باکسنگ کی دنیا کے بادشاہ محمد علی کی یاد میں

Muhammad_Ali
EjazNews

باکسنگ کی دنیا کے بادشاہ کی 6جون کو انتہائی خاموشی سے گزر گئی۔ صدر ٹرمپ نظریاتی سیاسی اختلافات کے باوجود محمد علی کے پرستاروں میں شامل ہیں۔
دنیا میں چند ایک ہی ایسی شخصیات گزری ہیں جو اپنی قابلیت ، اہلیت، صلاحیت اور شہرت میں اپنے شعبے پر بھی حاوی ہو گئیں بلکہ وہ شعبہ ہی ان کے نام سے پہچانا جانے لگا۔ ایسے لوگ اگرچہ دنیا میں زیادہ نہیں ہے۔ مائیکل جورڈن اور لی برا جینز کے نام سے کون واقف نہیں ان کی حیثیت اور مرتبہ ان کے کھلاڑی ہونے سے کہیں برتر تھا۔ وہ میدان میں اترتے تو جیسے باسکٹ بال کے پرستاروں میں نیا جوش و جذبہ پیدا ہو جاتا ۔ ٹینس کی دنیا میں سیرینا ویلیم ٹینس کی پہچان بن گئے۔ ان سے پیار کرنے والوں کی تعداد بے شمار ہے۔ کم از کم اتنے ہی لوگ ٹام بریٹی سے نفرت بھی کرتے ہوں۔ نیشنل فٹ بال لیگ کے وہ اہم ترین سربراہ تھے۔ ان تمام شخصیات کے باوجود محمد علی کو بلاشرکت غیرے کھیلوں کی دنیا کا سب سے مایا ناز کھلاڑی تصور کیا جاتا ہے۔ اس جیسا باکسر باکسنگ رنگ میں آج تک نہیں اترا۔ اس کی پرکشش شخصیت اور کرشماتی شخصیت نے اسے کروڑوں لوگوں کے دل کی آواز بنایا اس نے باکسنگ کو بھی ایک نئی پہچان دی۔ اس کے نظریات اور خیالات سے باکسنگ میں کبھی کبھی اس کے چاہنے والوں اور اختلاف رکھنے والوں میں تقسیم ہوئی۔ اختلاف رکھنے والے بھی اس کے کھیل کے دلدادہ تھے۔ جون 2016ءمیں انتقال کے بعد بھی محمد علی لاکھوں کروڑوں لوگوں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہے۔ کھیل اور ثقافت کی دنیا کے اس آئی کون کی زندگی کے بارے میں وہ باتیں آپ کو بتانا چاہیں گے جو شاید آپ کی نظر سے محو ہو گئی ہوں۔
میلکم میکس محمد علی کا جگری یار تھا۔ مگر پتہ نہیں کیوں 1964ءمیں میلکم میکس نے گھانا میں اس کی طرف دست شفقت بڑھایا تو محمد علی نے پیٹھ پھیر لی۔ محمد علی کی سرد مہری پر میلکم ششدر رہ گیا کچھ نہ بولا اور پھر کبھی نہ بولا۔
اپنے ایک پنچ سے حریف کا منہ توڑ دینے والا باکسر محمد علی پارکسنز کے مرض میں مبتلاتھا۔ کچھ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ محمد علی کے ہاتھوں میں لرز ا پارکسنگ کی وجہ سے ہی طاری ہوا اس کے ہاتھ کپکپاتے تھے مگر نہیں علی کہتا ہے پارکسنز اس کے دماغ کو زخمی کرنے میں ناکام رہا ۔ اس مرض کا باکسنگ سے کوئی تعلق نہیں۔
لیلیٰ علی محمد علی کی پیاری بیٹی ہے۔ وہ اسے دل وجان سے زیادہ چاہتا تھا۔ محمد علی خود تو خواتین کی باکسنگ کے شدید خلاف تھا کہتا تھا بچیوں کا چہرہ ہی ان کی پہچان ہوتا ہے باکسنگ سے ان کا حسن بگڑ سکتا ہے۔ باکسنگ کے ضربات انہیں چھاتی کے سرطان میں مبتلا کر سکتی ہے اسی لیے اس نے کبھی خواتین کی باکسنگ کی حمایت نہیں کی۔ لیکن ان کی چہیتی بیٹی لیلیٰ بھی باکسنگ کی ملکہ ثابت ہوئیں۔ انہوں نے اب تک 24بڑے مقابلوں میں حصہ لیا اور ناقابل تسخیر ہیں۔ ان کا عالمی ریکارڈ کوئی توڑ سکا اور نہ شاید تو ڑ سکے۔ کسی ایک مقابلے میں بھی لیلیٰ کو کوئی ہرا نہ سکا۔
محمد علی کا باپ آئرش النسل تھا۔ اس کے آباﺅ اجداد انگریز تھے۔ مگر وہ امریکہ میں گوروں کے حق کی لڑائی لڑنے والوں رابرٹ لی کا قریبی رشتہ دار بھی تھا۔ جنرل جارج اور کیٹی چورچ بھی اس کے قریبی رشتہ دار تھے۔ مگر علی اور ان کے نظریات میں ذرا ہم آہنگی نہ تھی۔ دونوں ایک دوسرے کے قد آور حریف سمجھے ہی نہیں جاتے تھے حقیقت میں بھی تھے۔
دنیا کا یہ عظیم ترین باکسر ایک مقابلے کا 60لاکھ ڈالر معاوضہ لیا کرتاتھا۔ ایک مرتبہ محمد علی اور انتونیو انوکھی 1976ءمیں ایک دوسرے کے مقابل آئے۔انوکھی نے محمد علی کو پنج مارا جواباً محمد علی نے 6گھونسے مارے۔ انوکھی سمجھا شاید محمد علی حقیقی فائٹر نہیں اس کے مقابلے پہ کوئی اترا ہی نہیں لہٰذا وہ میدان کا کنگ بنا رہا۔ ادھر محمد علی سوچتا رہا کہ انوکھی کبھی اس کے مقابلے کے قابل نہیں وہ اس کے سامنے کھڑا ہی نہیں ہو سکتا۔ انوکھی کے ایک پنج سے محمد علی کی رگوں میں خون جم گیا تھا اور وہ ہمیشہ جما رہا اور پھر وہ کبھی پوری طرح صحت یاب نہ ہوسکا اور یہ پنج کھا کر محمد علی کو دو ہفتے ہسپتال میں گزارنے پڑے تھے۔
سونی لسٹن ورلڈ چیمپیئن تھا باکسنگ کی دنیا میں اس کا سکہ چلتا تھا اور محمد علی چیلنجر تھا۔ جس روز سوونی لسٹن نے اس کا چیلنج قبول کیا۔ وہ علی کے لیے بہت خوبصورت اہم دن تھا اس روز محمد علی ایک بس پر سوار ہوا بس پر کھا تھا لسٹن کو آٹھویں راﺅنڈ میں شکست ہوگی۔ اس بس کے پیچھے پریس کی گاڑیوں کی ایک طویل قطار تھی اس روز علی نے خوشی میں پہلی مرتبہ بس چلائی اور بہت اچھی چلائی۔ علی اپنے وعدے کے مطابق آٹھویں راﺅنڈ میں سونی لسٹن کو چاروں شنے چت کرنے میں کامیاب ہو گیا۔
1960ءمیں محمد علی گولڈن گلوز کا پہلا میچ جیتا اسی روز اس نے کہہ دیا تھا میں دنیا کا آنے والا عالمی چیمپیئن ہوں اور اس کے صرف 4سال بعد اس نے سونی لسٹن سے عالمی ٹائٹل چھین لیا۔ دنیا کا یہ مایہ ناز باکسر 25سال کی عمر سے 29سال کی عمر تک سپریم کورٹ میں جاری مقدمات کے دوران کسی میچ میں حصہ نہ لے سکا۔ امریکی حکومت نے ویتنامی فوجیوں سے انکار کرنے پر اس کا لائسنس ضبط کر لیا تھا۔ اس لائسنس کے حصول کے لیے وہ سپریم کورٹ میں مقدمات میں الجھا ہوا تھا۔
محمد علی نے 4شادیاں کیں اور اس کے 6بچے تھا۔ اس کی پہلی شادی 1964ءمیں ہوئی پھر 1967اور پھر 1977ءمیں بھی دولھا بنا۔ 19نومبر 1967کو وہ لونی علی کے ساتھ رشتہ ازدواج میں بندھا یہ شادی 30سال چلی۔ اس سے ان کی کوئی اولاد نہ ہوئی مگر ایک لے پالک بیٹا ہے۔
پابندی کے بعد باکسنگ کی دنیا کو وہ بڑی حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتا تھا مگر اس کے پاس پوری دنیا کھلی تھی وہ کہیں بھی کچھ بھی کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا چنانچہ براڈ وے میوزک کا رکن بن گیا۔ وہ ایک ہفتہ اس گروپ سے جڑا رہا۔ اس نے اپنی ایک البم بھی بنائی عنوان تھا میں ہی عظیم ترین ہوں۔ آئی ایم دی گریٹسٹ۔ یہ البم کولمبیا ریکارڈز میں سونی لسٹن کے ساتھ رنگ میں اترنے سے پہلے ہی لانچ کر دی تھی ان سب کو محمد علی کی صلاحیتوں پر پورا اعتماد تھا۔
جنگ ویتنا م میں حصہ لینے سے انکار کے بعد نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے کارندے اس کے پیچھے لگ گئے۔ مارٹن لوتھر کنگ اور 1650دوسری سرکردہ شخصیا ت کی طرح اس کے ٹیلی فون اور خطوط بھی ٹیپ کیے جانے لگے۔
طویل پابندی کے بعد وہ 1970ءمیں دوبارہ رنگ میں اترا۔ جوانی کے ساڑھے چار سال عدالتی امور اور حکومتی جھگڑوں میں گزارنے کے بعد وہ ایک غیر تربیت یافتہ باکسر تھا۔ مگر آتے ہی اس نے تیسرے ہی راﺅنڈ میں اپنے زمانے کے باکسنگ کے ہیرو جیری کوائری کو چاروں شانے چت کر دیا۔ اس کا کوچ اینجلو ڈونڈی کا کہنا ہے کہ محمد علی ہر مرتبہ نئی تکنیک کے ساتھ رنگ میں اترتا تھا۔ 1964ءکا باکسر 1974ءکے باکسر سے کہیں مختلف تھا۔ مکے کی رفتار اور حرکات میں مخصوص ہم آہنی اس کی پہچان تھی۔ اس کا آئی کیو لیول دوسرے کہیں بہتر تھا۔ مگر دوسری مرتبہ اس نے ان چیزوں کی کافی کمی تھی۔
عالمی میڈیا کا وہ ہیر و تھا اس سے زیادہ مائیکل جارڈن کے سوا کسی کی تصویر نہیں چھپی ہر جریدے کے سرورق پر اسی کی تصویر نمایاں ہوتی تھی۔
علی اپنے پرستاروں سے بہت محبت کرتا تھا کبھی ان کے خط ، پیغام یا ٹیلی فون کو ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کی ہمت نہیں کی۔ وہ ہر خط فون اور میل کا جواب دیا کرتا تھا۔پارکسنز کی بیماری کے دوران بھی اس کی یہ عادت ختم نہ ہوئی۔
2001ءمیں علی کے نام سے اس کی زندگی پر ایک فلم بنی۔ اس فلم کے ہیرو ول سمتھ تھے۔ مگر وہ فلم میں کام کرنے پر راضی نہ تھا۔ ول سمتھ اپنے ہی موڈ کا آدمی تھا۔ چنانچہ محمد علی اپنے اہل خانہ کے ساتھ خود اس کے گھر پہنچا اور وہ ڈائریکٹر مائیکل مان کی تجویز کے عین مطابق ولیم سمتھ کو راضی کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ وہ 1964ءسے 1978ءتک باکسنگ کی دنیا پر چھایا رہا ۔ ہیوی ویٹ چیمپیئن شپ کا ٹائٹل تین مرتبہ جیتنے کے بعد اس نے سب سے زیادہ عرصے تک باکسنگ کے رنگ پر حکمرانی کی۔ اور کوئی فنکار اتنے عرصے تک اپنے پاس نہ رکھ سکا۔ جو لوئس نے ہیوی ویٹ باکسنگ کا ٹائٹل 1937ءسے 1949ءتک اور راکی مارشیانو نے 1952ءسے 1956ءتک رنگ پر حکمرانی کی۔ مگر علی ان کے ریکارڈز کو نہایت آسانی سے توڑنے میں کامیاب رہا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں