اناج میں برکت

farmor brother

بچو! یہ کہانی ہمارے گائوں کے ماحول کے گردونواح گھومتی ہے۔جہاں پر فصلیں بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں اور روزگار کا زیادہ تر انحصار فصلوں پر ہی ہوتا ہے۔ یہ دو بھائیوں کی کہانی ہے عبد اللہ اور حیدر کی۔
عبد اللہ نوجوان اور صحت مند تھا وہ اپنی زمینیں خود کاشت کرتا تھا۔ خوب محنت کرتا ، فصلیں بھی خوب ہوتیں ، ان کی گزر بسر بہت اچھے طریقے سے ہو رہی تھی۔ دونوں بھائی اپنے اپنے کام کو دیانت داری سے سرانجام دے رہے تھے۔ پورا خاندان بڑی محبت سے مل جل کر رہ رہا تھا۔ بڑے بھائی کی اولاد بھی تھی اس کے باوجود کوئی مسئلہ پیش نہیں آتا تھا۔ عبداللہ کی شادی کر دی گئی، اس کی بیوی زیادہ عقل مند نہیں تھی۔ کچھ لوگوں کی باتوں میں آکر وہ اکثر اپنے شوہر کہتی رہتی۔ ساری محنت آپ کرتے ہیں جب صلہ ملتا ہے، تو اس میں آپ کے بڑا بھائی، ان کی بیوی کی اور بچے بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ یہ کیا بات ہوئی کہ محنت کوئی کرے اور عیش کوئی دوسرا کرے۔ عبد اللہ اسے سمجھاتا ، تم تو پاگل ہو میرا بھائی تو گائوں کا چودھری ہے وہ کیسے کھیتوں میں محنت کر سکتا ہے۔ پھر بھی انہیں کچھ خیال کرنا چاہیے۔ جتنا رزق اللہ تعالیٰ نے ہمارے حصے میں لکھ دیا ہے۔ وہ ہمیں مل رہا ہے، ہمیں اور کیا چاہیے۔ اس کی بیوی کی عقل میں یہ بات نہ آتی، اسے جب بھی موقع ملتا، وہ بات ضرور کرجاتی۔ ہوتے ہوتے یہ بات بڑے بھائی کے کانوں میں بھی پہنچ گئی۔اس نے سوچا کہ اس سے پہلے کہ حالات خراب ہو جائیں۔ مجھے چاہیے کہ میں اپنے چھوٹے بھائی کو اس کا حصہ دے کر الگ کر دوں۔
پیارے بچو! حیدر بڑا بھائی تھے، والد کی وفات کے بعد اس نے اپنے بھائی کو بیٹوں کی طرح پالا تھی اور اس کی بھابی نے بھی اس کا اچھی طرح سے خیال رکھا تھا۔ عبد اللہ کی شادی کے بعد حیدر نےاپنے بھائی سے کہا’’جب تم تنہا تھے ، تو تمہارا کھانا پینا تمہاری بھابی کے ذمے تھا ۔ کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ اس نے اپنی ذمہ داری میں کوئی کوتاہی تو نہیں کی۔
عبداللہ: بھیا آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں ،انہوں نے کبھی مجھے اپنا دیور نہیں سمجھا ہمیشہ میرا خیال چھوٹے بھائیوں کی طرح رکھا ہے ،انہوں نے اپنی ذمہ داری بڑی محبت اور خلوص سے نبھائی ہے۔
حیدر:بھائی ہم نے تمہاری شادی کر دی ہے تو تمہارے کھانے پینے کا کوئی مسئلہ نہیں رہا۔ اس لیے اس بار جب گندم کی فصل تیار ہو جائے گی، تو تم اپنا حصہ لے کر الگ ہو جانا۔ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں، عبد اللہ حیرت سے چلا اٹھا۔ میں وہی کہہ رہا ہوں ، جو مناسب ہے۔ اب تم ضد مت کرنا اور نہ ہی اس معاملے میں بحث کرنا۔ سمجھ لو یہ میرا فیصلہ ہے، جو تمہیں ماننا ہے۔
عبد اللہ کچھ کہنے کے لیے پر تول ہی رہا تھا کہ حیدر نے ہاٹھ اٹھا کر اسے منع کر دیا ،میں نے پہلے ہی تمہیں بتا دیا تھا کہ میں تمہاری کوئی بات نہیں سنوں گا۔ جو میں نے کہہ دیا ہے سو کہہ دیا ہے ۔عبد اللہ کو اپنے بھائی کی بات مجبوراً ماننا پڑی، کیونکہ یہ اس کے بڑے بھائی کا حکم تھا۔ پورا علاقہ اس کے بھائی کی بات مانتا تھا، تو وہ کیسے نہ مانتا۔ حیدر نے اپنے چھوٹے بھائی کو آدھا گھر بانٹ دیا ۔فصل تو پکنے پر ہی بانٹی جانا تھی، اس کے علاوہ جو کچھ بھی تھا، انہوں نے آپس میں تقسیم کر لیا۔حیدر نے پوری کوشش کی کہ اس کے چھوٹے بھائی کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔ اب دونوں فصل تیار ہونے کا انتظار کر نے لگے۔
حیدر اور عبد اللہ کو باپ کی طرف سے بہت سی زمین ملی تھی، حیدر بڑا بھائی تھا اس کی عقل مندی کی ہرکوئی تعریف کرتاتھا۔ وہ جس گائوں میں رہتے تھے ،نہ صرف وہ گائوں بلکہ ارد گرد کے دیہاتوں میں بھی جب کوئی مسئلہ پیش آتا، تو اسے بلایا جاتا۔ حیدر ان کے مسائل حل کرنے میں ان کی مدد کرتا تھا، ہر آدمی اس کی عزت کرتا تھا۔
یوں ایک دن حیدر نے عبد اللہ سے بات کر کے اسے الگ کر دیا ۔ عبد اللہ کی بیوی تو یہی چاہتی تھی۔ اس کی خواہش پوری ہو چکی تھی اس لیے اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں تھا۔ فصل تیار ہو گئی تو اسے کاٹ کر ایک بڑا کھلیان بنا دیا گیا۔ تھریشر لگی اور پھر انہوں نے گندم آپس میں بانٹ لی۔ حیدر نے عبد اللہ سے کہا میں چاہتا ہوں کہ گندم رات کی تاریکی میں اٹھائی جائے تاکہ ہمارے الگ ہونے کا کسی کو بھی علم نہ ہو۔ یہ نہ ہو کہ لوگ کہیں کہ دوسروں کے جھگڑے باٹنے والے کا گھر خود پھوٹ کا شکار ہے۔
بھیا ! میں بھی یہی چاہتا ہوں ،کھیت گائوں سے کچھ فاصلے پر تھے اس لیے حیدر نے عبد اللہ سے کہا۔ ایسا کرتے ہیں کہ باری باری ہم میں سے ایک گندم گھر لے جائے گا۔ دوسرا یہاں پہرا دے گا۔ اب تم گندم لے جائو۔ عبد اللہ نے گندم کی بوری اٹھائی اور گھر کی راہ لی۔ جب وہ نظروں سے اوجھل ہوا تو حیدر دل میں سوچنے لگا میرا چھوٹا بھائی میری ایک عرصے سے خدمت کررہا ہے ۔یہ فصل بھی اس کی محنت کی وجہ سے اتنی اچھی ہوئی ہے۔ میری تو اس پورے علاقے میں عزت ہے، اگر میرا ناج کم پڑ گیا تو میں تو کسی سے بھی مانگ لوں گا۔ وہ مجھے انکار نہیں کر سکے گا۔ اگر خدانخواستہ میرے چھوٹے بھائی پر ایسا کوئی مشکل وقت آپڑا، تو وہ بے چارا کیا کرے گا۔ اسے تو سودے بازی کا کچھ پتہ نہیں ،میں ایسا کرتا ہوں کہ اپنے حصے میں سے کچھ اناج اس کے حصے میں ملا دیتا ہوں تاکہ اسے کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یہ سوچ کر اس نے اپنے حصے میں سے کچھ اناج اپنے بھائی کے اناج میں ملا دیا ۔اتنے میں عبد اللہ واپس آگیا، حیدر نے کہا، اب تم یہاں بیٹھو! میں اپنا حصہ گھر پہنچا آئوں۔ حیدر نے بوری اٹھائی اور گھر کو چل دیا۔ اس کے جانے کے بعد عبد اللہ سوچنے لگا۔ میرا بھائی علاقے بھر کا چودھری ہے پھر اس کے بچے بھی ہیں اگر کسی وقت اس کا اناج کم پڑ گیا تو اسے کسی سے مانگنا پڑے گا۔ یوں میرے بڑے بھائی کی عزت خاک میں مل جائے گی۔ میرے ساتھ ایسا کچھ ہوا تو میں خود ہی کچھ نہ کچھ کر لوں گا۔ کیوں نہ میں اپنے حصے کے اناج میں سے کچھ اناج اپنے بڑے بھائی کے حصے میں ملا دوں، اس نے اپنی اس سوچ پر عمل کرنے میں کوئی تاخیر نہ کی ۔ حیدر واپس آیا، تو عبد اللہ نے بوری اٹھائی اور چل دیا۔ حیدر نے پھر اپنے اناج میں سے کچھ اناج اپنے چھوٹے بھائی کے حصے میں ملا دیا۔ عبد اللہ واپس آیا تو اس نے بھی حیدر کے جانے کے بعد یہی کام کیا ساری رات گزر گئی۔ ان کے گودام بھر گئے مگر اناج کی ڈھیریاں کھلیان میں اتنی ہی رہیں ان میں ذرا سی بھی کمی بیشی نہیں ہوئی تھی۔ حالانکہ ہر بار وہ اپنے حصے سے اناج دوسرے کے حصے میں ملاتے رہے تھے ۔ وہ ساری رات اناج ڈھوتے ڈھوتے تھک چکے تھے۔ لیکن اناج تھا کہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ صبح ہوئی تو وہ دونوں کچھ دیر آرام کرنے کے لیے بیٹھ گئے۔ ابھی انہیں بیٹھے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ وہاں سے گائوں کے ایک بزرگ گزرے ۔دونوں بھائیوں کو تھکا دیکھ کر پوچھا خیر تو ہے کہ اناج نہیں ڈھو رہے ہو ہم تو ساری رات اناج ڈھوتے رہے مگر اناج ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ اناج اب بھی اتنا ہی ہے جتنا ڈھونے سے پہلے تھا۔ دونوں بھائیوں نے جواب دیا، بزرگ جواب سن کر کچھ دیر سوچتے رہے۔ پھر بولے تم لوگ ایسا کر و کہ جس طرح رات کو اناج ڈھوتے رہے ہو اسی طرح اب میرے سامنے ڈھونا شروع کر دو ۔دونوں بھائیوں نے اسی طرح اناج ڈھونا شروع کر دیا اور ساتھ ساتھ دونوں بھائی ایک دوسرے کے اناج میں اپنے حصے سے کچھ اناج ملاتے رہے۔ بزرگ نے ساری صورت حال دیکھ کر پوچھا تم دونوں اپنا کچھ حصہ ہر بار ایک دوسرے کی ڈھیری میں کیوں ملاتے ہو۔ دونوں بھائیوں نے قدرے حیرت سے اپنی اپنی سوچ سے بزرگ کو آگاکیا، تو وہ مسکرا کر کہنے لگے۔
بیٹا! اللہ تعالیٰ نے تمہارے اسی اچھے کام کی وجہ سے تمہارے اناج میں اتنی برکت ڈل دی ہے کہ اگر تم اپنی پوری زندگی بھی یہ اناج ڈھوتے رہو، تو یہ ختم نہیں ہوگا۔ دونوں بھائیوں کو جب ایک دوسرے کے خیالات کا علم ہوا، تو وہ ایک دوسرے کے گلے لگ گئے۔ انہوں نے الگ نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔ جب عبد اللہ کی بیوی کو اس بات کا علم ہوا تو وہ بہت شرمند ہوئی۔ اس نے اپنے میاں، دیور اور اس کی بیوی سے معافی مانگی ۔یوں دونوں بھائیوں نے پہلے کی طرح اپنے اپنے کام سنبھال لیے۔ اس کے بعد ان کے درمیان کوئی مسئلہ نہ ہوا۔
تو بچو! ہمیشہ اچھی نیت سے کام کرو اور یہ پرواہ کبھی نہ کرو کہ اچھائی کا بدلہ کہا ں سے ملے گا۔ بس اچھائی کرتے رہو بدلہ دینے والی اللہ کی ذات ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں