بچوں کے جسم پر پیدائشی نشانات

Birthmarks on children's bodies
EjazNews

نوعیت:
بہت سے بچے پیدائشی نشانات کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ یہ نشانات ان کے جسم کے کسی بھی حصے پر ہو سکتے ہیں اور عام طور پر بے ضرر ہوا کرتے ہیں اور نارمل سکن کی کیفیت سمجھے جاتے ہیں۔ یعنی یہ کوئی خاص بات نہیں ہوتی بلکہ عام طورپر ہوا کرتے ہیں۔ پیدائشی نشانات کی کئی اقسام ہوا کرتی ہیں۔ ان میں خاص خاص یہ ہیں۔
سالمن کا نشان(سلیمانی نشان)
یہ آنکھوں کے پیوٹوں پر ہاتھ یا گردن کی پشت پر پائے جاتے ہیں۔ یہ مرجھائے ہوئے ایسے سرخ دھبے ہوتے ہیں جو اس وقت نمایاں ہوتے ہیں جب بچہ زور زور سے رو رہا ہو۔ اس کا سبب جلد کے نیچے خون کا منجمد ہونا ہوا کرتا ہے ۔اور یہ آہستہ آہستہ کچھ دنوں کے بعد غائب بھی ہو جاتے ہیں۔
ایسے نشانات اگر چہرے پر ہوں تو ایک سال کی عمر تک دکھائی بھی نہیں دیتے۔ کم از کم اس وقت تک جب تک بچہ روئے نہیں جبکہ ایسے گردن کے نشانات چار سال یا اس سے زیادہ عمر تک بھی دکھائی دئیے جا سکتے ہیں۔
منگولین نیلے نشانات:
یہ نیلے دھبے پشت پر نیچے کی طرف اور باٹم پر دکھائی دیتے ہیں اور دیکھنے میں خراش کی طرح لگتے ہیں۔ یہ ایشیائی اور افریقی بچوں میں عام طورپر ہوا کرتے ہیں اور اس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ جلد کی تہہ کے نیچے پیدائش سے پہلے پگمنٹ خلیات بہت زیادہ تعداد میں جمع ہوجاتے ہیں۔
پیدائش کے کچھ دنوں یا ہفتوں تک یہ نشانات بہت گہرے سیاہ دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ یہ آہستہ آہستہ غائب ہوتے چلے جاتے ہیں اور بعد میں ان کے نشانات ہی نہیں ہوتے۔
پورٹ وائن دھبے:
پیدائش کے وقت پورٹ وائن دھبے جلد پر جگہ جگہ پھیلے ہوئے ہوتے ہیں۔
زیادہ تر یہ چہرے کے ایک طرف یا گردن پر ہوا کرتے ہیں۔ ان کا سبب جلد کے نیچے خون کی ایک خاص حالت ہے اوریہ دھبے بچہ کے لئے ہوا کرتے ہیں۔ ان کے سائز میں بھی کمی بیشی نہیں ہوا کرتی ۔ لیکن ان کا رنگ گہرا ہو سکتا ہے اور عام طور پر یہ رنگ گہرے جامن رنگ کا ہو جاتا ہے۔
ان دھبوں کا علاج ڈائی لیزر کے ذریعے ہو سکتا ہے۔ لیکن اس علاج سے یہ دھبے غائب نہیں ہوتے بلکہ اتنے ہلکے پڑ جاتے ہیں کہ آسانی سے دکھائی نہیں دیتے۔ ان دھبوں کا علاج ابتدا ہی سے کرنا چاہئے تاکہ بچہ ایسے نشانات کے ساتھ سکول جاتے ہوئے کسی قسم کے احساس کا شکار نہ ہو۔
سرخی مائل پیدائشی نشانات:
یہ نشانات بھی پیدائش کے وقت مشکل سے دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن چند دنوں یا ہفتوں کے بعد یہ واضح ہوتے چلے جاتے ہیں اور یہ چمکدار سرخ رنگت کے نرم دھبے کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ اور ان کے بڑھنے کا سلسلہ چھ سے نو ماہ تک جاری رہتا ہے۔ اس کے بعد یہ آہستہ آہستہ سکڑنے لگتے ہیں اور زرد رنگت اختیار کرلیتے ہیں۔ یہ زیادہ تر چہرے گردن اور نیپی کے حصے میں ہوا کرتے ہیں۔
یہ نشانات عام طور پر سکول جانے کی عمر تک غائب بھی ہو جاتے ہیں اس لئے ان پر دھیان نہیں دیا جاتا اور انہیں یوں ہی چھوڑ دیا جاتا ہے۔ بہر حال اگر یہ نشانات بہت ہی واضح مقامات پر ہوں۔ جس سے چہرے کے بدنما دکھائی دینے کا اندیشہ ہو۔ جیسے آنکھوں پر ۔ یا کانوں پر۔ تو پھر ان کا علاج کیا جاتا ہے۔
اس علاج کے ذریعے ان دھبوں کو مختصر کیا جاسکتا ہے یا سکیڑا جاسکتا ہے۔
اگر یہ نشانات بچے کے تین یا چار سال کی عمر تک پہنچنے کے بعد بھی مختصر نہ ہوں تو پھر ایسی صورت میں لیزر تھراپی سے کام لیا جاتا ہے۔ بڑے بچوں کی کبھی کبھی پلاسٹک سرجی بھی کروائی جاتی ہے۔
تل:
انسانی جسم پر اس کی موجودگی بہت عام ہوا کرتی ہے۔یہ مختلف سائز اورساخت کے ہوا کرتے ہیں۔ ابھرے ہوئے بھی اور ہمواربھی۔ چکنے اور بال دار بھی۔
ان کی موجودگی کا سبب جلد کے نیچے بے شمار خلیات کی موجودگی ہے۔ اگر یہ تل پیدائش کے وقت جسم پر ظاہر ہوں تو یہ کچھ بڑے اور گہرے ہوا کرتے ہیں جبکہ کچھ عمر تک پہنچنے والے بچوں میں آہستہ آہستہ نمودار ہونے والے تل اپنے سائز میں کم اور رنگت میں ہلکے ہوسکتے ہیں۔
تل عام طور پر بے ضرر ہو ا کرتے ہیں سوائے اس کے کہ وہ ایسی جگہوں پر ہوں جہاں سے وہ بدنما دکھائی دیں۔ ایسی صورت میں پلاسٹک سرجری کے ذریعے انہیں غائب کر دیا جاتا ہے۔
ویسے کہیں کہیں یہ تل چہرے پر خوبصورتی کی نشانی بھی خیال کئے جاتے ہیں۔ آج کل جسم کے داغ دھبوں کو دور کرنے کے لئے طرح طرح کے جدید طریقے اپنائے جاتے ہیں۔
ضمنی دوائیں اور علاج:
پیدائشی نشانات اگر پریشانی کا باعث ہوں تو ان کے علاج کی طرف دھیان دیا جاتا ہے۔ ورنہ عام طور پر ان کو اس طرح رہنے دیا جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں