اپنے راز چھپا کر رکھنے چاہیے

پیارے بچو!ابھی آپ پڑھتے ہوئے لیکن پڑھنے کے بعد آپ لوگوں نے زندگی کی شروعات کرنی ہے۔ کوئی کاروبار کرے گا اور کوئی نوکری اور جس کے نصیب میں جولکھا ہو گا وہ وہی کرے گا۔زندگی کی اسی دوڑ سے متعلق میں آپ کو ایک کہانی سنانے جارہا ہوں ۔ یہ کہانی گائوں کے ایک بھولے جلیبی والے کی ہے۔
پرانے زمانے میں ایک گائوں بھولا نامی شخص جلیبی بنا کر بیچتا تھا،اس کی دکان پر صبح سے شام تک جلیبیاں کھانے والوں کا رش رہتا ، اس کی جیلیباں اس قدر مشہور ہو گئیں تھیں کہ دور دراز کے گائوں سے بھی لوگ اس کی دکان پر آنے لگے۔ لوگ اس کی تعریفیں کرنے لگ پڑے کہ جلیبی بہت اچھی بناتا ہے اور ساتھ ہی اپنے بیوی بچوں کیلئے گھر میں بھی لیجانے لگ پڑے ۔
بچو! جیلیبیاں بیچنے والا اپنی زندگی سے بہت خوش تھا ۔کاروبار چل رہا ہے ۔ ایک دن ایک اجنبی شخص اس کے پاس آیا اور اس سے کہا کہ اس کی جلیبی بہت اچھی ہے لیکن اگر وہ جلیبی کے ساتھ ربڑی والا دودھ بھی رکھ لے تو بہت مزیدار کام ہو گا۔ جس پر بھولے نے کہا کہ وہ اتنا کام نہیں کر سکتا سارا دن جلیبی بنانے میں گزر جاتی ہے۔لیکن کاروبار بڑھانا سب کو اچھا لگتا ہے،اس اجنبی شخص نے کہا کہ بھولے بھائی میرے پاس ایک بہت عمدہ حلوائی ہے اگر آپ کہو تو میں اس کوآپ کے پاس لے آتا ہوں بڑا اچھا کاریگر ہے۔کاریگر آگیا اور جی جم کر کام کرنے لگ پڑا۔ اب کیا تھا جیلیبیوں کے ساتھ ساتھ ربڑی والا دودھ بھی بکنا شروع ہو گیا۔ بھولے نے ربڑی کا دودھ بنانے کیلئے جو ملازم رکھا تھا اس نے آہستہ آہستہ بھولے سے جیلیبی بنانے کا طریقہ سیکھ لیا اور کچھ چھٹیاں لے کر چلا گیا۔
پیارے بچو !دوسرے دن جب بھولے نے دکان کھولی تو گاہکوں نے جلیبی کے ساتھ ربڑی والے دودھ کا مطالبہ کیا جس پر بھولے نے معذرت کی ، گاہک ربڑی والے دودھ کے ساتھ جلیبی کے عادی ہو چکے تھے،اب بھولے کو ربڑی والا دودھ بنانا آتا نہیں تھا، آہستہ آہستہ بھولے کی دکان پر سے جلیبیاں بکنا بھی بند ہو جاتی ہیں ، جس پر وہ پریشان ہو جاتا ہے ۔ جب وہ اس تحقیق پر نکلتا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ لوگ جلیبی کھانا بھی چھوڑ گئے ہیں تو اسے پتہ چلتا ہے کہ سب لوگ دوسرے گائوں جاتے ہیں ، وہاں پر ربڑھی کا دودھ اور جلیبی دونوں ملتے ہیں ۔ وہ بھی ایک شخص سے جلیبی اور ربڑی والا دودھ منگواتا ہے تاکہ چکھا تو جائے کہ ان کی جلیبی میں خاص ہے، توبچوں جب اس نے جلیبی کھائی تو اس کا ذائقہ بالکل اس نے اپنی جلیبی جیسا پایا اور دودھ ویسا ہی جیسا اس کا حلوائی بناتا تھا۔ اب بھولے میاں پریشان ہو گئے اور چلے دیکھنے کہ یہ کون ہے جس کو میری جیسی جلیبی بنانی آتی ہے۔
جب بھولا دوسرے گائوں پہنچتا ہے تو حیران رہ جاتا ہے کہ وہ حلوائی جس نے اس سے جلیبی بنانے کا طریقہ سیکھا تھا ،اور وہ شخص جس نے اس کو مشورہ دیا تھا دونوں جلیبیاں بھی بنا رہے ہیں اور ربڑی والا دودھ بھی بیچ رہے ہیں ۔ یہ دیکھ کر وہ سب کچھ سمجھ جاتا ہے لیکن اب دیر ہو گئی ہوتی ہے۔
تو بچو !کبھی بھی انجان آدمی پر اندھا اعتماد نہیں کرناچاہیے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں