ذریعے ہم دوسروں کے بچوں کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ چنانچہ صرف بچوں کو ہی نہیں بلکہ ان کے والدین کو بھی اچھی تربیت کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں