برائی کا انجام

queen-child

پیارے بچو! یہ کہانی مصر کے ایک بادشاہ کی ہے ۔ مصری بادشاہ کی دو بیٹیاں تھیں شہزادی نیلم اور شہزادی شمع۔ شہزادی شمع چودھویں کے چاند کی طرح خوبصورت تھی لیکن شہزادی نیلم سانولی رنگت کی تھی وہ ہمیشہ اپنی رنگت کی فکر میں گھلتی رہتی وہ ہر وقت شہزادی شمع سے لڑتی رہتی لیکن شمع نیلم سے پیار بہت کرتی تھی۔ملکہ بھی شہزادی نیلم کو سمجھاتی رہتی کہ وہ بدصورت نہیں ہے لیکن نیلم کچھ نہیں جانتی تھی۔ وہ یہ ہر وقت سوچتی رہتی کہ کس طرح شہزادی شمع کو نیچا دکھایا جائے ایک دن اس نے ملکہ سے شکار پر جانے کی اجازت لی اور گھوڑے لے کر نکلی۔ جنگل میں پہنچ کر اس نے اس شخص کی تلاش شروع کی۔ جس کے بارے میں اسے پتہ چلا کہ اس کے پاس ایسی جڑی بوٹیاں ہیں جن سے بہت موثر کام لئے جاسکتے ہیں آخر اس نے اس شخص کو تلاش کر لیا اور اسے بتایا کہ وہ ایسی جڑی بوٹی چاہتی ہے جس سے اس کا مسئلہ حل ہو جائے ۔ اس شخص نے پوچھا کہ تم کیا چاہتی ہو۔ شہزادی نیلم نے بتایا مجھے ایسی جڑی بوٹی دو جس کے کھانے سے شہزادی شمع کی رنگت کالی ہو جائے اور ایک ایسی بوٹی بھی دو جس کو کھانے سے میں گوری ہو جائوں۔ وہ شخص کہنے لگا کہ اس کام کے لئے میں دس ہزار اشرفیاں لوں گا۔ اگر دے سکتی ہو تو کل آکر لے جانا ۔ شہزادی نیلم کہنے لگی کہ میں ضرور دس ہزاراشرفیاں لائوں گی۔ لیکن میں کل نہیں آسکتی ،میں ایک ہفتے بعد آئوں گی یہ کہہ کر وہ واپس محل آگئی اور شہزادی شمع کا خیال رکھنے لگی ،پہلے شمع حیران ہو گئی کہ یہ میری بہن تو کبھی میرے ساتھ اچھی طرح بات نہیں کرتی اور اب اتنا خیال رکھتی ہے۔ ایک ہفتے بعد شہزادی نیلم پہلے شاہی خزانے گئی اور دس ہزار اشرفیاں چوری کر لیں۔ پھر جنگل آگئی اور وہاں موجود آدمی کو اشرفیاں دیں اور اس سے دونوں جڑی بوٹیاں بھی لے لیں اور تیزی سے محل کی طرف روانہ ہو ئی تاکہ جلد سے جلد وہ شہزادی شمع کو جڑی بوٹیاں کھلا دے۔ اس تیزی میں وہ گھوڑے سے گر گئی اور بوٹیاں آپس میں مل گئیں۔ شہزادی نیلم کو پتہ نہ چل سکا۔ گھر آکر اس نے ایک جڑی بوٹی کو پانی میں ڈالا اور شربت تیار کر کے شہزادی شمع کو پلا دیا۔ دوسری جڑی بوٹی خود پانی میں ڈال کر پی لی۔ صبح اٹھ کر اس نے جیسے ہی اپنی شکل آئینے میں دیکھی، اس کی چیخ نکل گئی۔ شہزادی شمع جلدی شہزادی نیلم کے کمرے میں پہنچی اور دیکھا تو شہزادی نیلم حد سے زیادہ بد صورت ہو چکی تھی۔ جیسے کوئی چڑیل ہو، بادشاہ اور ملکہ بھی آگئے۔ شہزادی نیلم بے ہوش ہو چکی تھی جب اسے ہو ش آیا تو شہزادی شمع پاس موجود تھی۔ شہزادی نیلم نے شمع سے معافی مانگی اور سب کچھ بتایا شہزادی شمع نے شہزادی نیلم کو کہا مجھے اس آدمی کا پتہ دو۔ میں خود جا کر اس سے جڑی بوٹی لے کر آتی ہوں لیکن نیلم نے منع کر دیا اور خود کو ایک کمرے میں محدود کر دیا اس نے کہا میرے لئے یہی سزا ہے جو دوسروں کے لئے برا سوچتا ہے وہ خود نقصان اٹھاتا ہے بادشاہ، ملکہ نے شہزادی شمع کی شادی کر دی۔ شہزادی نیلم نے شادی سے انکار کر دیا اورخود کو ایک کمرے میں مصروف کر لیا اور اپنے گناہ پر استغفار کرنے لگ پڑیں۔
پس پیارے بچوں !جو شخص دوسروں کے لئے برا سوچتا ہے۔حقیقت میں وہ اپنے لیے برا کر رہا ہوتا ہے۔ اللہ اس کو ضرور سزا دیتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں