ایک تکلیف دہ مرض اپنڈکس

appendix_pain
EjazNews

اپنڈکس ایک عام سا لفظ ہے اور ہم میں سے ہر ایک اس لفظ سے واقف ہے۔کیا آپ کو اپنا بچپن یاد ہے جب آپ کھانا کھانے کے بعد اور وہ بھی پیٹ بھر کھا لینے کے بعد دوڑنا، بھاگنا اور کھیلنا شروع کرتے تھے تو آپ کی امی، ابو یا گھر کا کوئی فرد آپ پر شور کرنے لگتا تھا۔ خبر دار کھانا کھانے کے بعد کھیلنا نہیں ہے۔ دوڑنا نہیںورنہ اپنڈکس کا درد ہونے لگے گا۔ اس قسم کی باتیں بتائی جاتی ہوں گی ۔ یعنی اس سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ اس قسم کی باتیں بہت پہلے سے چلی آرہی ہیں۔
آخر ایسا کیوں کہا جاتا تھا؟:
کیا جواز تھا ان باتوں کا ؟ جو کھانا آ پ نے کھایا ہے وہ ایک تھیلی میں جا کر جمع ہو جاتا ہے۔ جو تھیلی چھوٹی اور بڑی آنت کے درمیان ہوتی ہے اور جب آپ بھاگ دوڑ کرتی ہیں تو اس تھیلی پر زور پڑتا ہے۔
وہ لوگ یہی کہا کرتے تھے اور ہو سکتا ہے کہ اس وقت آپ یہ باتیں سن کر ہنس پڑتی ہوں یا حیران رہ جاتی ہوں۔
لیکن یہ دراصل ماں کی محبت تھی کیونکہ ان کو اپنڈکس کے بارے میں یہی معلوم تھا۔ اس کے علاوہ وہ اور کچھ نہیں جانتی تھیں اور خود میں اس زمانے میں ایسا ہی سمجھا کرتی تھی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ میں نے اس نصیحت پر عمل کرتے ہوئے خالی پیٹ بھی بھاگ دوڑ کی ہے۔ اور اس کا نتیجہ بھی یہی ہوا۔ یعنی پیٹ میں درد ہونے لگا تھا۔
تو پھر سوال یہ ہے کہ یہ اپنڈکس ہے کیا بلا۔
یہ مضمون اپنڈکس کے بارے میں کئی سوالوں کے جواب دے گا۔ اور یہ بتانے کی کوشش کی جائے گی کہ اپنڈکس ہے کیا چیز اور کوئی ضروری نہیں ہے کہ اس کادرد اس وقت ہو جب آپ خوب پیٹ بھر کر کھانے کے لئے بھاگ دوڑ کا کام کریں۔
یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ہم میں سے بہت سوں کو اس چھوٹے سے عضو کے بارے میں معلوم ہی نہیں ہے۔ جو ہمارے پیٹ کے دائیں حصے میں ایک تھیلی کی صورت میں ہوا کرتا ہے اور جب وہ اپنی موجودگی اور اپنے وجود کا احساس دلانا شروع کرتا ہے اس وقت بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے اور ہم تکالیف میں مبتلا ہو چکے ہوتے ہیں۔
علامات:
اپنڈی سائی ٹیز کی ابتدا کچھ اس انداز سے ہوئی ہے۔
اس کا مریض ابتدامیں اپنی ناف کے پاس ہلکایا تیز درد محسوس کرتا ہے۔ذرا سی حرکت بھی اس درد کی شدت کو تیز کر دیتی ہے۔ مثال کے طورپر ہلکی سی کھانسی یا چھینک سے بھی اس درد کی شدت میں تیزی آجاتی ہے۔
مریض کو کمزور ی، غنودگی محسوس ہونے کے علاوہ اس کی بھوک میں بھی کمی ہو جاتی ہے۔ عام طور پر اس کے مریض کو قبض کی شکایت ہو جاتی ہے۔ لیکن کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو بد ہضمی ہو جاتی ہے۔ اور پیٹ خراب ہو جاتا ہے۔
مریض کو ہلکا ہلکا بخار بھی ہو سکتا ہے جبکہ بچوں کو اپنڈکس کا شکار ہونے کے بعد تیز بخار ہو جاتا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ نبض کی رفتار بھی بہت بڑھ جاتی ہے۔
پہلی علامت کے چند گھنٹوں بعد وہ درد ناف کے پاس سے منتقل ہو کر پیٹ کے دائیں نچلے حصے میں چلا جاتا ہے۔ جہاں اپنڈکس واقع ہے۔اس کے بعد وہ پورا حصہ انتہائی تکلیف دہ ہو جاتا ہے۔ اور درد کی لہریں پورے پیٹ کو متاثر کرتی رہتی ہیں۔
جیسے جیسے درد بڑھتا جاتا ہے اور بخار کی شدت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ ویسے ویسے ایک اور خطرہ سامنے آنے لگتا ہے اور وہ ہے اپنڈکس کے پھٹ جانے کا اور یہ ایک بہت خطرناک صورت حال ہوا کرتی ہے۔ اپنڈکس کے پھٹنے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس میں پیپ بھرتی جاتی ہے اور یہ مسلسل ورم کر تے کرتے اپنی انتہا کو پہنچ کر پھٹ جاتا ہے اور جب اپنڈکس پھٹ جائے تو ارد گرد کے اعضا بری طرح متاثر ہو جاتے ہیں۔ ہر طرف انفیکشن پھیل جاتا ہے زہر بھر جاتا ہے۔
اگر بخار کے ساتھ غنودگی اورپیٹ کے اس حصے میں درد ہو تو دیر کرنے اور ادھر ادھر کی دوائیں استعمال کرنے کی بجائے فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ اس قسم کادرد ڈاکٹر کی فوری توجہ چاہتا ہے تاکہ اگر اپنڈکس ہو تو اس کی تشخیص کر کے فوری علاج شروع کر دے۔
یہ درد ہر ایک کو ہو سکتا ہے لیکن عام طور پر اس سے تیس سال تک کی خواتین اور مردوں کے مبتلا ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔
وجوہات:
اپنڈی سائی ٹیز (Appendicities) آخر ہے کیا؟۔
اپنڈکس ایک چھوٹی تھیلی سی ہوتی ہے۔ جو بڑی اور چھوٹی آنتوں کے سنگم پر واقع ہوتی ہے ۔ اپنڈکس بنیادی طور پر دوسرے عضو کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔ لیکن بذات خود اس کا اپنا کوئی خاص عمل نہیں ہوا کرتا۔ یعنی جس طرح انسانی جسم کے دوسرے اعضا کام کیاکرتے ہیں اپنڈکس کا ایسا کوئی کام نہیں ہے۔
اپنڈکس انسانی جسم کا کوئی فائدہ پہنچانے والا عضو تو نہیں ہے۔ لیکن جب اس میں خرابی واقع ہو جائے تو یہ نقصان ضرور پہنچا سکتا ہے اور یہ خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب فاضل غذائیں ذرات اور دیگر غیر ضروری چیزیں دونوں قسم کی آنتوں کے درمیان رکاوٹ پیدا کر دیتے ہیں اور اس رکاوٹ کی وجہ اپنڈی سائی ٹیز کے بیکٹریا پیدا ہو جاتے ہیں اور انفیکشن اور انفلامیشن کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔
اپنڈی سائی ٹیز کی پہچان کے طریقے:
اس مرض کی تشخیص کا طریقہ یہ ہے کہ ڈاکٹر حضرات اپنڈکس کی جگہ پیٹ کو دبا کر دیکھتے ہیں۔ یہ طریقہ بہت عام اور کارآمد ہے۔ اگر کوئی اس مرض میں مبتلا ہے تو اس طرح وہ اپنے پیٹ میں بہت تکلیف محسوس کرے گا۔
دوسرا مرحلہ خون کی جانچ کا ہے۔ اگر خون میں سفید ذرے (Cell) معمول سے زیادہ مقدار میں پائے جائیں تو یہ مرض یقینی ہو جاتا ہے اور سفید سیل کے زیادہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ مریض کے پیٹ میں انفیکشن کا عمل شروع ہو چکا ہے اور سفید سیل کی مقدار زیادہ اس لئے ہوتی ہے کہ جسم اس مرض سے نمٹنے کے لئے سفید سیل کی پیداوار خودبخود بڑھا دیتا ہے۔
اس مرض کی جانچ بہت احتیاط سے کی جاتی ہے ۔ کیونکہ اس سے ملتی جلتی اور بھی کئی چیزیں ہو سکتی ہیں۔ جیسے گردوں میں پتھری، انفیکشن بلیڈ (لبلبہ) کی خرابی وغیرہ۔ اس لئے آخری علاج سے پہلے حتمی طور پر اس نتیجے پر پہنچا جائے کہ مرض وہی ہے۔
خواتین کی جانچ کے سلسلے میں اور بھی احتیاط سے کام لینا پڑتا ہے۔ کیونکہ حمام کے دوران بھی ایسی علامتیں ہو جاتی ہیں جو اپنڈی سائی ٹیز سے ملتی جلتی ہوتی ہے۔
علاج:
اپنڈی سائی ٹیز کو روکا نہیں جاسکتا۔ بہر حال مناسب اور بروقت علاج ے ذریعے اس پر قابو پایا جاسکتا ہے وہ لوگ جو اس مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں انہیں اپنے ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر کھانے پینے سے پرہیز کرناچاہئے۔ دواﺅں کے استعمال میں بھی احتیاط برتنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
کوئی بھی پینے کا سیال مشروب ان کی آنتوں کی حرکات کو بڑھا سکتاہے اور اس طرح اپنڈکس کے پھٹ جانے کا خطرہ لا حق ہو جاتا ہے۔
اپنڈکس کے علاج کا سب سے موثر اور طریقہ آپریشن ہے۔ اس کے بعد مزید انفیکشن سے محفوظ رہنے کے لئے مریض کو اینٹی بائیٹک دوائیں دی جاتی ہیں۔ بہت سے لوگوں کے اپنڈکس نکالے جاسکتے ہیں اور کوئی بھی شخص ان کے بغیر بھی معمول کی زندگی گزار سکتا ہے۔ بہت سے احتیاط پسند ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنڈکس کی کسی تکلیف کے نہ ہونے کے باوجود اپنڈکس کو آپریشن کے ذریعے نکلوا لیا ہے۔کیونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے۔
مختصر علامات:
اگر آپ کو ان میں سے کوئی بھی علامت محسوس ہو تو فوری طور پر اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
ناف کے نیچے درد کا ہونا۔بخار، قبض یا اس کے برعکس، نبض کی رفتار کا تیز ہونا، چندگھنٹوں کے بعد درد کا ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل ہو نا، بھوک کی کمی، غنودگی وغیرہ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں