انسان اب سورج کے راز جاننے کی کوشش کر رہا ہے

sun

انسان اس جستجو میں لگا ہوا کہ کسی طرح سے کائنات کے رازوں کو جان سکے اور یہ اس کی اولین ترجیح ہے۔ خلا میں انسان پہلے ہی سے پہنچ چکا ہے اور وہاں پر بستیوں کے بسانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ چاند کی سطح پر پانی اور آکسیجن کے جو آثار ملے ہیں ان سے امید قائم ہو ئی ہے کہ آنے والے وقتوں میں انسانی آبادی زمین کے ساتھ ساتھ خلا میں ہوگی۔اور اس کیلئے وہ دن رات کام بھی کر رہا ہے۔ سورج کے بارے میں راز جاننے کیلئے سولر آربٹر کا مشن روانہ ہو گیا۔ یورپی اور امریکی ماہرین کی ٹیم نے کامیابی کے ساتھ کینیڈی سپیس سینٹر سے سولر آربٹر نامی خلائی مشن روانہ کر دیا ہے۔ اس کا سفر نو برس تک طویل ہو سکتا ہے۔ یورپی اور امریکی ماہرین کی ٹیم نے کامیابی کے ساتھ کینیڈی اسپیس سینٹر سے سولر آربٹر نامی ایک خلائی مشن روانہ کر دیا ہے۔ اس کا سفر نو برس تک طویل ہو سکتا ہے۔ مگر ماہرین کو امید ہے کہ اس کے ذریعے وہ سورج کے ایسے راز جان سکیں گے جن سے ہم اب تک لا علم تھے۔ یورپی خلائی تحقیقی ادارے ای ایس اے اورامریکی خلائی تحقیقی ادارے ناسا کے ماہرین نے مشترکہ طور پر کیپ کنیورل میں واقع مرکز سے سولر آربٹر نامی یہ خلائی مشن روانہ کیا ہے۔ اس مشن کا مقصد نظام شمسی کے بارے میں بڑے سوالات کا جواب تلاش کرنا ہے جس میں سورج کے قطبین کی اولین تصاویر اتارنا بھی شامل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں