بطور قوم کرونا کو شکست دی جاسکتی ہے، کوئی حکومت اسے شکست نہیں دے سکتی: وزیراعظم عمران خان

imran-khan-karachi

وزیراعظم عمران خان نے سینئر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وائرس سے آگے صورتحال کیا ہوگی کسی کو معلوم نہیں ہے۔لیکن ہم اس کیلئے ایک مکمل سٹرٹیجی بنائی ہے۔ اس میں میڈیا ہائوسز کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ یہ قومی مسئلہ ہے ۔ چین نے بطور قوم اس وائرس کو شکست دی ہے اس وائرس کوکوئی حکومت شکست نہیں دے سکتی۔ ہمارا وفد جو چین سے ہو کر آیا ہے اس میں بھی چینی صدر کا کہنا تھا کہ بطور قوم ہم نے اس کو شکست دی ہے اور انہوں نے اپنی قوم کی تعریف کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت لاک ڈائون کر رہی ہے لیکن ہم ان سے ایک سٹیپ پیچھے ہیں۔کیونکہ ہمیں خدشہ ہے کہ ملک میں ایک نیا بحران پید ا نہ ہو جائے ۔ لوگ لوٹ مار شروع نہ کر دیں۔ ہمیں اپنے لوگوں کا بھی خیال رکھنا ہے اوران کی ضروریا ت کا بھی۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام میڈیا ہائوسز کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اور نمبر گیم سے باہر آنا ہوگا۔ گرمی کی شدت جیسے ہی بڑھے گی اس وائرس کے اثرات کم ہونا شروع ہوجائیں گے۔لیکن اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ ایک دو ہفتے بعد کرونا کی صورتحال کیا ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام وفاقی وزراء ہر وقت اسلام آباد میں میسرہوں گے،کوئی چھٹی نہیں کرے گا، کورونا وائرس کی صورتحال کی یومیہ بنیاد پر جائزہ لیا جائے گا، چین کے تجربات سےبھی سیکھ رہے ہیں۔15جنوری کے بعد چین کی حکومت سے مسلسل رابطے میں رہے۔جبکہ زائرین کی آمد کے بعد ایران سے مسلسل رابطے میں رہے۔ابتدا میں تفتان میں ضروری سہولیات کا فقدان تھا۔بعدمیں وفاقی حکومت اورفوج کے تعاون سے تفتان میں ضروری چیزین پہنچائی گئیں۔تفتان صورتحال پر وزیراعلی بلوچستان سمیت کسی کو موردالزام ٹھہرانا درست نہیں۔چین سےپاکستان میں کورونا کاایک بھی کیس نہیں آیا۔ایران میں طبی سہولیات کے فقدان کے باعث کرونا کیسزمیں تیزی سے اضافہ ہوا۔عالمی برادری کروناوائرس کی صورتحال کے باعث ایران پر عائد پابندیاں فوری اٹھائے۔امید ہے درجہ حرارت میں اضافے سے وائرس کے پھیلاؤ میں کمی آئے گی۔میڈیا مالکان،اینکرز اور صحافیوں سے اپیل ہے کہ سنسنی خیزی سے اجتناب کیا جائے۔کرونا وائرس سے جنگ جیتنے کیلئے قوم کو افراتفری کی بجائے متحد ہونا ہوگا۔تعمیراتی شعبے کیلئے جلد خصوصی مراعات کا اعلان کریں گے۔کرونا وائرس سے متاثر ہ صنعتوں کیلئے جلد خصوصی پیکج کا اعلان کریں گے۔

سینئر صحافیوں سے بات کرنے سے قبل وزیراعظم نے ایک ٹویٹ کیا تھا جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ پاک افغان سرحد کو کھولا جارہا ہے۔
2 مارچ کو افغانستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ کیسز سامنے آنے پر پاکستان نے پاک افغان سرحد 7 روز کے لیے بند کردی تھی۔ 13مارچ کو قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے اقدامات کا اعلان کیا گیا تھا جس میں افغانستان اور ایران کے ساتھ پاکستان کی مغربی سرحد 14 روز کے لیے بند کرنے کا فیصلہ بھی شامل تھا۔
وزیراعظم عمران خان نے اپنے ٹویٹر اکائونٹ پر ایک پیغام جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کر ونا وائرس کے پیش نظر افغان عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا
وزیراعظم نے لکھا ہے کہ ‘کرونا وائرس (COVID-19) جیسی عالمی وبا پھوٹنے کے باوجود ہم اپنے افغان بھائیوں اور بہنوں کی مدد کے لیے پوری طرح یکسو اور پرعزم ہیں۔ بحران کی اس کیفیت میں ہم پوری ثابت قدمی کے ساتھ افغانستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
مسائل تو چلتے ہی رہیں گے ٹریڈ ضرور ی ہے اور ہونی بھی چاہیے۔ افغانستان اس وقت تک کرونا سے بچا ہوا ہے ۔وہاں اس کے رجسٹرڈ مریض تقریباً20ہیں اس صورتحال میں افغانستان سے ٹریڈ کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ دوسرا بلوچستان میں بھی کرونا وائرس کے مریض بہت کم ہیں ۔
ایران سے مزید زائرین تفتان پہنچے کی اطلاعات ہیں جنہیں قرنطینہ میں رکھا گیاہے۔ جبکہ کراچی کا ایکسپوسنٹر قرنطینہ میں تبدیل کر دیا گیاہے۔
چین سے پھیلنے والی یہ عالمی وبا دنیا بھر میں 10 ہزارسے زائد زندگیوں کے چراغ بجھا چکی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں