انڈین فوج نے مارچ میں 26کشمیری شہید کر ڈالے

kashmir

پاک و ہند کی آزادی سے لے کر آج تک مقبوضہ کشمیر آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے اور یہ جنگ نسل در نسل لڑی جارہی ہے۔ اس جنگ میں کبھی تھوڑی بہت کمی ضرور آتی ہے لیکن اس کی شدت کبھی کم نہ ہوپائی ہے۔ کشمیری اپنی زندگیوں کے نظرانے نسل در نسل پیش کر رہے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ یہ ایک خاص طبقے کی جنگ ہے تو یہ غلط ہوگا کیونکہ ایسا نہیں ہے ۔اس لڑائی میں بوڑھے ، بچے اور جوان سبھی شریک ہیں۔ جس کا جتنا بس چلتا ہے وہ چلاتا ہے ،کیونکہ جب شہادتوں کو دیکھتے ہیں تو اس میں نوجوان ہی نہیں بچے بھی شامل ہوتے ہیں۔
یہ جنگ اب نئی نسل کے نوجوانوں نے سنبھال لی ہے۔ جنہوں نے اپنے بڑوں کو شہادت کے بعد اپنے ہاتھوں سے لہد میں اتارا ، اوراپنی ساری زندگی فوجی اذیتوں میں گزاری ۔ پلوامہ حملے کے بعد یہ آزادی کا احساس اور شدت اختیار کر گیا کیونکہ انڈیا میں جا کر پڑھنے والے اور اپنی زندگی بہتر بنانے کی سوچ لیے سامان بیچنے والے نوجوانوں کو مارا پیٹا گیا،کیونکہ کشمیر میں ایک نوجوان نے اپنی حد سے زیادہ تذلیل کا بدلہ لیا تھا۔ یاد رہے کہ جن نوجوان کو مارا پیٹا گیا وہ کشمیری تھے۔ ویسے تو مسلمان انڈیا میں بہت ہیں لیکن تشدد کا نشانہ کشمیری مسلمانوں کو بنایا گیا اور یہ بات سارے کشمیر کو معلوم ہے کہ ان کو صرف کشمیری ہونے کی وجہ سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ پلوامہ حملے کے بعد اگر ہم صرف مارچ کے اعداد و شمار کی طرف غور کر یں تو آپ کو حیرت ہوگی کہ مقبوضہ کشمیری نوجوان کس اذیت میں زندگی گزار رہے ہیں اور ہر گھر سے نکلنے والے جوان کا واپسی کا شاید کوئی پتہ نہیں ہوتا۔ یہاں پر محبوبہ مفتی کی بات کرنا چاہوں گا جن کا کہنا تھا کہ ’’کشمیری نوجوانوں کو پکڑ کر لے جایا جاتا ہے اور واپسی ان کی تابوتوں میں کی جاتی ہے‘‘۔ یہ وہاں کی سابق وزیراعلیٰ کا بیان ہے۔ اگر پلوامہ حملے کے بعد آپ مارچ کے اعداد و شمار پر غور کریں تو آپ حیران رہ جائیں گے ۔صرف مارچ میں انڈین فوج نے 26کشمیری کو شہید کیا ہے اور ان 26میں سے ایک بچہ بھی شامل ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اس عرصے میں 251کشمیری شدید زخمی ہوئے ہیں جبکہ 148لوگوں کو گھروں میں چھاپے مار کر گرفتار کیا گیا ہے جبکہ فوجیوں نے 51گھروں کو بھی نقصان پہنچایا ۔
دوسری جانب کشمیر میڈیاسروس ہی کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں پچھلے چوبیس گھنٹوں میں 2انڈین فوجیوں نے اپنے آپ کو گولی مار کر خودکشی کی ہےاور جنوری 2007ء سے لے کر اب تک 425انڈین فوجی خودکشی کر چکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں