اکبر کے مذہبی خیالات اور نئے تاثرات

akbara_ka_ahad
EjazNews

دین الٰہی اکبر شاہی کی بدعت بھی اکبر کے نامہ اعمال میں تحریر ہے۔ مسلمانوں کے مذہبی خیالات میں ان دنوں جو تموج پیدا ہوا یہ اسی کی ایک موج تھی مگر جب اتنے بڑے مطلق العنان بادشاہ نے اچھالی تو ضرور ہے کہ قریب دیکھنے والوں کو بڑی خوف انگیز، طوفان خیز نظر آئی ہوگی۔ انگریزتاریخ نویسوں نے اسے خوب خوب اچھالا۔ اس کا سبب کچھ نافہمی اور کچھ وہی فتنہ طرازی ہے جس نے ان کی اچھی اچھی کتابوں کو پھپھوندی بھری کھیر بنا دیا کہ شکر گزاری سے زیادہ ناگواری کا باعث بن گئی ہیں۔
دسویں صدی کے وسط میں جب اکبر تخت نشین ہوا۔ مسلمانوں کو سندھ میں آئے ہوئے نوسو، پنجاب میں چھ سو اور بھارت میں چار سو سال سے کچھ کم زمانہ گزر گیا تھا۔ جیسا کہ ہم نے کہیں اور اشارہ کیا، ملوک طوائف کی آخری دو صدیاں ملی اور دینی اعتبار سے نہایت نتیجہ خیز اور اثر انگیز تھیں کہ اسلامی حکومت کا پرچم اقالیم ہند کے ہر ہر خطے میں لہرایا۔جنگل پہاڑ کے دور دست مقامات کے سوا کوئی علاقہ نہ تھا جہاں ان کے قدم نہ پہنچے اور ان کے مذہبی اور تہذیبی اثرات نہ پھیلے ہوں ۔ جگہ جگہ فاتحین کی چھائونیا ں چھائیں۔ بستیاں بسیں اور ہزاروں قطعات میں مسلمان سرداور سپاہی حاکم یا جاگیر دار بن کر آباد ہو گئے۔ مستقل سکونت کے ساتھ ساتھ ان کی مسجدیں، مدرسے، خانقاہیں تعمیر ہوئیں۔ درس و تدریس ، وعظ و تذکیر سے ساری فضا معمور ہو گئی۔ حال قال کی محفلوں کی صدا ہر گوشے میں گونجنے لگی۔ سالانہ عرس ، مستقل میلے بن گئے۔ میلاد شریف اور محرم کے مقبول عام ہونے کا آغاز اسی دور میں ہوا۔
مسلمانوں کا اثر ہندووں پر اور تاثر:
ممالک ہند کے قدیم باشندوں پر مسلمانوں کی آمد اور طویل اقامت کا لا محالہ گہرا اثر پڑا۔ خصوصاً وہ پیشہ ور یا اہل حرفہ جنہیں برہمنی مذہب نے صدیوں سے ذلیل و خوار ، نیچ ذات بنا رکھا تھا جب مسلمانوں سے واسطہ پڑا تو ان کی دینی مساوات اور نیکی کا برتاو دیکھ کر یا حکومت و دولت کے اثر سے بتدریج اسلام کی طرف کھنچنے لگے۔ یہ بے چارے خاندن اور برادری کی زنجیروں میں ایسے بندھے ہوئے تھے کہ فرداً فرداً مسلمان ہونے سے ہیج کچاتے رہے۔ لیکن جہاں کہیں یہ پھندے ٹوٹے، وہاں خاندن کے خاندان اور گروہ کے گروہ برہمن کے طلسم سے نکل کر اسلام کے حلقے میں داخل ہوئے۔مفصل بحث و دلائل کی گنجائش نہیں ورنہ یہ آرٹیکل بہت طویل ہو جائے گا۔مگر یہ کہنا کچھ غلط نہ ہوگا کہ بھارت کے ملکوں میں اسلام کی اشاعت جس پیمانے پر ان دو (نویں، دسویں ہجری) صدیوں میں ہوئی پہلے نہ ہوئی تھی۔تاریخ ، تذکرے ، نظم ونثر کی کتابیں پڑھئے تو معلوم ہوتا ہے گویا آب شیریں کا ایک چشمہ کسی بیاباں میں پھوٹ نکلا ہے کہ قطار ر قطار پیاسے آتے اور سیراب ہوتے چلے جاتے ہیں۔ بہت سے تشنگان حقیقت اگرچہ باقاعدہ اسلام نہیں لائے توحید الٰہی اور مساوات انسانی کی تعلیم سے سرشار ضرور ہو گئے ۔ ہندوئوں کے خیالات میں اس ہمہ گیر انقلاب کا اندازہ کرنا ہو تو عہد ہرش کی بت پرستی کے جوش و خروش کا، وحدانیت کی بے باک تعلیم و تلقین سے مقابلہ کیجئے جس کی کبیر اور گرو نانک کے اسی دور میں دھوم مچا دی تھی۔
اتنے دن کی بھارت میں بودو باش ، ہندووں سے میل جول اور کثرت سے نو مسلموں کی آمیزش نے ہندی مسلمانوں پر بھی اثر ڈالا مگر اس کادائرہ تمدن و معاشرت کے خطوط میں محدود تھا۔ شادی بیاہ کی رسمیں، پھول پان کا شوق، مکانات، لباس و زیور یا کھانے پینے میں ملک و وسم کے اعتبار سے تبدیلیاں یہ سب تمدنی تاریخ کے عنوان ہیں۔مذہبی عقائد و شعائر پر ہندوئوں کا براہ راست کوئی نمایاں اثر نہیں پڑا۔ ا ن کا مذہب صدیوں سے جمود کی حالت میں تھا ۔ مذہبی علوم پر پنڈتوں کی احتیاط نے سنسکرت کے قفل چڑھا دئیے تھے۔ کہ نہ خود پڑھاتے نہ کسی کو پڑھنے دیتے تھے۔ غرض ہندی مسلمانوں کے دینی افکار میں ان دنوں جو تلاطم آیااس کے محرکات دوسرے تھے۔ ان میں پہلا مقام تصوف کو دینا چاہیے اور ثانوی درجہ تحریک مہددیت ۔ معقولات و شیعیت کو۔
تصوف:
پہلے دور کے خواجگان چشتیہ، بزرگان قادریہ اور سہروردیہ بہت بلند رتبہ لوگ تھے۔ زیر نظر عہد میں ہندوستان کی خاک سے اتنے اونچے درجے کے بزرگ نہیں اٹھے لیکن صوفیوں کی کثرت میں یہ زمانہ ماضی سے بازی لے گیا۔ ریاضت و مجاہدات، کشف و کرامات کی شہرت میں بھی پچھلے اگلوں سے پیچھے نہیں رہے۔ شیخ شرف الدین یحییٰ منیری برسوں تک جنگل میں کھڑے رہے۔ لیٹنا کیسا، بیٹھ کر بھی آرام نہیں لیا۔ شیخ احمد کھتو چالیس چالیس دن کا روزہ رکھتے۔ صرف ایک کھجور سے افطار کرتے تھے۔ شاہ میاں جیو 6-6مہینے تیغہ لگا کرحجر ے میں بند رہتے تھے۔شیخ محمد غوث گوالیاری نے بارہ برس کوہ چنار میں بناسپتی کھائی، یاد خدا میں مصروف رہے۔ ہمیشہ راتوں کو جاگنا، دن کو روزہ رکھنا، درویشوں کے معمولات میں شمار ہوتاتھا۔ کنوئیں میں الٹے لٹک لٹک کر نماز معکوس پڑھتے تھے۔ سخت مجاہدوں کی ضرب سے نفس کو توڑتے تھے ۔ روحانی ترقی کے لئے ترک علائق ترک حیوانات ، فقر و فاقہ، گوشہ نشینی ، تجرد اور اسی قسم کے رہبانی اعمال سے کام لیتے تھے۔ اسلام نے رہبانیت اور ترک دنیا سے مسلمانوںکو روکا ، دنیا کو آخر ت کی کھیتی بتایا، انیان کو زمین کی خلافت کا خلفت پہنایا ہے لیکن بزرگان صوفیہ کی تعلیم اور سعی بیش تر روحانیت پر مرکوز تھی۔ دنیا اور امور دنیاسے حتیٰ الامکان علیحدہ رہنا چاہتے تھے۔ ہندوستان میں جوگ ،سنیاس اور تپسیا کو قدامت کا احترام اور مذہب کی سند حاصل تھی ممکن ہے مسلمان صوفیوں نے ہندو جوگیوں، رشیوں سے بھی معارف کے موتی رولے ہوں اور انہیں اپنے اور ادواشغال کی تسبیح میں پروریا ہو۔ قوم کی خوشحالی اور خوش اعتقادی درویشوں کو دنیاوی جدوجہد سے بے نیاز کرنے میں مدد دیتی تھی ریاضت شاقہ سے اور کچھ فائدہ ہو یا نہ ہو، عوام پر صوفیوں کی بے غرضی، بے نفسی کا سک جمتا تھا اور دنیا دار علما کی قدرو قیمت گھٹاتا تھا۔ ا دھر یہی زمانہ ہے جب کہ ’’وحدت وجود‘‘ کے عقیدے نے ایک مفہمہ گیر فلسفے کی شکل اختیار کی۔ ذہین صوفیوں نے اسے خوب پھیلایا۔ فارسی شاعروں نے طرح طرح سے مقبول عام اور دلکش بنایا۔ یہاں تک کہ اعمال شرعی کا رنگ پھیکا پڑ گیا۔ طریقت، شریعت سے اونچی اڑنے لگی ۔ پھر تو لوگ ایسا کھل کھیلے کہ نیک و بد کی تمیز اٹھا دی ہمہ اوست کے نعرے لگاتے ور کفرو اسلام ، عبد و معبود میں فرق کرنے کو جہالت بتاتے تھے!۔
مسلمانوں کی عملی زندگی کو اس فلسفے نے نقصان پہنچایا اور بتدریج جہد و توکل ، تقدیر تدبیر کے تصورات کو ایسا مسخ کیا کہ پھر ان کی آرام طلبی، ایک دامی صنعت اور عیش پسندی ایک قومی بیماری بن گئی ۔ لیکن یہاں ہمیں صرف مذہبی تاثرا ت سے بحث ہے اور کچھ شک نہیں کہ ہمہ اوست کے نظریات اسلامی عقائد کو کمزور کرنے اور فرائض و عبادات کی پابندی کو کم وزن دکھانے کا مادہ رکھتے تھے۔
صوفیوں سے مولوں کا عہدہ برآ ہونا مشکل تھا ۔ وہ اللہ کے ولی مانے جاتے تھے ۔ عجیب عجیب کرامتیں اور خوارق ان سے منسوب تھے۔ معلوم ہوتا تھا خدائی قانون کی باگ ان کے ہاتھ میں ہے۔ جدھر چاہیں موڑ دیں! بارے نویں صدی (ہجری) کے اواخر میں تحریک ، مہدویت نے شریعت ظاہر کی حمایت کا بیڑا ٹھایا۔ علمائے بے عمل کی تنقید میںمہدی صوفیوں سے زیادہ سخت و اشد تھے اور زہد و نفس کشی میں بھی اہل صومعہ سے کم نہ رہے لیکن اسی کے ساتھ قرآن و سنت سے خفیف ترین تجاوز جائز نہ رکھتے تھے اور جس طرح احکام شرعی کے خود پابند تھے ۔ دوسرے مسلمانوں کو بھی ان کا پابند بنانے میں تشدد کرتے تھے۔
دسویں صدی ہجرت میں عبد اللہ خاں، سوری سلاطین کے زمانے میں ایک معزز افغان تھے کہ دین داری کے جوش میں مہدوی ہو گئے اور بیانہ میں فقیرانہ زندگی بسر کرنے لگے شیخ علای بنگال کے پیر زادے تھے ان کے باپ حج سے واپس آکر بیانے میں بسے اور یہیں سلوک و طریقت کی بساط جمالی تھی۔ شیخ علای نے پیری کی گدی باپ سے ،علم وفضل اپنی محنت وذہانت سے اور خوش بیانی حسن تقدیر سے حاصل کی تھی۔ عبد اللہ خاں کا خلو ص و تقویٰ دیکھ کر شیخ نے مشیخت کا راستہ چھوڑ دیا۔ مہدوی طریقہ اختیار کیا اور چند ہی سال میں بیانے کو نئی تعلیم و تربیت کا کا مرکز بنالیا۔ فقر و توکل کے ساتھ یہ لوگ دین کے مستعد سپاہی تھے ۔ہمیشہ ہتھیار لگائے رہتے اور اپنے سامنے عام مسلمانوں کوبھی خلافت شرع کا م نہ کرنے دیتے تھے۔ دارالحکومت آگرہ ، بیانے سے قریب تھا، شیخ کے گروہ میں روز افزوں اضافہ اور امر بالمعروف کے چرچے سنے تو ارباب حکو مت کے کان کھڑے ہو ئے۔ سلیم شاہ سوری نے شیخ کو آگرے طلب کیا ۔ اس کی باز پرس کے جواب میں انہوں نے آخری باز رپر س پر ایسی پر جوش ، پر کیف تقریر کی اہل دربار کی آنکھوں میں روز جزا کا نقشہ پھرنے لگا۔ موت یاد آگی۔ بادشاہ بھی نہایت متاثر ہوا۔ لیکن شیخ کی بے باکی اور بے رخی سے بڑھ کر اصل قضیہ مہدویت کا تھا کئی دن مولویوں سے مناظرہ ہوتا رہا۔ شیخ علای نے ان سب کی کمزوریاں طشت ازبام کردیں۔ مگر اس سے ان کا بنیادی دعویٰ مضبوط نہ ہو سکتا تھا۔ بادشاہ نے بہت سمجھایا کہ (جون پوری)مہدویت کے دعوے سے باز آئو، پھر شوق سے بلکہ میرے حکم سے وعظ و ہدایت کے نقارے بجائو۔ شیخ نہ مانا آخر حکم ہوا کہ ملک سے نکل جائو ۔ شیخ دکن روانہ ہوئے لیکن سرحد ہی پر ٹھہر گئے وہاں کا افغان امیر، اعظم ہمایوں سروانی اور اس کی فوج میں لشکر کا لشکر شیخ کا مرید ہوگیا۔ سلیم شا ہ کو درباری مولویو ں نے پھر بھڑکایا۔ اس نے پہلے عبد اللہ خاں نیازی کوبیانے سے بلوا کر خوب پٹوایا۔پھر شیخ علای کو پکڑوا منگایا۔ اب کے وہ آئے تو گلے میں زخم تھا۔ گویا تقدیر نے منہ بند کر دیا تھا۔ بادشاہ نے تامل، تذبذب کے بعد شیخ الاسلام مولانا عبد اللہ سلطان پوری کے حوالے کردیا۔ وہ شیخ کے اصل دشمن تھے کوڑے مار کر ہلا ک کیا اور لاش کی تشہیر کرائی۔
مہدوی تحریک کو جبراً دبانے کے سلسلے میں کئی علماء اور مشائخ جن پر شبہ تھا کہ مہدویت کے حامی ہیں۔ احتساب کے شکنجے میں کسے گئے۔ انہی میں فیضی، ابو الفضل کے باپ شیخ مبارک ناگوری کا نام آتا ہے جو اسی الزام میں شیخ الاسلام مولانا عبد اللہ کا معتوب ہوا اور طرح طرح کی تکلیفیں اٹھائیں۔ مہدویت کا قلعہ فتح ہو جانے سے علمائے دربار کے حوصلے بلند ہوئے او روہ دوسرے اہل بدعت و فساد سے معرکے ڈالنے لگے۔ آزاد مشرب صوفیوں کے علاوہ انہی دنوں ترکستان سے بعض منطقی سو فسطائی نکالے گئے اور ہندوستان آکر مذہبی شگافیوں کے سبق سکھاتے تھے۔ ادھر ایران میں شیعت نئے ہتھیاروں سے مسلح ہو کر میدان میں آئی تھی۔ ہندوستان کے حنفی سنی علما اس حریف سے اندیشہ مند ہو رہے تھے ۔ ان کی زود حسی بد گمانی ور محاسبے کی شدت کا مطالعہ کرتے وقت ہمیں مذکورہ بالا اسباب کا لحاظ رکھنا چاہیے۔ بہر حال سوری بادشاہوں کے دور میں درباری علما کو جو اقتدار حاصل ہوا وہ اکبری عہد تک قائم تھے۔ مولانا عبد اللہ اور شیخ عبد النبی ان علماء کے نامی سرگروہ تھے اور انہی کے باہمی نفاق وتشدد نے آگے چل کر بادشاہ کو علما سے بدظن کیا اور اسے دین کے دائرے سے نکال کر آزادی کی وادیوں میں گشت کرایا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں