انجیر ایک متبرک پھل:خون کی کمی، دائمی قبض اور بھوک کی کمی کو دور کرنے کے لئے یہ بے مثل پھل ہے

figg

حضرت انسان کے لئے اللہ تعالیٰ نے طرح طرح کی نعمتیں پیدا فرمائیں ہیں جو حقیقتاً ہمارے لئے احسان عظیم کا ذریعہ ہیں مالک الملک نے مختلف موسموں میں رنگ برنگی اور جدا جدا ذائقوں سے لبریز پھل اور سبزیاں پیدا فرما کر انہیں ہماری خوراک کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔ اس کے کرم اور فضل کا ہم شکر ادا نہیں کر سکتے۔ رب کائنات نے خاص طور پر سورة الرحمن اور قرآن حکیم میں جا بجا ارشاد فرمایا ہے کہ ” تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کوجھٹلاﺅ گے“۔ طبی نقطہ نگاہ سے بھی اطباءقدیم اور جدید اس بات پور ی طرح متفق ہیں کہ یہ سبزیاں اور پھل نہ صرف ہماری غذائی ضروریات کو پورا کرتی ہیں بلکہ کئی ایک بیماریوں کا قدرتی علاج بھی ہیں۔
قرآن حکیم کے 30ویں سپارے میں اللہ تعالیٰ نے انجیر جیسے متبرک پھل کو سورة التین کے نام سے موسوم کیا ہے گویا یہ جنتیوں کا پھل ہے روایات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ پھل حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے میں بھی موجود تھا۔ نامور سائنسدان حکیم بقراط نے اپنی ریسرچ کے مطابق دنیا میں سب سے پہلے انجیر جیسے متبرک پھل ہی کو پیش کیا ت ھا۔ پاکستان کے علاوہ دیگر کئی ایک ممالک میں بھی انجیر جیسا پھل قدرتی طور پر پایا جاتا ہے عام فہم زبان میں اس کو پھگواڑی یا انجیر کے نام سے بولتے ہیں۔ عربی میں التین اور انگریز ی میں فگ Figgکہا جاتا ہے ۔ اس کی تین اقسام تازہ انجیر پہلی قسم سیاہی مائل کا سنی رنگ، دوسری قسم سفید جو یورپی ممالک میں عام ہے اور تیسری قسم زرد رنگ جو کثرت سے ہمارے پہاڑی علاقوں میں پائی جاتی ہیں جس کو رسیوں میں پرو کر خشک کر کے محفوظ کر لیا جاتا ہے اور وہ سارا سال ڈرائی فروٹ کی دکانوںمیں ہمیں ملتی رہتی ہے۔ یہ خشک زرد رنگ انجیر ایک سال تک خراب نہیں ہوتی اور ہمارے ہاں لوگ یہی زیادہ تر ڈرائی فروٹ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ انجیر جیسے متبرک پھل میں شکریلے اجزاءکے علاوہ گوشت بنانے والے روغنی اجزاءکافی مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ پانی اور معدنی نمکیات کے علاوہ اس میں فولاد ، کیلشیم ، فاسفورس، کاپر، سوڈیم اور قدرتی آئیوڈین اور کیرے ٹین بھی شامل ہوتی ہے۔ وٹامن اے بی اور ڈی اور اس میں بھرپور شامل ہوتے ہیں۔
ہمارے قدیم سائنسدان اطباءکرام کے ساتھ جدید دور کے اطباءکرام بھی اس بات پر متفق ہیں کہ جسم انسانی میں خون کی کمی پوری کرنے اور توانائی اور قدرتی مدافعت بحال کرنے میں یہ متبرک پھل اپنی مثال آپ ہے۔ جگر کے فعل کو درست کرنے ، دماغی اعصابی تھکن کو دور کرنے اور دائمی قبض کو رفع کرنے کے لئے طبیب حضرات اس کو استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ زود ہضم ہونے کی وجہ سے معدہ اسے ڈیڑھ دو گھنٹے میں ہضم کر لیتا ہے۔ میرے ایسے بزرگ حضرات جو اکثر موسمی سردی اور جسمانی کمزوری کی وجہ سے دماغی اور اعصابی تھکن کی وجہ سے اپنے جسم میں قوت مدافعت کی کمی محسوس کرتے ہیں ان کے لئے یہ زود ہضم غذائیت سے لبریز متبرک پھل ایک قدرتی ٹانک کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسے حضرات کو چاہئے کہ رات کو انجیر زرد کے تین سے پانچ دانے مغز بادام سات عدد اور چھوٹی الائچی پانچ عدد پانی میں بھگو کر صبح سویرے بطور ناشتہ دودھ چائے کے ساتھ کھا کر قدرتی توانائی حاصل کر سکتے ہیں۔ جگر اور معدہ کی خرابی سے پیدا ہونے والی خون کی کمی۔ دائمی قبض اور بھوک کی کمی دور کرنے کے لئے انجیر تین سے پانچ عدد، دو عدد بڑی الائچی کے دانے اور سونف دس گرام رات کو پانی میں بھگو کر صبح بطور ناشتہ کھانے سے چند یوم میں جملہ عوارض رفع ہو کر رنگ سرخ و سفید ہو کر صحت قابل رشک ہوجاتی ہے۔ انجیر میں شکریلے اجزا ءزیادہ ہونے کی وجہ سے زیابیطس (شوگر)کے مریضوں کے لئے اس کا استعمال مفید نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں