امریکہ میں 2لاکھ کرو نا کے مریض اور غیر قانونی تارکین وطن

cove_19-P
EjazNews

دنیا بھر میںکرونا کے مریضوں کی تعداد عقل کو دنگ کر دینے والے اعداد و شمار سے آگے بڑھ چکی ہے۔9لاکھ سے زائد لوگ اس وائرس میں مبتلا ہو چکے ہیں۔جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 47ہزار سے بڑھ چکی ہے۔ دنیا میں اس وائرس سے متاثر ہونے والے ملکوں میں امریکہ سر فہرست ہو چکا ہے۔
صرف امریکہ میں اس کے مریضوں کی تعداد 2لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور رکنے کا نام نہیں لے رہی۔ اسی تناظر میں امریکی صدر نے واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس کی۔
ٹرمپ نے امریکہ میں اس کے پھیلائو کے مدنظر چرچ پر بھی تنقید کی انکا کہنا تھا کہ ضرورت کے وقت چرچ ذمہ داری پوری نہ کر سکے جو مایوس کنہے۔ چرچ متحد ہوں اور لوگوں کو اجتماع ، اتوار اور دیگر دنوں میں ملاقات سے روکیں ایسا نہ کیا گیا تو آپ دکھائی نہ دینے والے دشمن کو بڑا فائدہ دیں گے۔
اس کے ساتھ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں کارگو طیارے ضرورت کا سامان لے کر آرہے ہیں۔ ڈاکٹروں، عملہ کیلئے حفاظتی سامان براہ راست ہسپتالوں کو بھجوا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی نیشنل گارڈز ریاستوں میں میڈیکل سپلائی یقینی بنا رہے ہیں۔
اگر ہم امریکہ سمیت دنیا بھر کے اعداد و شمار کی طرف ایک نظر دوڑائیں تو سب سے زیادہ ہلاکتیں اسپین، اٹلی اور امریکہ میں ریکارڈ کی جا رہی ہیں جبکہ فرانس، ایران و برطانیہ بھی ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
امریکہ میں کرونا سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 5ہزار سے زائد، اٹلی میں 13 ہزار سے زائد، سپین میں 10 ہزار سے زائد، فرانس میں 4 ہزار سے زائد، ایران میں 3 ہزار سے زائد اور برطانیہ میں 2300 سے زائدہے۔
امریکی ریاست نیویارک میں مریضوں کی تعداد 83 ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے اور وہاں پر ہلاکتیں بھی 2219سے زائد ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ ہلاکتیں مزید بڑھیں گی۔یہ شہر امریکی صدر کا بھی اور اپنی پریس کانفرنس میں امریکی صدر نے نیو یارک کیلئے خصوصی بات بھی کی ہے کہ انہیں اس شہر سے محبت ہے
امریکی صدر نے اپنی پریس کانفرنس میں ایک اور اہم بات بھی کی ہے کہ امریکہ میں کرونا وائرس کے باعث دی جانے والی مراعات غیر قانونی طور پر امریکہ میں مقیم افراد کو نہیں ملیں گی۔ امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم انسانوں کی تعداد خاصی بتائی جاتی ہے ۔ جو کہ بہتر مستقبل کی تلاش میں وہاں آتے ہیں۔ لیکن یہ غیر قانونی طور پر مقیم لوگ اس وقت دنیا بھر میں ہوں گے اور ان کا کیا بن رہا ہے۔ اگر ان میں کوئی وائرس میں مبتلا ہے تو وہ کیسے اور کہاں سے علاج کروا رہا ہے کیونکہ ہر حکومت اپنے شہری کو ترجیح دے رہی ہے۔ مراعات اپنے اپنے شہریوں کو دے رہی ہے۔ حکومتی اپنی جگہ ٹھیک ہیں لیکن اس کڑے وقت میں غیر قانونی طور پر مقیم ان افراد کا خیال رکھنا بھی ضروری ہو گا کیونکہ اگر ان میں سے کسی کو وائرس کی شکایت ہوئی یا کوئی وائرس میں مبتلا ہوا تو آنے والے دنوں میں وہ وائرس کو دوبارہ پھیلا سکتا ہے۔
اس وقت تو بلا امتیاز ہر انسان کی تشخیص ضروری ہے۔
پابندیوں میں جکڑے ہوئے ایران میں بھی کرونا وائرس کے نئے مریضوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے ۔ایران میں مریضوں کی تعداد 47 ہزار سے زائد ہو چکی ہے جبکہ وہاں ہلاکتوں کی تعداد بھی 3 ہزار سے زائد ہوئی ہیں۔
ایران نے متعدد مرتبہ عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران پر عائد کی گئی پابندیوںکو ختم کیا جائے تاکہ ایران کرونا کے مریضوں کی بہتر دیکھ بھال کر سکے لیکن ایسا ہو نہیں رہا۔ امریکی صدر نے اپنی پریس کانفرنس میں ایران کا بھی ذکر کیا ان کا کہنا تھا کہ ایران سمجھوتہ کرنے کیلئے بے تاب ہے ۔ایران کیلئے کوئی جوہری ہتھیار نہیں بلکہ طبی سازو سامان تیار کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں