برصغیر میں مسلمانوں کے عہد کے تاریخی ماخذ

History_books
EjazNews

ہر مسلمان کشور کشا کے علم کے ساتھ، کسی نہ کسی مورخ کا قلم چلتا تھا۔ جو بادشاہ زیادہ عرصے تک حکمراں و کامراں رہے ان کے حالات بھی عموماً زیادہ وضاحت سے محفوظ ہیں۔ مگر یہ تاریخیں بیش تر ”جنگی وقائع“ کی شان رکھتی ہیں۔ جن میں بادشاہوں کے رزمیہ کارنامے درج ہیں۔ کسی رفاہی کام ،درباری جشن و جلوس، بادشاہ کے ذاتی اوصاف و مشاغل کا بھی ذکر آجاتا ہے۔ غیر معمولی حادثات، قحط و وبا، زلزلے ضمناً مذکور ہیں۔ عام اہل ملک سے مورخ سروکار نہیں رکھتا۔ ملکی تجارت صنعت و حرفت، بلکہ حکومت کے نظم و نسق پر بھی ان کتابوں سے بہت کم روشنی پڑتی ہے۔ اور مجموعی طور پر ان سے زمانہ حال کے تاریخی ذوق کی سیری نہیں ہوتی بلکہ سطح بین ناظرین غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ انگریز کے عہد حکومت میں ہندوستان کی جو تاریخیں لکھی گئیں اور مدارس کے نصاب میں داخل ہیں، ان میں کشت و خون کی مسلسل روایتوں کے سوا کچھ نہیں نظر آتا۔ انگریز تاریخ نویس، دوسری ہم عصر تصانیف کی تلاش اور مطالعے کی زحمت نہیں اٹھاتے۔ بعض نے یہ غضب کیا کہ جن ماخذوں سے اپنی تاریخیں مرتب کیں، انہیں بھی صحت یا دیانت داری سے نقل نہیں کیا۔ نتیجہ یہ کہ ان انگریزی کتابوں میں جابجا فاحش غلطیاں پائی جاتی ہیں اور وہ اکثر ایسے اجنبی سیاح کی تحریریں معلوم ہوتی ہیں جو ملک سے واقف ہے نہ اہل ملک سے بلکہ محض چند روز گشت لگا کر بیش تر سماعی روایات اور ذاتی تاثرات قلم بند کرتا چلا جاتا ہے۔
یہ درست ہے کہ انقلابات روزگار نے عہد گزشتہ کی صدہا قلمی کتابوں کو نابود کر دیا اور ان کے صرف نام اور حوالے بعد کی کتابوں میں باقی رہ گئے۔ دوسری خرابی یہ ہوئی کہ جو مخطوطات بچ رہے، ان میں کتابت کی ایسی غلطیاں اور بے احتیاطیاں ہوئیں کہ صحیح پڑھنا اور سمجھنا مشکل ہوگیا۔ زیر نظر عہد کی مشہور تاریخ طبقات ناصری اس کی مثال ہے۔ میجر راورٹی نے اس کا انگریزی ترجمہ بڑی عرق ریزی سے کیا اور مختلف نسخوں کے علاوہ تقریباً ساٹھ دوسری تاریخوں سے مقابلہ کر کے حتی الامکان تصحیح کا حق ادا کیا۔ ان کے فاضلاحانہ حواشی نے ترجمے کی قدر اور بڑھا دی اور ہم نے جا بجا ان سے استفادہ کیا ہے۔
طبقات ناصری کے مولف قاضی منہاج الدین سراج (جوزجانی)ہرات کے ایک ضلع کے ممتاز خاندان علما سے تھے۔ سلاطین عور سے انکا رابطہ تھا اور سلطان معز الدین کا لاہور پر قبضہ ہوا تو مولف کے باپ کو وہاں غوری افواج کا قاضی مقرر کیا گیا۔ اسی بنا پر بعض تذکرہ نویسوں نے قیاس کر لیا کہ وہ لاہور میں پیدا ہوئے ۔ لیکن خود مولف کے بیان سے ظاہر ہے کہ وہ پہلی مرتبہ بیس برس کی عمر میں پاکستان آئے۔ ناصر الدین قباچہ والی سندھ نے بڑی مدارات کی اور اچھ کی مشہور درسگاہ فیروزی کا 634ھ میں صدر معلم مقرر کر دیا۔ مگر دوسرے ہی سال سلطان شمس الدین ال تمش نے سندھ پر فوج کشی کی اور اچھ فتح کر کے دہلی واپس گیا تو قاضی موصوف بادشاہ دہلی کے ہمرکاب تھے۔ وہ پہلے گوالیار کے قاضی پھر دہلی کے مدرسہ ، ناصریہ کے صدر اورسلطان ناصر الدین محمود کے زمانے میں قاضی القضاة اور خطاب صدر جہاں سے مشرف ہوئے۔ طبقات ناصری اور ایک مثنوی (ناصرنامہ) جو اب مفقود ہے اسی فیاض و حلیم بادشاہ کے نام پر تصنیف کی ۔
علوم ظاہری ، قوت تقریر و وعظ گوئی کے علاوہ یہ فاضل مولف طریقت و تصوف میں بھی خاص مرتبہ رکھتے ہیں اور فوائد الفواد میں سلطان المشائخ ؒ ان کے عارفانہ کلام اور وجہ و حال کی چشم دید کیفیت بیان کرتے ہیں۔ اپنے منصف اور عہدے کی وجہ سے انہیں تاریخی واقعات جمع کرنے کا عمدہ موقع ملا اور گو وہ تاریخ کے نقاد نہیں، تاہم اول سے بہت ثقہ اور با وقعت مورخ مانے جاتے ہیں۔ اور چونکہ فارسی زبان کے قدیم نثر نگاروں میں داخل ہیں، پروفیسر براﺅن نے بھی”تاریخ ادبیات ایران” میں بطور خاص ان کا تذکرہ کیا ہے۔ دستور زمانہ کے مطابق قاضی منہاج ابتدا سے آفرینش سے اپنی تاریخ کا آغاز کرتے ہیں لیکن سب سے کارآمد ابواب یا طبقات وہ ہیں جن میں سلاطین غزنی و غور ملوک ، معزی سلاطین اور ملوک شمسی کے حالات درج ہیں۔ آخر میں ایک مفصل باب “فتنہ مغول” پر بھی جو مولف کی زندگی میں برپا ہوا، کتاب کی قدرو قیمت میں اضافہ کر تا ہے۔ یہ تاریخ 657تا 58ھ میں مکل ہوئی۔
(۱)تاج المآثر (۲) عوفی کی تالیفات اور دوسری تاریخیں:
ہندوستان میں مسلمانوں کے ابتدائی زمانے کی مختصر تاریخ ”تاج المآثر“ پرتکلیف انشا پروازی کا نمونہ ہے۔ اس کا ایک نسخہ کتب خانہ آصفیہ ، حیدر آباد میں تھا ۔ غیر معروف ہونے کا ایک سبب یہ ہوگا کہ کتاب دوسری جنگ ترائن سے شروع ہو کرقطب الدین ایبک کے تذکرے اور ال تمش کے ابتدائی زمانہ حکومت کے احوال پر ختم ہو گئی ہے۔ سر ہنری ایسٹ نے اس کا ایک قدیم نسخہ بہم پہنچایا اور اپنی تاریخ ہند کی جلد دوم میں اقتباس دیا ہے۔
تاج المآثر کا مصنف صدر الدین محمد بن حسن نظامی چہار مقالہ کے مشہور مولف نظامی سمر قندی کا فرزند تھا۔ چھٹی صدی ہجری کے اواخر میں ہندوستان آیا اور اس کی تاریخ بھی طبقات ناصری سے کوئی تیس برس پہلے لکھی گئی۔ اس اعتبارسے وہی ہندوستان کا پہلا مسلمان مورخ ہے جس کی اصل کتاب محفوظ رہی۔ مگر تاریخی قدرو قیمت کے لحاظ سے وہ طبقات ناصری کے ایک طبقے کے بھی برابر نہیں بلکہ شوق انشا پر وازی کی بدولت نثریہ شاعری کا نمونہ بن کے رہ گئی ہے۔ جنگ کے اسلحہ، بزم کے لوازم، قدرتی مناظر اور موسموں کے بیان میں ورق کے ورق رنگ دئیے ہیں۔ تحریر میں طرح طرح کی صنعتیں دکھائی ہیں لیکن واقعات کی تفصیل کی طرف مصنف کو چنداں توجہ نہ تھی۔ اسی لیے یہ کتاب مورخ کے زیادہ کارآمد نہیں۔ البتہ یہ مرصع تحریر اس عہد کے ادبی مذاق کا نمونہ دکھاتی ہے اور کبھی کبھی غور و خراسان کے شہ سوار بھی چشم تصور کو ہندوستان کے میدانوں میں جولانیاں کرتے ہوئے نظر آنے لگتے ہیں۔
ایک اور دلچسپ کتاب جو پائے تخت دہلی میں تکمیل پہنچی ”جامع الحکایات“ (جوامع الحکایات و لوامع الروایات) ہے۔ اس کا مولف نور الدین عوفی ساتویں صدی ہجری کے فارسی ادیبوں میں ممتاز تھا۔ اس کا تذکرہ شعرا ”لباب الالباب“ قدیم فارسی شعرا کے احوال میں اجمل مگر خاصی مستند معلومات فراہم کرتا ہے۔ لیکن اسے جامع الحکایات جیسی شہرت نہیں حاصل ہوئی جو اول سے فارسی علم ادب کی نہایت مقبول و منتخب کتاب مانی گئی ہے۔ عونی کاوطن بخارا تھا۔ کفار مغول کی یورشوں نے ان علاقوں میں تباہی پھیلائی تو بہت سے اہل علم و فن ترک وطن پر مجبور ہوئے۔ وہ بھی پھرتا پھراتا ، سندھ آکر قباچہ کی سرکار میں جامع الحکایات، لکھنے پر مامور ہوا۔ کتاب تمام نہ ہوئی تھی کہ وہ حکومت ہی تمام ہو گئی۔ قاضی منہاج الدین کی طرف عوفی بھی ال تمش کے دربار میں دہلی آگیا۔ یہیں یہ ضخیم کتاب (630ھ ۔۔۔1230ئ) میں مکمل اور اپنے مربی نظام الملک جنیدی کے نام سے معنوں کی جوان دنوں سلطنت کا علم دوست وزیر تھا۔
کتاب میں انبیاء، اولیا، ملوک و امرا کے قصے جمع کیے ہیں۔بہت سی روایات تاریخ نگار کے لیے بہترین مصالحہ ہیں۔اگرچہ ان کی ترتیب مختلف ابواب میں اس طرح کی ہے کہ ایک ہی مضمون یا شخص کے حالات متفرق ہو گئے ہیں۔ اصل کتاب (دوسری عالم گیر جنگ سے قبل ) چند ضخیم جلدوں میں چھاپی جارہی تھی مگر یہ کام ادھورا رہ گیا۔ اردو میں پروفیسر شیرانی مرحوم کی مدد سے اس کا ایک بہت اچھا انتخاب انجمن ترقی اردو نے دو جلدوں میں شائع کیا ہے۔
خاندان شمسیہ کے خاتمے کے چند سال بعد کی ایک تاریخ خزائن الفتوح (یا تاریخ علائی) امیر خسروؒ کی یادگار ہے لیکن اس میں علاﺅ الدین خلجی کے چند معرکے الفاظ کی مینا کاری میں معمے بن گئے ہیں۔ بہ خلاف اس کے امیر کی تاریخی مثنویاں سچے واقعات کی سچی تصویریں ہیں۔ اور ان سے سنیں اور جزئیات کی صحت میں بڑی مدد ملتی ہے۔ کسی آئندہ عنوان میں ہم پھر ان پر نظر ڈالیں گے۔ ایک اور نثری تاریخ ضیاءالدین برنی کی ”فیروز شاہی“ ہی کے ملوک شمسی کے خاتمے کے بہت سال بعد فیروز شاہی تغلق کے عہد میں تکمیل کو پہنچی تھی۔ مگر مورخ کو دعویٰ ہے کہ طبقات ناصری نے ہندوستان کی تاریخ کو جہاں چھوڑا تھا اس نے وہاں سے شروع کیا اور اپنے زمانے تک پہنچا دیا ہے۔ برنی بڑی عمر پا کر فوت ہوا۔ اس کے بزرگ بلبن اور خلجی سلاطین کے وقت میں معزز عہدوں پر مامور تھے اور وہ انہی کی روایتیں نقل کرتا ہے۔ لیکن شاید پیرانہ سالی میں کتاب لکھنے بیٹھا تو سنیںن و واقعات کی تحریریں یادداشتیں موجود نہ تھیں۔ حافظے کی مدد سے تاریخ لکھی اور کئی جگہ غلطی کھائی یا ضروری واقعات نذر نسیاں ہو گئے۔بعض انگریز اسے پسند کرتے ہیں کہ وہ معلومات کی کوتاہی، ذاتی رائے زنی سے پوری کرنی چاہتا ہے اور اپنے زمانے (خاص کر محمد تغلق) کے حالات میں اس کے ذاتی تعصبات اتنے دخیل ہیں کہ انہیں بہ جنسہ قبول کرنے میں احتیاط کرنی چاہیے۔
برنی کا ہم عصر عصامی تھا جس کی منظوم تاریخ ”فتوح السلاطین“ آگرہ میں چھپی تھی اور محمد یوشع صاحب کی تصحیح و تحشیہ سے مدراس یونیورسٹی نے الگ شائع کی تھی۔ مصنف کے ذاتی حالات بلکہ پورا نام تک کسی تاریخ میں نہیں ملتا۔ البتہ اس کے جد امجد فخر الملک عصامی (وزیر بغداد) کا ال تمش کے زمانے میں دہلی آکر بسنا تاریخوں میں مذکور ہے۔ مصنف بھی ان لوگوں میں تھا جو دہلی سے دولت آباد منتقل کیے جانے پر محمد تغلق سے سخت بیزار ہوئے۔ مثنوی نظم کرنے کے وقت یعنی 751ھ میں دکن آزاد مملکت بن چکا تھا۔ شاعر کو جلے دل کے پھپولے پھوڑنے میں کسی کا خوف نہ تھا۔ لیکن اس پہلو سے قطع نظر اپنے زمانے کی بہت سی روایتیں عصامی نے وہ لکھی ہیں جو برنی یا اور جگہ نہیں ملتیں اس کی مثنوی شاعری کے اعتبار سے معمولی سہی، ہمارے تاریخی مصادر میں یقینا بہت اچھا اضافہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں