اپنی حفاظت آپ نے خود کرنی ہے

اپنی حفاظت آپ نے خود کرنی ہے

پیارے بچو! بہت پہلے ایک گاﺅں میں دو سہیلیاں رہتی تھیں عائشہ اور شائستہ ۔ یہ دونوں اکٹھی سکول جاتی تھیں، اکٹھی کھیلتی تھیں ایک دوسرے کے گھر آتی جاتی تھیں۔ان کے گاﺅں کے پاس ایک تیلاب تھا یہ وہی پر کھیلا کرتی تھیں ۔ کچھ دن عائشہ کھیلنے کو نہیں آرہی تھی تو شائستہ اس کے گھر گئی اور اس کی والدہ کی اجازت سے اسے لے آئی ۔ لیکن عائشہ وہاں عائشہ وہاں پربھی اداس تھی ، کھیل میں اس کا من نہیں لگ رہا تھا۔ جب شائستہ نے اس سے پوچھاتو اس نے کچھ نہیں بتایا سب سہیلیوں کے جانے کے بعد شائستہ نے محبت اور پیار بھرے لہجے میں عائشہ سے پوچھا مجھے بتاﺅ کیا ہوا ہے۔میں تمہاری سہیلی ہوں میں تمہیں اپنی ساری باتیں بتاتی ہوں تم بھی مجھے بتاﺅ۔
عائشہ کے اندر حوصلہ پیدا ہوا اس نے شائستہ کو بتایا کہ میری امی ابو جب کسی کام کیلئے گھر سے دور جاتے ہیں اور ان کوشام کو لوٹنا ہوتا ہے تو وہ مجھے گاﺅں میں شاہد انکل کے گھر چھوڑ جاتے ہیں۔ شاہد انکل مجھے اس طرح چھوتے ہیں ہاتھ لگاتے ہیں جس سے مجھے بہت برا لگتا ہے۔ وہ مجھے گندی گندی تصاویر دکھاتے ہیں، میں نے انہیں منع کیا تو کہتے ہیں میں تو تمہارا انکل ہوں ، اگر تم نے کسی کو بتایا تو تمہارے امی ابو غائب ہو جائیں گے۔
شائستہ نے کہا کہ پھر تم نے اپنی امی ابو کو بتایا
عائشہ نہیں بتایا ڈر لگتا ہے ایک مرتبہ امی سے کہا تھا کہ مجھے شاہدانکل کے ہاں نہ چھوڑا کریں مجھے اچھا نہیں لگتا ہے۔لیکن امی کہتی ہیں وہ تمہاری انکل ہیں۔
شائستہ نے کہا کہ آﺅ میرے ساتھ ابھی اپنی امی کو سب کچھ بتاﺅ ، عائشہ گھر گئی اور اپنی امی کو حوصلہ کر کے سب کچھ بتایا ،امی نے عائشہ کو کہا کہ تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا عائشہ کہنے لگے امی میں نے آپ سے کہا تھا کہ مجھے شاہد انکل کے گھر جانا اچھا نہیں لگتا۔ماں کو احساس شرمندگی ہوئی کہ اس نے اپنی بیٹی کی بات پر غور کیو ں نہیں کیا۔شام کو عائشہ کے والد گھر آئے ان کو ساری بات بتائی گئی تو انہوں نے اسی وقت پولیس کو بلایا اور شاہد کو پولیس پکڑ کر لے گئی۔
تو پیارے بچو! اس کہانی سے ہمیں سیکھنے کو ملتا ہے کہ اگر کوئی بھی کوئی بھی آپ کو بری نظروں سے دیکھے،آپ کو ایسے چھونے کی کوشش کرے جو آپ کو برا لگے، آپ کو گندی تصاویر دکھائے ، ویڈیو دکھائے توآپ فوراً اپنے والدین کو بتائیں تاکہ وہ دوبارہ ایسی حرکت آپ کے ساتھ بھی بھی نہ کر سکے اور نہ کسی اور بچے کے ساتھ کر سکے۔
اور اس سلسلے میں والدین کو بھی چاہیے کہ جب بچہ آپ کو کچھ بتائے تو اس کی بات پرغور کریں یہ نہ ہو کہ آپ کی بے غوری آپ کو کسی پریشانی میں مبتلا کر دے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں