آخری شرارت

Grandparents

بچپن کا زمانہ کیا ہی خوبصورت کیا ہی عجب زمانہ ہوتا ہے جب بھی اس بیتے ہوئے وقت کو یاد کیا جائے تو انسان کا اپنا بچپن گزرے ہوئے کل کی مانند آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ جس سے اپنے بچپن کی یادیں پھر سے تازہ ہو جاتی ہیں۔
بچپن میں ہم پانچ چھ دوست گرمیوں کے موسم میں را ت گھومنے پھرنے کے لیے اکٹھے سڑک کی طرف جایا کرتے یا پھر اپنی ہی گلی کے چوک میں کھڑے ہو کر گپیں لگایا کرتے تھے۔
ایک دن ہمارے ایک دوست کو شرارت سوجھی کہ یار ہم ویسے ہی اتنی دیر یہاں کھڑے رہے ہیں تو کیوں نہ ہلکا پھلکا ہنسی مذاق کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ ہم سب نے اس شرارت میں بخوشی حصہ لینےکا وعدہ کیا۔
وہ مذاق تھا کہ چونکہ موسم گرما میں ہرقسم کے کیڑے مکوڑے اورسانپ وغیرہ اپنے اپنے ٹھکانوں سے باہر نکل آتے ہیں۔ اس لیے ہم رسی کا ایک سانپ بناتے ہیں اور اسے دھاگے سے باندھ کر گلی کے دوسرے موڑ پر رکھیں ۔ جہاں سٹریٹ لائٹ لگی ہوئی ہے تاکہ جب ہم دھاگے کی مدد سے سانپ کو اپنی طرف کھینچیں تو گزرنے والے کو روشنی میں سانپ کی حرکت کا علم ہوسکے۔
پہلے دن یہ مزاحیہ تجربہ کامیاب رہا۔ ہوا یوں کہ جوں ہی ہمارا دوست رسی کے سانپ کو گلی کے موڑ میں رکھ کر آیا تو ایک آدمی بڑی تیزی کے ساتھ اس موڑ کی طرف گنگناتا ہوا جارہا تھا ۔ جب وہ موڑ کے قریب پہنچا تو دو تین گز اونچی جست لی اور سانپ سانپ کرتا ہوا گلیوں میں روپوش ہوگیا۔ ہم سے نہ پوچھیے اس وقت ہمارا کیا حال تھا۔ بس ہنسی سے برا حال ہو رہا تھا۔یہ ڈرامہ کافی دنوں تک متواتر چلتا رہا اور ہر روز کوئی نہ کوئی نیا آدمی سانپ کا شکار بنتا جو دوسرے روز رات کو اس گلی سے گزرنے کی جرأت نہ کرتا۔
ایک دن اتفاق کی بات ہے کہ ہمارے جس دوست نے یہ ڈرامہ تشکیل دیا تھا ان کے والد صاحب کا اس گلی سے گزر ہوا جبکہ سانپ اپنے شکار کی تاک میں تھا۔ وہ کافی ضعیف العمر تھے اور تعجب کی بات یہ تھی کہ اس وقت دوست نے جب والد صاحب کو آتے دیکھا تو ڈر کے مارے چھپ گیا تاکہ ان کی ڈانٹ ڈپٹ سے بچ سکے۔
لیکن ستم ظریفی کی بات یہ ہوئی کہ جب وہ موڑ کے قریب پہنچنے والے تھے تو ہمارے ایک من چلے دوست نے دھاگا کھینچ دیا اور ان بزرگوار نے جب روشنی میں سانپ کو حرکت کرتے دیکھا تو گھبرا کر زمین پر گر پڑے۔ حتیٰ کہ سانپ سانپ کی آواز ان کے حلق سے بہت ہلکی ہلکی بڑی مشکل سے نکل رہی تھی۔ ہم سب کے ہوش و حواس گم ہو گئے۔
سانپ کو قریبی مکان کی چھت پر پھینک دیا اور خود ان کی طرف دوڑے اور ان کے بے جان جسم کو سہارا دے کر اٹھایا، پانی وغیرہ پلایا اور اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہوئے انہیں گھر چھوڑ کر آئے اور اس دن سے ہم سب نے شرارت سے توبہ کرلی کہ آئندہ کبھی ایسا مذاق نہ کریں گے۔
محمد اشرف صمد

اپنا تبصرہ بھیجیں