بلیک ہیڈز چہرے کی خوبصورتی متاثر کرتے ہیں

black_heads

جلد اگر کہیں سے خشک اور کہیں سے آئلی ہو یعنی پیشانی اور ناک والا حصہ چکنا جبکہ بقیہ حصہ خشک ہو تو ایسی جلدکو ملی جلی کیفیت والی جلد کہاجاتا ہے، جس کا سب سے بڑا مسئلہ بلیک ہیڈز ہوتا ہے۔ بعض خواتین ہی نہیں بلکہ مرد حضرات کو بھی بلیک ہیڈز کی شکایت ہوتی ہے۔ خواہ یہ ناک پر ہوں یا ہونٹوں کے اطراف میں، یہ چہرے کی خوبصورتی کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ ان بلیک ہیڈز سے چہرے کی چمک ختم ہو جاتی ہے، خصوصاً سورج کی روشنی میں یہ چہرے پر نمایاں ہو جاتے ہیں۔ ویسے بھی یہ ایک طرح کی دھول ہوتے ہیں، جو مسام کو بند کر دیتے ہیں۔ ان سے نجات حاصل کرنے کے چند آزمودہ طریقے ہیں۔ تھوڑا سا وقت نکال کر ان پر عمل کر کے بلیک ہیڈز سے نجات پائی جا سکتی ہے اور نرم و ملائم جلد کا خواب پورا کیا جا سکتا ہے۔
ملی جلی جلد کی نگہداشت یقیناََ ایک مسئلہ ہے کیونکہ ایسی جلد میں خشک اورچکنی جلد کے بدترین خدوخال پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ متوازن لائحہ عمل اختیار کرنیکی کوشش کرنی چاہیےتاکہ چکنائی بھی ختم ہو جائے اور خشک حصوں کی خشکی دور ہو جائے یعنی چکنے حصے خشک ہو جائیں اور خشک حصے چکنے ہو جائیں۔ ایسی صورتحال میں دو طرح کی اسکن کیئر روٹین اپنانا پڑتی ہے اور جلد کے دو مختلف حصوں کے لیے علیحدہ طرزعمل اپنایا جاتا ہے۔ جب آپ جلد کی دونوں اقسام کی خصوصیات سمجھ جائیں گی اور درست کاسمیٹکس کا انتخاب کرنا سیکھ لیں گی تو ملی جلی جلد کی کلینزنگ انتہائی آسان ہو جائے گی۔
جلد کے متعلق ماہرین کی رائے ہے کہ کسی بھی شخص کی جلد مکمل طور پر خشک، چکنی یا نارمل نہیں ہوتی بلکہ 90فیصد خواتین کی جلد ملی جلی کیفیات کی حامل ہوتی ہے۔ ایسی جلد آنکھوں اور رخساروں پر خشک ہوتی ہے لیکن ٹھوڑی اور ناک پر چکناہٹ نظر آتی ہے۔ ایسی خواتین جن کی جلد بنیادی طور پر خشک ہوتی ہے، ان کے چہرے پر چھائیاں اور جھریاں آسانی سے نمودار ہو جاتی ہیں۔ ایسی جلد نرم و ملائم اور باریک ساخت کی ہوتی ہے۔
ملی جلی جلد کی دیکھ بھال کے لیے بھی سب سے پہلے کلینزنگ کا عمل شروع کیا جاتا ہے۔ خشک حصے ری ہائیڈریٹ جیل سے گیلی روئی کی مدد سے دھوئیں۔ جلد کے چکنے حصوں پر میڈیکیٹڈ سوپ لگائیں اورپھر پانی سے دھوئیں۔ ان حصوں پر جہاں بلیک ہیڈز پیدا ہونے کا خدشہ ہو، بیوٹی grainجیسے کہ بیسن، بھوسی یا مسور کی دال وغیرہ اور اسکن ٹانک کا مکسچر ملیں۔ کچھ دیر کے بعد پانی سے دھولیں اور پھر پورے چہرے کو سکن ٹانک سے ٹون کریں۔ سکن ٹانک روئی سے لگائیں، پھر جلد کو تیزی سے تھپتھپائیں۔ یہ کلینزنگ روٹین صبح اور رات کو سونے سے پہلے اپنائیں۔ رات کے وقت اپنی معمول کی نائٹ کیئر روٹین میں خشک حصوں پر نریشنگ کریم سے ہلکا سا مساج کرنا بھی شامل کریں۔ کوئی ایسی پراڈکٹ منتخب کریں، جو زیادہ چکنی نہ ہو۔ نائٹ کیئر روٹین میں گردن کی کلینزنگ اور مساج بھی شامل کریں۔ 20منٹ بعد گیلی روئی سے کریم صاف کر دیں۔
آنکھوں کے اردگرد کریم لگائیں اور دس منٹ کے بعد گیلی روئی سے پونچھ دیں۔ اگر جلد کے چکنے حصوں پر دھبے یا کیل ہوں تو اینٹی پمپل لوشن (Anti Pimple Lotion) لگائیں اور اسے رات بھر لگا رہنے دیں۔ اگر ایکنی کے داغ رہ گئے ہوں تو داغوں پر Anti Blemish Ointment ملیں اور رات بھر لگا رہنے دیں۔جلد کی دونوں اقسام کے لیے چند کاسمیٹکس ایڈز بھی درکار ہوتی ہیں۔ ایک موزوں سن سکرین، جلد کو ڈی ہائیڈریشن (پانی کی کمی) سے محفوظ رکھتی ہے۔ جب بھی جلد خشک ہوتی ہوئی محسوس ہو تو کوئی ہلکا پھلکا لیکوئیڈموئسچرائزر استعمال کریں۔ عرق گلاب پر مشتمل کوئی سکن ٹانک زیادہ مفید رہتا ہے۔ سکن کیئر روٹین، فیس ماسک کے بغیر ناممکن رہتی ہے۔ کسی بھی ماسک کا انتخاب ضرورت کے مطابق کریں۔ اگر ایکنی یا پھنسیاں اور کیل ہوں تو میڈیکیٹڈ ماسک ہی مناسب رہتا ہے۔
اگر آپ کو اپنی جلد کی نوعیت کے بارے میں معلوم نہیں تو آپ جب بھی چہرہ اور ہاتھ پاؤں دھوئیں تو کولڈ کریم یا لوشن استعمال کریں، اس طرح خشکی سے حفاظت رہے گی۔ چہرے پر موئسچرائزر کی مقدار ذرا کم رکھیں۔ فالتو چکنائی کو روئی یا ٹشو کی مدد سے صاف کریں کیونکہ زائد چکنائی سے چہرے پر دانے نکلنے کا خدشہ ہوتا ہے۔
گیلے تولیے کو چہرے پر رکھ کر ہلکا سا دبائیں یا چہرے پر پانی کے چھینٹے ماریں، پھر تولیے سے چہرے کو تھپتھپائیں اور فوراً موئسچرائزر لگالیں۔ ایک بوتل لوشن ہمیشہ پرس میں رکھیں تاکہ جہاں ضرورت محسوس ہو اسے استعمال کرسکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں