اگر دنیا دیکھنی ہے تو پہلے خوشبوئوں کا شہر دیکھنا پڑے گا

paris

یوں تو دنیا میں بے شمار ایسے خطے اور ممالک موجود ہیں، جو اپنی دلکشی اور خوبصورتی ہی کی وجہ سے جانےپہچانے جاتے ہیں، لیکن ان ممالک میں یورپ کی حیثیت قدرے منفرد اور اپنی مثال آپ ہے۔ یہاں آپ کو ہرسُو ہریالی، شیشے کی مانند بہتے صاف شفّاف پانی کے جھرنے، کھلی کھلی کشادہ سڑکیں جا بہ جا نظر آئیں گی۔ یورپی شہریت رکھنے والے باشندے برطانیہ سے فرانس کا سفر عموماً ہوائی جہاز سے کرتے ہیں اور لانگ ڈرائیو کے شوقین اپنی ذاتی گاڑی میں بائی روڈ بھی سفر کرتے ہیں۔ تاہم، سفر کا ایک اور ذریعہ بھی ہے، جو ’’یورو ٹنل‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 50.45کلومیٹر طویل یہ سرنگ، برطانیہ کو فرانس سے ملاتی ہے۔ 1988ء میں شروع ہونے والا ’’یورو ٹنل‘‘ کا منصوبہ پائیہ تکمیل کو پہنچا چکا ہوا ہے۔یورو ٹنل سے ٹرین دو سو پچاس فٹ نیچے گہرے نیلے پانی سے گزرتی ہے، توبیش ترمسافر دم سادھے یہ مناظر دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ یورو اسٹارٹرین، سینٹ پین کرس انٹرنیشنل اسٹیشن ، لندن سے چلتی اور یورپ کے تین مختلف مقامات تک جاتی ہیں۔ اچھی ٹرین سروس کسے کہتے ہیں، اس کا اندازہ یورو اسٹار میں بیٹھ کر ہوتا ہے۔یورو اسٹار میں سفر کے دوران مسافر، آرام دہ نشستوں پر بیٹھ کر راستے میں آنے والے ہرے بھرے دلکش مناظر کو گویا آنکھوں میں قید کرتے جاتے ہیں۔ لندن سے فرانس کا سفر دو گھنٹے کا ہے، جو بِنا جھٹکے کھائے کب تمام ہوجاتا ہے، پتا ہی نہیں چلتا۔ عموماً فرانس کا سفر کرنے والے سیاحوں کی اصل دلچسپی کا مرکز اس کا مشہور شہر اور دارالحکومت ’’پیرس‘‘ ہی ہے۔ یہاں آنے سے قبل آن لائن بکنگ کروالی جائے، تو بہتر رہتا ہے کہ ہوٹل ڈھونڈنے کی کوفت سے نجات مل جاتی ہے۔ پیرس میں موسمِ گرما میں بھی شام کے اوقات میں خنکی کا احساس ہوتا ہے، مگر خوابوں کے شہر کو دیکھنے کی تمازت ہر احساس پر بھاری ہوجاتی ہے اور سرِشام ہی سڑکیں سیاحوں سے بھرجاتی ہیں۔ یورپ کے دیگر ممالک کی طرح پیرس میں بھی صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔صفائی ستھرائی اور تزئین و آرائش شہری حکومت کی اوّلین ترجیحات میں شامل ہے، کیونکہ سیاحت کو کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کا ایک اہم حصّہ تصور کیا جاتا ہے اور سیاحوں کی آمد سے ہونے والی آمدنی ملک کے ترقیاتی کاموں میں معاون کا کردار ادا کرتی ہے۔ کاش، ہمارے ملک پاکستان میں بھی اسی جذبے سے سیاحتی علاقوں پر خصوصی توجہ دی جائے۔
یورو ٹرین سے یہاں آنے والے سیاح اپنی سیر کا آغاز عموماً پیرس کے تجارتی علاقے سے کرتے ہیں۔ فرینچ زبان میں ’’گرے دی نارتھ‘‘ کہلانے والا یہ علاقہ سیاحوں کے لیے بہت مشہور ہے، کیونکہ یہاں دنیا کے مشہور و معروف برانڈز کی بے شمار دکانیں موجود ہیں۔ کاسمیٹکس، کپڑوں، جوتوں سمیت ہر چیز با آسانی دستیاب ہے۔ تجارتی مرکز ہونے کی وجہ سے یہاں ہوٹلز کی بھی بھرمار ہے، جہاں کھانے پینے کی حلال اشیاء نسبتاً سستے داموں دستیاب ہیں۔ یورپ میں فرانس وہ ملک ہے، جہاں مسلمانوں کی تعداد 8.4 ملین ہے۔ اسلام، فرانس میں تیزی سے پھیلنے والا دوسرا بڑا مذہب ہے،اس لیے حلال فوڈ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔’’ گرے دی نارتھ‘‘ پیرس کے ان علاقوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں حلال کھانوں کے ریسٹورنٹس ڈھونڈنے کے لیے زیادہ تگ و دو نہیں کرنی پڑتی۔ یہاں ہر کسی کو اپنی پسند کا کھانا اپنے اصل ذائقے کے ساتھ مل جاتا ہے، حتیٰ کہ صبح سویرے حلوہ پوری کے شوقینوں کے لیے گرم گرم حلوہ پوری، آلو بھجیا کے ساتھ عام ہوٹلز میں دستیاب ہے۔ ساتھ ہی الائچی کی خوشبو میں بسی چائے ایک دم ہشاش بشاش کردیتی ہے۔ عموماً سیاح یہاں سے ناشتے کے ساتھ چائے پی کر تازہ دم ہوکے ہی سفر پر نکلتے ہیں۔ جہاں سے ان کی پہلی منزل مشہور ’’ایفل ٹاور‘‘ ہی ہوتا ہے۔ مکمل طور پر مضبوط لوہے کے بنے اس بلند بالا ٹاور کا نام ’’گوستو ایفل‘‘ نامی انجینئر کے نام پر رکھا گیا ہے، جس کی کمپنی نے اسے ڈیزائن اور تعمیر کیا تھا۔ 1,063 فٹ طویل اس ٹاور کو دیکھنے کے لیے ہر سال لاکھوں افراد پیرس کا رُخ کرتے ہیں۔ بلاشبہ، ٹنوں من وزنی یہ ٹاور پیرس کی شان ہے۔ ٹاور کے اردگرد ایک پارک بھی تعمیر کیا گیا ہے اور پارک کے کنارے کنارے لگے خوش نُما پھول ارد گرد کے ماحول کو بے حد حسین بناتے ہیں۔ جبکہ پارک میں داخل ہونے کے لیے ایک لمبی قطار لگتی ہے۔ ایفل ٹاور کے اوپر جانے کے لیے ایک خوبصورت راستہ (ریسٹورین) بنایاگیا ہے، جہاں سے گزرتے ہوئے اکثر لوگ نیچے دیکھنے کی ہمت نہیں کرپاتے۔ رات کے وقت ٹاور میں نصب چھوٹی چھوٹی لائٹس آن ہوجاتی ہیں، تو اسٹیل کے اس زنگ زدہ ٹاور کی خوبصورتی دوچند ہوجاتی ہے۔ ٹاور سے آگے بڑھیں، تو کچھ ہی فاصلے پر مشہور میوزیم ’’لَو پیلس‘‘ آجاتا ہے، جو فن تعمیر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ تاریخی محل، فرانس کے کئی بادشاہوں کے زیر استعمال رہا۔ یہاں کے بڑے بڑے کمروں میں شاہی دور کی باقیات اب بھی محفوظ ہیں، جس سے اُس دور کے شاہی خاندانوں کی بودوباش اور رہن سہن کا پتا چلتا ہے۔ محل کے ایک حصے کو میوزیم کی شکل دے دی گئی ہے، جہاں رکھی گئی اَن گنت تصاویر میں اطالوی مصور ’’لیونارڈو ڈاونچی‘‘ کا عظیم شاہکار، ’’مونا لیزا‘‘ بھی موجود ہے، جو مصوری کی دنیا میں اپنی ایک الگ ہی پہچان رکھتی ہے۔ اس عظیم شاہکار کو کئی بار چرانے کی بھی کوشش کی جاچکی ہے، اس لیے پورے میوزیم میں سب سے زیادہ سکیورٹی اسی کے گرد اور سب سے زیادہ رش بھی اسی کے سامنے نظر آتا ہے۔ قلیل وقت میں کئی منازل پر مشتمل اس میوزیم کے ہر حصے کو دیکھنا ممکن نہیں ہوتا، یہاں کا اسلامک کیلی گرافک آرٹ واقعی اپنی مثال آپ ہے۔ پھر تکون شکل کے، مکمل شیشے کے بنے داخلی اور خارجی راستے بھی اسی میوزیم کی انفرادیت ہیں۔ شیشے اور میٹل کے امتزاج سے بنے اس تکون کو چائنیز اور امریکن آرکیٹیکچرز نے ڈیزائن کیا، جس کا مقصد روزانہ ہزاروں کی تعداد میں آنے والے سیاحوں کو میوزیم کے اندر اور باہر جانے کے لیے آسان سہولت مہیّا کرنا تھا۔ دراصل جب سورج کی روشنی ان شیشوں پر پڑتی ہے، تو دیکھنے والوں کی آنکھیں چندھیا سی جاتی ہیں اور اطراف بہتا پانی سیّاحوں کی توجّہ اپنی جانب مرکوز کرلیتا ہے۔ میوزیم سے کچھ ہی فاصلے پر کپیٹل سٹی کا مشہور اسکوائر Place De La Concorde ہے۔ یہ یہاں کا سب سے بڑا اسکوائر ہے، جہاں انقلابِ فرانس کے دَور میں کئی مشہور انقلابیوں کو پھانسی دی گئی۔ اس کے نام کو کئی بار تبدیل بھی کیا گیا، لیکن آخر میں اسی نام سے جانا جانے لگا۔ اس اسکوائر میں دو خوبصورت فوارے اور ایک بہت اونچا ستون بھی نصب ہے، جو مصری حکومت نے انیسویں صدی میں فرنچ حکومت کو تحفتاً دیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ اس قدر وزنی ہے کہ اس وقت کی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے باوجود بھی اسے مصر سے فرانس منتقل کرنے میں کافی دقتیں پیش آئیں۔ بعدازاں، اس کے ٹاپ پر فرنچ حکومت نے طلائی تکونی کور چڑھوادیا، جو دُور ہی سے چمکتا نظر آتا ہے۔Place De La Concorde اسکوائر کے مغربی جانب مشہور اسٹریٹ ’’شانزے لیزے‘‘ فرانس کے دو مشہور پبلک اسکوائرز کے درمیان سے گزرتی ہے۔ یہ شاہراہ اپنے کیفے، تھیٹرزاور پُرآسائش دکانوں کی وجہ سے دنیا بھر میں اپنی الگ ہی پہچان رکھتی ہے۔نیز، ہر سال 14جولائی کو اسی شاہراہ پر فرانس کی مشہور بیسٹیلے ڈے ملٹری (Bastille Day Military Parade) بھی منعقد کی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ فرانس کا بہت مشہور ایونٹ ہے، جو صدیوں سے ہر سال اسی جگہ منعقد ہوتا ہے، اسے دنیا کی قدیم ترین ملٹری پریڈ بھی مانا جاتا ہے۔ شانزے لیزے کی اس معروف شاہراہ کو اٹھارہویں صدی میں فیشن ایبل ایونیو کا درجہ ملا اورپھر 2008ء میں جب یہاں دنیا کے بڑے برانڈز کو دکانیں کھولنے کی اجازت دی گئی، تو گویا ایک ہی سڑک پر پوری دنیا آباد ہوگئی۔
اس بات سے تو سب ہی واقف ہوں گے کہ پیرس کو ’’خوشبوئوں کا شہر‘‘ کہا جاتا ہے، کیوں کہ یہاں دنیا کے ہر برانڈ کا پرفیوم دستیاب ہے۔ بہرحال، خوشبوئوں میں بسی اس سڑک کا اختتام ایک محراب’’ Arch Di Triomphe ‘‘پر ہوتا ہے، جو ان افرادکو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے بنائی گئی ہے، جنہوں نے انقلابِ فرانس میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ جہاں یہ میوزیم اور محلات پیرس کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں، وہیں اَن گنت پھولوں کے باغات شہرکا حسن بڑھاتے اور فضائوں کو معطّر و خوشبو دار کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں