بندر کا انتقام

monkey

پیارے بچو!گزرےوقتوں میںایک جنگل میں ایک شیر رہتا تھا، وہ بہت ہی ظالم تھا۔ ویسے تو سب شیر ہی ظالم ہوتے ہیں لیکن وہ بہت زیادہ ظالم تھا۔ جنگل کے سب جانور اس سے بہت ڈرتے تھے کیونکہ وہ ہر روز دو یا تین جانوروں کو مار دیتا تھا۔ اسی جنگل میں ایک چالاک بندر رہتا تھا جو دوسرے بندروں کی طرح شیطان نہیں تھا۔ وہ بہت ہی عقلمند تھا وہ بس اپنے کام سے کام رکھتا تھا۔ وہ اپنی بیوی اور ایک بچے کیساتھ آرام سے زندگی بسر کر رہا تھا۔ ایک دن بندر کسی کام سے گھر سے باہر گیا تھا تو شیر نے اس کے گھر جا کر اس کی بیوی اور اس کے بچے کو مار دیا۔ جب بندر گھر آیا تو اس نے اپنی بیوی اور بچے کو مرا دیکھا تووہ بہت رویا اور پھر اس نے اپنے آپ سے ایک وعدہ کیا کہ میں اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھوں گا جب تک اپنی بیوی اور بچے کی موت کا بدلہ نہیں لے لیتا۔
بندر نے سوچا کہ میں اکیلا تو کچھ کر نہیں سکتا ، ہاں اگر جنگل کے سارے جانور میرے ساتھ مل جائیں تو پھر سب مل کر شیر کو مار سکتے ہیں۔ لیکن پھر اسے خیال آیا کہ سب کے سب جانور شیر سے بہت ڈرتے ہیں ، میرا ساتھ بھلا کوندے گا۔ پھر بندر ایک منصوبہ بناتا ہے ،وہ جنگل کے سارے جانوروں کو اکٹھا کرتا ہے اور ان سے کہتا ہے۔ دیکھو میرے بھائیو اگر ہم نے جلد ہی شیر کا کچھ نہیں کیا تو وہ آہستہ آہستہ ہم سب کو مار دے گا۔ اگر ہمیں زندہ رہنا ہے تو ہمیں شیر کو مارنا ہوگا۔ سب کے سب جانور شیر کو مارنے کے منصوبے پر متفق ہو جاتے ہیں۔
پھر ایک بوڑھا ہرن پوچھتا ہے ’’شیر کو مارے گا کون‘‘؟ بندر کہتا ہے ہم میں سے تو کوئی شیر کو مار نہیں سکتا۔ لیکن شیر کو شیر تو مار سکتا ہے ناں ! سب کے سب جانور حیران ہو کر پوچھتے ہیں دوسرا شیر کہاں ہے؟ بندر کہتا ہے اب تم سب جائو صبح ملاقات ہوگی۔ وہ سب جانور شیر کے پاس جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بندر آپ کو مروانے کے لیے کسی دوسرے شیر کو جنگل میں لایا ہے جو صبح آپ کو فلاں جگہ مار دے گا۔ شیر ہنس کر کہتا ہے صبح میں نہیں وہ بندر میرے ہاتھوں مرے گا۔ تم سب کو یہ خبر مجھ تک پہنچانے کا انعام ملے گا۔
بچو! صبح ہوتی ہی شیر اس جگہ پہنچتا ہے تو دیکھتا ہے اس کے سامنے کچھ دوری پر ایک شیر بیٹھا ہے۔ ظالم شیر دوسرے شیر کو مارنے کے لیے اس کی طرف بھاگتا ہے اور پھر اچانک وہ ایک بہت گہرے اور بڑے کنوئیں میں گر جاتا ہے اور وہاں پر لگے لکڑیوں کے خنجر اس کے جسم میں پیوست ہو جاتے ہیں اور وہ مر جاتا ہے۔ پھر بندر اپنے اوپر سے شیر کی نقلی کھال اتار تا ہے اور آسمان کی طرف دیکھ کر کہتا ہے ’’ میں نے اپنا وعدہ پورا کر دیا‘‘۔
وہاں پر موجود سب جانور حیران بھی ہوتے ہیں اور شرمندہ بھی۔ پھر بندر ان سب سے کہتا ہے میں جانتا تھا کہ تم سب شیر سے بہت ڈرتے ہو اور میں جو بھی تم سے کہوں گا تم وہ سب شیر کو بتا دو گے اس لئے میں نے یہ چال چلی ،پہلے ایک کنواں کھودا اور اس میں لکڑی کے خنجر بنا کے لگا دئیے۔ پھر تم سب کو ایک جھوٹ بولا کہ اس جنگل میں ایک اور شیر ہے تاکہ تم شیر کو جا کے بتائو اور وہ غصے میں دوسرے شیر کو مارنے آئے اور خود کنوئیں میں گر کر مرجائے اور میرا انتقال پورا ہو جائے۔ پھر جنگل کے سب جانور خوشی خوشی رہنے لگتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں