اکبر کے زمانے میں مشاہیر علم و ادب(۱)

akber_badsha
EjazNews

اکبر کا زمانہ سلطنت کی وسعت و استقامت میں جس قدر ممتاز ہوا، اس سے کہیں زیادہ اہل کمال کی کثرت سے تاب ناک ہے۔ ہم عصر تاریخیں ان کے تذکروں سے معمور ہیں۔ انہیں پڑھئے تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی ہند نے قدر شناسی کے دربار میں اپنے نادر جواہرات اگل دئیے اور ولایات خارجہ کے چمکتے ہوئے موتی اسی فیض کے دامن میں ڈھلک آئے تھے۔ ان سب کو کتاب کے آئینہ خانے میں سجانا، اکبری مورخ کا کام ہے، مگر بعض ایسے مشاہیر ہیں جن کے نام ہماری تہذیبی تاریخ میں مستقل مقام رکھتے ہیں زمانہ حاضرہ میں ان پر انگریزی ، اردو میں کئی کتابیں اور بہت سے مضامین چھپ چکے ہیں۔ ان کی شہرت اس تاریخ میں جگہ پانے سے مستغنی ہے لیکن ہماری تاریخ ان سے مستغنی نہیں ہوسکتی۔ لازم ہوا کہ چند چیدہ مرقعوں سے ان اوراق کی تزئین کی جائے۔
اکبر خود پڑھا لکھا نہ تھا، مگر ذوق سلیم فطرت کی سرکار سے اور علم دوستی باپ دادا سے وراثت میں پائی تھی۔ وہ ترکی زبان کا اعلیٰ درجے ا شاعر بھی تھا۔ اس کا دیوان اور دو ہزار شعر کی مثنوی (مبین) کہ مذہبی رنگ میں لکھی تھی، ابھی تک محفو ظ ہیں۔ بابر کے حاشیہ نشینوں میں ایک بزرگ شیخ زین الدین وفائی نے اس مثنوی کی شرح اور تزک بابری کا فارسی ترجمہ کیا تھا۔ بابر کبھی کبھی فارسی شعر کہتا تھا مگر ہمایوں کو اس زبان میں شعر گوئی کی پوری قدرت حاصل ہوئی۔ اس کا قلمی دیوان چند سال ہوئے۔ بہار کے ایک نجی کتب خانے میں بھی ملا جس پر پٹنہ کالج میں فارسی کے استاد حافظ شمس الدین صاحب نے اردو، تبصرہ شائع کیا تھا۔ علم ہیئات و ریاضی میں اس کی تحقیقات اور اصطرلاب اور کروں کے بنانے میں بعض اختراعات قانون ہمایونی میں درج ہیں۔ یہ رسالہ بنگال ایشیا ٹک سوسائٹی نے چھپوایا تھا اور اس عہد کے نامی مورخ خواند میر صاحب حبیب السبیر کی تصنیف ہے۔ خواند میر آخر زمانے میں ہرات چھوڑ کر ہمایوںکے پاس چلا آیا تھا اور تخت گاہ دہلی ہی میں رحلت کی۔ اسی عہد میں قاسم کا ہی نے نشوونما پائی ۔ اس کا حال آئندہ کسی تحریر میں ہم لکھیںگے۔ مخدوم الملک مولانا عبد اللہ سلطاں پوری بھی صاحب تصنیف بزرگ تھے، جنہیں ہمایوں کی سرپرستی کے مسند صدارت پر بٹھایا تھا۔
شیخ مبارک ناگوری:
مولانا عبد اللہ کامشہور حریف شیخ مبارک ناگوری تھا۔ اگرچہ اس کی کوئی کتاب یادگار نہیں رہی مگر فیضی اور ابو الفضل جیسے اہل قلم کا باپ تھا اور شاگردوں میں شیخ عبد القادر بداونی جیسا نقاد یہ سند دے گیا ہے کہ اس جامعیت کا ملا دیکھنے میں نہیں آیا۔ پھر وہ محضر بس کی رو سے اکبر امام عادل اور مجتہد قرار پایا، شیخ مبارک ہی نے تحریر کیا تھا۔ اور نتائج کے اعتبار سے یہ ایک ورق کی تصنیف پچاس کتابوں پر بھاری ہے !شیخ مبارک 911ھ میں بمقام ناگور پیدا ہوئے۔ باپ سندھ کے کوئی نو وارد بزرگ تھے کہ چند سال بعد واپس چلے گئے۔ پھر پلٹ کر خبر نہ لی۔ بچے کی پرورش ماں نے کی۔ وہ غالباً کوئی باندی یا غریب خادمہ تھی۔ لیکن لڑکے کا شوق اور ذہانت دیکھ کر خود محنت مشقت کرتی اور اسے تعلیم دلواتی رہی۔ ان دنوں اعلیٰ تعلیم کچھ مہنگی نہ تھی۔ شیخ نے ناگور میں علوم رسمی کی تکمیل کے بعد احمد آباد گجرات کا رخ کیا۔ وہاں معقول و منقول کے بڑے بڑے استاد جمع تھے ان علوم کے سات، بزرگان صوفیہ سے طریقت کے سبق لئے۔ فلسفہ وحدت الوجود کی مشہور کتابیں مطالعہ کیں۔ حجاز اور اسلامی ممالک کی سیر کاقصد تھا لیکن ایک بزرگ کے مشورے سے آگرے چلے آئے اور جمنا پار چار با غ کے محلے میں قیام کیا (950ھ) علم و فضل سے بڑھ کر زہد و تقویٰ میں مشہور تھے کہ کوئی سونے کی انگوٹھی ، ریشمی لباس یا ٹخنوں سے نیچا پاجامہ پہن کر ملنے آتا تو پائینچہ کتروا دیتے۔ انگوٹھی اتروا دیتے تھے۔
یہ زمانہ وہ تھا کہ مخدوم الملک عبد اللہ سلطاں پوری امورمذہبی کے وزیر بلکہ امیر بنے ہوئے تھے ۔ مہدویت اور بدعت کی سرکوبی کرتے کرتے ایسی قوت حاصل کر لی تھی کہ سوری بادشاہ اور امرا تک ان سے دبتے تھے۔ ہر مقدمے میں جہاں مذہب کی لاگ ہوتی، ان کا فیصلہ قطعی ، اور فتویٰ اٹل مانا جاتا تھا۔ ان کے اقتدار کے سامنے دوسرے مولوی ملا زبان نہ کھول سکتے تھے لیکن مثل مشہور ہے کہ معاصرت سے رقابت پیدا ہو جاتی ہے۔ شیخ مبارک اپنے حلقے میں سرکاری علما کے فتاوی پر خفیہ نکتہ چینی کیا کرتے تھے۔ شیخ علای کے مناظرے میں دبی زبان سے شیخ کی تائید کرنا بھی مذکور ہے۔ غرض مخدوم الملک ان سے ناراض اور بدگمان ہو گئے ۔ جب سوریوں کاشیرازہ بکھر ا اور دوبارہ مغلوں کا جھنڈا گڑا، تو مخدوم الملک نے ان پر عقائد کے فساد اور غالباً ہیمو بقال سے ساز باز کا الزام لگایا۔ شیخ مبارک چھپ کر بھاگے اور مدتوں تک ادھر ادھر جان بچاتے پھرے۔ آخر مرزا عزیز نے اکبر با دشاہ سے سفارش کر کے جان بخشی کرائی۔ پھر وہ ایک زمانے تک اپنے بچو ں سمیت دہلی کی مختلف درگاہوں میں مقیم رہے۔ آخر 974ھ میں فرزند اکبر ابو الفیض فیضی نے شاعری کے زینے سے شہ نشین شاہی تک رسائی پائی اور چند سال بعد دارالانشا کی بساط پر ابوالفضل کا قدم ایسا جما کہ سارے قدم لڑ کھڑا گئے۔ مولویوں سے بادشاہ دل برداشتہ ہو رہا تھا۔ جبکہ بیٹوں نے شیخ مبارک کو حضور میں پیش کیا اور دل نشین کر دیا کہ وہ مولویت میں مخدوم الملک اور صدر صدور سے کسی طرح کم نہیں ہے۔ شیخ کو درباری آداب سے آگہی نہ تھی لیکن بادشاہ کو خوش کرنااور اپنے رقیبوں سے انتقال لینا آتا تھا ۔بادشاہ کے امام عادل ہونے کی دستاویز تیار کی ۔ سرکاری مولویوں سے جبراً دستخط لئے گئے۔ حقیقت میں یہ مولویت کے قتل کا محضر تھا جس نے سرکاری دربار میں ان کے اقتدار کا خاتمہ کرادیا۔ شیخ مبارک نے بڑھاپے میں بڑا میدان جیتا لیکن ا س کے علم و فضل کی شہرت بھی طعن و ملامت کی آندھیو ں میں اڑ گئی اور عجیب واقعہ یہ ہوا کہ زہد اور مجاہدات کی بجائے زندگی دوسرے سانچے میں ڈھل گئی۔ یا حرمت سماعت کے قائل تھے سرودہم سایہ سن کر کانوں میں انگلیاں دیتے تھے اور یا وقت کا بڑا حصہ ہی موسیقی سے لطف اٹھانے میں گزرنے لگا۔ آخر میں صحت خراب ، بصارت کمزور ہو گئی تھی۔ لاہور آرہے تھے مگر درس تدریس کے ساتھ تصنیف کا شغل جاری رہا۔ ایک ضخیم تفسیر منبع تفائس الیعون تحریر کی کہ اب اس کا نام تک مشکوک ہے۔ ملا عبد القادر لکھتے ہیں کہ اس میں مجددیت کی ضرورت پر تقریر بھی اور یہ اشارہ بھی نکلتا تھا کہ دسویں صدی ہجری کا جدد خود مصنف ہے!۔حالانکہ بادشاہ کو امام عادل اور مجتہد کی کرسی پر بھانے کے بعد کسی مجدد کے واسطے جگہ نکالنا،جمع نقیضین کی مثا ل معلوم ہوتاہے۔ اواخر 1001ھ میں انتقال کیا۔ لاش کچھ عرصے بعد لاہور سے لاکر چار باغ آگرے میں دفن کی گئی۔ فیضی، ابوالفضل کے علاوہ کئی بچے چھوڑے، جن میں سے دو شیخ کی وفات کے چند روز بعد پیدا ہوئے تھے۔
مصنفین صوفیہ:
دسویں صدی ہجری میں ممالک ہندو پاکستان میں بزرگان صوفیہ کا ہر طرف ہجوم تھا۔ مختلف اقطاع اور تمام بڑے بڑے شہروں میں حال و قال کی محفلین گرم رہتی تھیں۔تذکروں میں صدہا بزرگوں کے حالات مذکور ہیں۔ ان میں بھی زیادہ نمایاں میاں حاتم سنبھلی، شیخ محمد غوث گوالیری، شیخ سلیم چشتی، شیخ نظام الدین امیٹھی دال، شیخ الہدیہ خیر آبادی، شیخ دادو جہنی دال ، کے نام نامی ہیں۔ ان میں کئی صاحب تصنیف تھے جن کا ترکہ ناخلف اولاد نے تلف کر دیا۔ انہی اہل قلم صوفیہ میں ایک بزرگ شیخ امان پانی پتی تھے کہ فلسفے کے ٹھوس مسئلوں کو بیان کی لطافت سے پانی کر دیتے تھے۔ ان کا رسالہ ’’اثبات الاحدیہ‘‘ جو ’’ورائیہ‘‘بھی کہلاتا تھا ، شیخ محی الدین ابن عربی کے نظریات پر نہایت صاف اور واشگاف تحریر ہے جس کی اشاعت نے اہل صومعہ میں خاصی ہل چل ڈال دی تھی کئی رد لکھے گئے لیکن اس کی قبولیت میں فرق نہ آیا ۔ ایک ضخیم شرح ملا جامی کی سوانح پر لکھی تھی۔ 957ھ میں انتقال ہوا اور معتقدین کا ایک بڑا گروہ وارث چھوڑ گئے جن میں شیخ تاج الدین ، مولانا رکن الدین اور شیخ عبد الحق محدث دہلوی کے والد شیخ سیف الدین جیسے فضلا کے نام شامل ہیں۔
اسی دور کی ایک اور کتاب جواب تک سر سبز ہے۔ سبع سابل سید عبد الواحد بلگرامی کی یادگار ہے۔ اس میں مسائل اخلاق و تصوف کو بزرگان دین کی تمثیلات سے روشن کیا ہے۔ مصنف بڑے عابی خاندان، صاحب حال و قال بزرگ تھے۔ شاعری اور موسیقی میں ماہرانہ دخل تھا۔ ایک ضخیم کتاب شرح نزہتہ الارواح لکھی تھی علم و فضل کی تعریف سن کر اکبر بادشاہ نے مشتاقانہ طلب کیا اور آگرے میں ملاقات کی۔ سو سال سے زیادہ عمر میں وفات پائی۔مزار بلگرام میں ہے۔ ایک اور جامع کمالات شیخ یعقوب کشمیری صوفی گزرے ہیں کہ کشمیر کے چک رئیسوں کے خلاف محضر لکھنے اور مغل بادشاہوں کو فتح کشمیر کی تحریک دلانے میں ان کا نام پیش پیش تھا۔ وہ شیخ حسین خوارزمیؒ کے خلیفہ اور شیخ ابن حجر جیسے نامور استاد حدیث کے شاگرد تھے۔ اسلامی ممالک میں دور دور سفر کیااور مشاہیر علم سے مستفید ہوئے۔ ان کی خانقاہ مرجع خاص و عام تھی ۔ ہمایوں اور پھر اکبر بادشاہ کمال عزت سے پیش آتے تھے اور آگرے کے علمی حلقوں میں ان کی شرکت نعمت سمجھی جاتی تھی۔ تفسیر ، حدیث اور تصوف پر کئی اعلیٰ دجے کی کتابیں لکھیں اور فارسی شعر و معما گوی میں بھی امتیاز رکھتے تھے۔ شیخ عبد القادر بداونی کی تعریف میں ان کا قطعہ فاضل موصوف کی فضیلت پر مہر کا مرتبہ رکھتا ہے۔ 1003ھ میں وفات پائی۔
درباری شعرا:
اکبر جیسے فیاض اور بلند اقبال بادشاہ کے دربار میں شاعروں کی کثرت ہونا لازمی تھی۔ ملا عبد القادر اور شیخ ابوالفضل نے ایسے بیسیوں ستائش گروں کے نام اور نمونہ کلام اپنی تاریخوں میں درج کئے ہیں۔ ہم صرف چند منتخب شعرا کے اجمالی تذکرے پر قناعت کریں گے۔
غزالی مشہدی:
غالباً پہلا شخص ہے جسے ہندوستان کے مغلیہ دربار سے ’’ملک الشعراء ‘‘کا خطاب ملا۔ کئی دیوان، اعلیٰ درجے کی مثنویاں اور قصائد لکھے تھے کہ اب ڈھونڈے سے نہیں ملتے۔ ایک قصیدے میں پہلے ہندسے سے سو تک جملہ اعداد کو نادر ترین تشبیہات سے سجایا ہے۔
آزاد خیالی کی بنا پر وطن سے بھاگ کر دکن آیا تھا، وہاں سے خاں زماں خاں نے خلعت و سفر خرچ بھی کر جون پور بلایا پھر دربار اکبری میں مزید انعام و اکرام سے نوازا گیا۔ شعرائے ہم عصر میں قاسم کاہی اور قاسم ارسلاں وغیرہ سے خوب نوک جھوک رہتی تھی۔ 980ھ میں بمقام احمد آباد گجرات انتقال ہوا۔ الحاد میں بدنام ہونے کے باوجود یہ مشہور عارفانہ شعر اسی سے منسوب ہے۔
شورے شد واز خواب عدم دیدہ کشو دیم
دیدیم کہ باقی ست شب فتنہ ، غنودیم
ملا قاسم کاہی:
ہمایوں بادشاہ کے ہمرکاب کابل سے آیا تھا۔ وطن کی تعریف میں ہندو ستان کی مذمت کرتا ہے۔
کاہیت بلل چمن آر اے کابلی
زاغ و زغن نہ کہ بہ ہندوستان شوی
لیکن یہیں رہا اور غالباً عہد اکبری میں اسے بھی ملک الشعراء کا خطاب عطا ہوا تھا۔
شیری سیالکوٹی:
موضع کوکووال کا رہنے والا اور ایک فاضل باپ کا نہایت ذہین بیٹا تھا۔ اسے قدرت شعر گوئی پر فخر تھا کہ چار دیوان لکھ کر چناب میں ڈبو چکا ہوں۔ حقیقت میں اس کا فارسی کلام کسی اہل زبان سے کسی اعتبار سے کم نہ نکلے گا۔ اور شکویات میں ملا عبد القادر کا قول ہے کہ کوئی ہم عصر اس سے بازی نہ لے جاسکا۔ اکبر کے دعوی اجتہاد پر اس کا قطعہ انہی دنوں زبان زد ہو گیا تھا ۔
شیری کا دیوا ن عہد اکبری میں نہایت مقبول ومروج تھا۔ اب بھی بعض قلمی اجزا ہندوستان اور برطانیہ کے کتب خانوں میں مل جاتے ہیں۔
نور الدین ترخاں:
پاکستان کا ایک اور خوشگفتار نور الدین محمد ترخاں (سفید دنی، سر ہندی) تھا، اگرچہ اس کی شعر گوئی کی شہرت فقط ایک ہجو سے قائم رہی۔ جس میں حکام دہلی کا خاکہ کا خاکہ اڑایا اور اپنانام چھپایا تھا۔
صاحب علم و امتیاز شخص تھا اور ملا نور الدین جامی کی ہم نامی کے ساتھ ہی مقامی کا ادعا کرتا تھا۔ اسی شیخی نے لوگوں میں مطعون کیا ۔ ایک مرتبہ چوگان کھیلنے میں گھوڑے سے گرا۔ سخت ضرب آئی۔ عیادت کرنے والے سے کہنے لگا۔ آپ حضرات گواہ رہیں میں نے اس تشویش میں کئی باتوں سے توبہ کی لوگوں نے دریافت کیا کہ کن باتوں سے توبہ کی اس کا جواب نہ دیا۔ ملا عبد القادر کی ستم ظریفی دیکھئے کہنے لگے: صاحب، مناسب یہ ہے کہ سب سے پہلے آپ شعر گوئی سے توبہ کریں!

اپنا تبصرہ بھیجیں