امریکہ اور برطانیہ کا مشترکہ ہیرو میجر رابرٹ راجرز

RobertRogers
EjazNews

نت نئی اقسا م کی فورسز تربیت حاصل کرنے کے بعد امریکی فوج کا حصہ بنائی جارہی ہیں۔ ان کے پیچھے جدید ترین ہتھیاروں کے ذخائر ہیں جو مختلف معاہدوں کے باوجود کم ہونے ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ لیکن اس آرٹیکل میں ہم آپ کاایک ایسی شخصیت کے بارے میں بتانے جارہے ہیں جسے تاریخ میں امریکہ کی سپیشل فورسز کا بانی سمجھا جاتا ہے۔یہی شخص ہیرو دشمن یعنی اینٹی ہیرو کے نام سے بھی مشہور ہے۔ زمانہ قدیم کی بات ہے امریکہ میں ایک شخص یو ایس گرانٹ کے نام سے پہچانا جاتا تھا۔ اسی نے امریکہ میں یونینو ں کی بالادستی کے لیے تربیت یافتہ جوانوں کی ایک فوج ترتیب دی اس کے پیچھے صنعت کاروں کا سرمایہ اسے توانائی مہیا کر رہا تھا۔ اس جنگ کو کنفیڈریس کے لیے لڑائی بھی کہا جاتا ہے۔ امریکہ نے جنگوں میں ہمیشہ آتشی ہتھیاروں پر بھروسہ کیا ہے اور یہی اس کی پہچان ہیں۔ اس کی ہمیشہ سے کوشش جدید ترین ہتھیاروں کی تیاری میں مرکوز رہی تاکہ دشمن اس کی ٹیکنالوجی کا مقابلہ کرنے کی بجائے ہتھیار ڈالنے کو ترجیح دے۔ جنگ خلیج میں بھی ایسا ہی ہوا ۔ لیکن غیر روایتی جنگوں میں امریکہ کو شکست فاش ہوئی۔ ویت نام اس کا قبرستان بنا۔ امریکہ کی تین اہم اقسام کی فوجیں 1950ءکی دہائی کے بعد بننا شروع ہوئیں ایک نام ڈیلٹا فورس ہے دوسری گرین بیرٹس کہلاتی ہے اور تیسری فورس سیل کے نام سے مشہور ہے۔
مگر امریکہ تو 17ویں صدی سے جنگیں لڑ رہا ہے اس وقت اس نے کیا حکمت عملی اختیار کی۔ جب بینجم چرچ نے جان ٹال کوٹ کے ساتھ مل کر اپنے سکاﺅٹس کھڑے کیے۔ اور دوست ریڈ انڈینز کی کمپنیوں پر حملہ آور ہوئے۔ ان کی فوجوں نے نو آبادیاتی سپاہیوں کو شکست فاش دی۔ نیو انگلینڈ میں بھی ان لوگوں نے 1775ءمیں شا ہ فلپ کی فوجوں کو شکست دی۔ یہ جنگ دنیا کی تاریخ کی انتہائی غیر موثر روایتی جنگ ہے۔
رابرٹ روجر 1731ءمیں پیدا ہوئے وہ سکاٹ آئرش النسل تھے۔ انہوں نے میسا چوسسز کے شہر میتھو ین میں آنکھ کھولی۔ مگر ان کی پرورش نیو ہیمب شائر کے ایک محاظ پر ہوئی جہاں اس زمانے میں ان کے والد تعینات تھے۔ انگلینڈ سے جانے والے بے شمار لوگوں نے بطور آباد کار وہی سکونت اختیار کی تھی۔ 24سالہ رابرٹ راجر ایک ٹھوس جسم کے مالک تھے۔ انتہائی با وسیلہ طاقتور اور گٹھے ہوئے جسم کے مالک تھے انہوں نے ابی ناکی Abenakiحملہ آوروں کا مقابلہ کرنے کے لیے نیو ہیمبر شائر کی ملائیشیا میں شمولیت اختیار کی اور دو مرتبہ انہیں نیو ہیمبر شائر جانا پڑا۔ کئی مرتبہ انہوں نے فرانس اور برطانیہ کی آبادیوں میں بھی بطور گائیڈ کے خدمات سرانجام دیں۔ اس طرز زندگی نے انہیں ایک صحیح تربیت یافتہ فوجی بنا دیا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ نوجوان راجرز 6فٹ قامت کا فوجی جوان تھا۔ اور اپنے قد کاٹھ کی وجہ سے علاقہ بھر میں اس کی شناخت تھی۔ 1743ءسے 1753ءکے مابین اس کی زندگی کے بارے میں کچھ اس طرح کے جملے ملتے ہیں۔
راجرز کا تعلق امریکہ سے تھا مگر وہ برطانوی اور فرانسیسی آباد کاروں سے اچھی طرح آشنا تھا۔ اوریہ آباد کار بھی اس سے باخوبی واقف تھے۔ یہ علاقہ بے آب و گیا صحراﺅں پر مشتمل تھا ۔ پہاڑی چوٹیاں تھی اور وادیاں بھی۔ دریا اور چشمے بھی تھے اور ان میں پر پیچ راستے بھی۔ اور انہی کے بیچ میں کہیں ان کی بستیاں آباد تھیں۔ ان پر پیچ راستو ں پر اس نے ہمیشہ سفر کیا ،اسے اپنے شہر کے بارے میں جاننے کی جستجو تھی۔ اور یہی وہ کرتا رہا۔
اس زمانہ میں راجر کے نام کا سکہ چلتا تھا۔ فرانسس پارک مین نے بھی 19ویں صدی میں اس کے کچھ مقبول کارنامے بیان کیے ہیں۔ چند سال پہلے ٹرن واشنگٹن سپائس یعنی واشنگٹن کے جاسوسوں کو بدل دو کے عنوان سے ایک سیریز منظر عام پر آئی۔ اس ٹی وی سیریل میں راجر مور کو ایک بے ر حم قاتل کے طور پر دکھایا گیا جس نے انقلاب امریکہ کے دوران برطانویو ں کا پوری طاقت سے مقابلہ کیا۔ بیشک اس نے برطانویوں کے ساتھ برطانویوںکے لیے جنگ لڑی مگر اس کی آخری ایام انتہائی درد ناک تھے۔ اس کی موت انتہائی المناک ہوئی۔آخری وقت میں وہ لندن میں بستر مرگ پر ایڑھیاں رگڑتے ہوئے مرا۔ شراب نوشی کی علت نے اسے بستر پر ایسا ڈالا کہ پھر وہ اٹھ نہ سکا۔ اس نے ویسٹ چیسٹر کاﺅنٹی نیویارک میں بھی جنگ لڑی مگر ہار گیا۔ اس جنگ کے بعد اسے کمانڈر کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔ تاہم اسے کینیڈا بھیج دیا گیا۔ جہاں وہ فوجی جوانوں کی بھرتی میں اپنی خدمات سرانجام دیتا رہا۔
راجرز کی خدمات یہ نہیں کہ اس نے انقلاب میں کیا کردار ادا کیا بلکہ میجر راجرز کی اصل اہمیت یہ ہے کہ اس نے 6سو جوانوں کی ایسی تربیت یافتہ فوج ترتیب دی جس نے برطانیہ کو ایک طاقتور ملک کے طور پر پیش کیا۔ یعنی اس کے 6سو خصوصی تربیت یافتہ اور حملہ کرنے کی قوت رکھنے والے جوانوں نے ہی برطانیہ کو ایک بالا دست قوت کے طورپر اقوام عالم کے سامنے پیش کیا۔ شمالی امریکہ برطانوی خصوصی تربیت سے باخوبی واقف تھا۔ اس کے تربیت یافتہ سپاہیوں نے فرانس اور انڈین وار میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ یہ جنگ 1754ءسے 1763ءتک جاری رہی۔
دنیا کے تھیٹر پر اس کا کردار انتہائی پیچیدہ اور بھیانک تھا۔ وہ جنگل ہو یا پہاڑ کسی جغرافیائی پیچیدگیوں سے کبھی خوفزدہ نہیںہوا۔ چشمے اور دریا بھی اس کے مشن میں رکاوٹ نہ بن سکے۔ 1755ءمیں فرانسیسی نیو یارک میں طاقت میں تھے اور جنوب کی طرف وہ اپنی پیش قدمی کر رہے تھے۔ جنرل ایڈور گرے ڈاک شمالی امریکہ میں کمانڈر تھے۔ انہوں نے نیو انگلینڈ ملائیشیا کے 5ہزار سپاہیوں کو بھی ساتھ ملا لیا اور فورتھ سینٹ فریڈرک کی جانب جنوب میں بڑھنے لگے۔ یہ علاقہ لیک آف چمپلین کے آخری کونے میں واقع ہے۔ جنوب میں برطانوی آبادکاروں کی یہ آخری چوکی ہوا کرتی تھی اس مہم کے کمانڈر جنر ل ویلیم تھے۔ اس کو دشمن کی نقل و حمل اور ہر طرح کی معلومات تھی کہاں کہاں قلعہ بندی کی گئی فوجی سازو سامان کتنا ہے کیا نقصان کرسکتے ہیں مگر ان کے اپنے تمام سکاﺅٹس مارے جاچکے تھے یا پھر دشمن کی قید میں تھے۔ جو باقی بچے وہ کوئی معلومات حاصل کرنے میں ناکا م رہے۔ نیو ہیم شائر کے کمانڈر کے پاس ان تمام مسائل کا حل تھا۔ اس کی رگوں میں برف جیسا ٹھنڈا خون دوڑتا تھا یعنی اس کے دل میں رحم نام کی کوئی چیز نہ تھی۔اس شخص کا نام رابرٹ راجرز تھا۔
یہ اس کا پہلا لانگ رینج جاسوسی کا مشن تھا۔ راجر نے اس سلسلہ میں 2لوگوں کو اپنے ساتھ لیا۔ اور دشمن کی صفوں میں دور تک گھس گیا وہ 9روز تک دشمن کی صفوں میں شامل رہا۔اس نے بار بار دشمن کی صفوں میں شامل ہو کے فرنچ انڈین کی گشت کا اچھی طرح بار بار ملاحظہ کیا۔ کئی مرتبہ اس نے فورتھ ویلیم ہینڈری میں اپنے کمانڈر سے رابطہ کیا اور فرانسیسیوں کی دفاعی حکمت عملی کے بارے میں باریک سے باریک بات ان کے کانوں تک پہنچا دی۔ اس نے دشمن کی عسکری حیثیت اور منصوبہ بندی کی ایک ایک بات سے اپنے کمانڈر کو آگاہ کیا۔
ابھی چندماہ ہی گزرے تھے کہ سال ختم ہو گیا اور راجر کو 50سپاہیوں کے ساتھ ایک اور ٹاسک دیا گیا وہ ایک مرتبہ پھر اپنے مٹھی بھر جوانوں کے ساتھ فرانسیسی صفوں میں گہرائی تک گھس گیا۔ اس نے فورتھ فیڈرک اور فورتھ کیری لون کا بغور جائزہ لیا۔ یہ فورتھ کیری لون بعد میں فورتھ ٹیکار ڈی لورا کے نام سے مشہور ہوا۔ برطانیوں نے امریکی ثقافت کا حلیہ ہی بدل ڈالا تھا اسی لیے نام بھی تبدیل کر دیا۔ اس نے بتایا کہ یہ قلعہ فریڈرک کے جنوب میں 16میل کے فاصلے پر لیٹ جارج کے ایک سرے پر واقع ہے۔ اپنے مشن کی تکمیل کے دوران ناصرف وہ دشمن کی صفوں میں گھسا رہا بلکہ فرانسیسیوں اور ریڈ انڈینز کو بھی قیدی بناتا رہا۔ اس نے کئی قیدیوں کو حراست میں لے کر برطانوی ہیڈ کوارٹر پہنچا دیا۔ بعد میں برطانوی افسروں نے ان گرفتار فوجیوں سے مزید معلومات حاصل کر لیں ۔راجر ایک بہترین تربیت یافتہ سکاﺅٹ ہی نہ تھا بلکہ وہ ٹرینر بھی تھا۔ اسی صلاحیت کی بنا پر برطانیہ نے اسے کمیشن کی پیش کش کی اور 60جوانوں پر مشتمل کمپنی قائم کرنے کے لیے کمیشن کی پیش کش کی ۔رینجرز کا مطلب تھا کسی بھی قسم کے سپاہی ۔ ایسے سپاہی جو کسی بھی ملک کی دوردراز سرحدوں میں گھس سکیں ۔اس نئی تربیت یافتہ فورس میں فرانس کے حامی انڈین دیہات میں کئی حملے کیے اور کئی بڑی فرانسیسی تنصیبات کو نقصان پہنچایا۔ راجرز بہروپ بدلنے کا ماہر تھا۔ کسی بھی نامساعد صورتحال میں وہ اپنا رنگ و روپ بدل لیتا۔ اگلے پانچ برسوں تک راجر ز اور اس کی رینجرز نے مزید 8یا 9مختلف حامل کی کمپنیاں قائم کیں۔ یہ برطانوی فورس کی آنکھیں اور کان تھے اور نیو یارک کے تھیٹر پر برطانوی فورس کی طاقت تھے۔ بذات خود راجر صرف ایک کمپنی کا کمانڈر تھا لیکن پوری کور کی تربیت اسی نے کی تھی۔ راجرآئر لینڈ اسی کے نام سے رکھا گیا۔ دریائے حرسن کے بالائی حصے پر اسی جگہ اس نے اپنا تربیتی کیمپ قائم کیا تھا۔ اس کا کام معلومات چرانا اور دشمنوں کی صف میں گھسنا اور ہر قسم کی معلومات مہیا کرنا تھا۔ اس نے انڈینز کی جنگی حکمت عملی کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا۔ 18ویںصدی کی روایتی جنگوں میں اس کی رینجرز نے انتہائی کامیاب مشن مکمل کیے۔ 1757ءمیں راجر ز نے 75افراد کے ساتھ قلعہ فیڈرک اور قلعہ کیری لون کی جانب جانے والے فرانسیسی قافلے پر حملہ کیا۔ اسے سنو شوز اور آئس سکیٹس پہن رکھے تھے ایک مرتبہ پھر وہ متعدد فوجیوں کو گرفتار کرنے میں کامیاب رہا۔ مگرواپسی پر دگنی طاقت کے ساتھ فرانسیسیوں نے اس پر حملہ کر دیا مگر بلا کی پھرتی کے حامل وہ اور اس کے سپاہی بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔ اس نے دن بھر فرانسیسی سپاہیوں کو جنگ میں الجھائے رکھا اور رات کی تاریکی میں اس کا محاصرہ توڑ کر اپنی منزل کی جانب پلٹ گیا۔اس جنگ میں رینجرز کے سپاہی مارے گئے اور 12زخمی ہوئے۔ فرانسیسیوں کا نقصان اس سے دگنا تھا اور متعدد فرانسیسی اب بھی راجر کی قید میں تھے۔ ذرا موسم خوشگوار ہو ا توراجرنے مزید بھرتیا ں کر لیں اس نے جدید انداز میں کشتیاں بنائیں اور ہر کشتی پر 10ماہر تعینات کیے ۔ انہیں سیل کا نام دیا۔ ان کا کام فرانسیسی فوجوں کی سپلائی لائن کو کاٹنا تھا۔ پہ پرپیچ پہاڑوں میں بھی کشتیاں دوڑانے کے ماہر تھے کچھ تو 6-6میل تک باآسانی سفر کر لیتے۔
ایلن نیوس کو 20ویں صدی میں راجرکا پہلا بائیو گرافر سمجھا جاتا ہے۔ اس نے بتایا کہ راجرزدرد اور جانی نقصان سے بے پرواہ ، تھکن سے بے نواز اپنی کامیابیوں کے حصول کے لیے گامزن رہتا۔ موسم کی سختی او پہاڑی پتھروں کی چبن کبھی اس کے پیشے میں رکاوٹ نہ بنی۔ ستمبر 1759ءمیں اس نے سو میل دور فرانسیسی صفوں میں کامیاب حملہ کیاکیونکہ ابی ناتی نامی انڈینز نے 4سو امریکیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔یہ ہلاکتیں دریائے فرانسیس کے کنارے پر ہوئیں۔ اب یہ علاقہ کینیڈا کے شہر کیوبک میں شامل ہے۔ وہ علی الصبح دشمن کے گاﺅں میں داخل ہوا دشمن اسے پہچاننے میں ناکام رہا۔ وہ خنجروں سے مصلح تھا اور ایسے دو سو جنگجو اس کے ساتھ تھے۔ فرانسیسیوں نے راجر اور اس کے سپاہیوں کے مقابلے کے لیے بھرپور حملہ کیا۔ اس کی دریائی کشتیاں تباہ کر ڈالیں اور امریکیوں کو عبرتناک انداز میں وہاں سے فرار ہونا پڑا مگر یہ واپس دریائے کنیکٹر پہنچ گئے اس پورے سفر کی داستان راجرز نے ایک جریدے میں بیان کی ہے۔8دن میں اس کے ساتھی بری طرح تھک چکے تھے۔ 50کے قریب رینجرز یا تو مارے گئے یا پھر دوران سفر دشمنوں کی قید میں چلے گئے۔ یہ لوگ بھوک سے نڈھا ل تھے۔ راجر اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ ہی زندہ بچ کر سامنے آیا۔ وہ اتنا تھک چکا تھا کہ کسی اور سفر کے قابل نہ تھا لیکن 1754ءمیں فورتھ کیری لون میں ا س نے اپنا جھنڈا لہرا دیا تھا۔ اس کے نتیجے میں شمالی امریکہ میں تمام فرانسیسی فوجیں ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو گئیں اس کے تربیت یافتہ جنرل نے بھی مانیٹیار پر قبضہ کر لیا تھا اس مایہ نازفتح پر برطانیہ انتہائی خوش تھا صرف 2سو جوانوں کی مدد سے اس نے اتنی بڑی فتح حاصل کی تھی۔ یہ 2سو جوان 16سو میل کے علاقے پر قابض تھے۔ جنگ کے آخر میں اس کے حق میں اخبارات میں ہزاروں مضامین شائع ہوئے۔ اس کے بارے میں برطانوی نو آبادیوں میں سینکڑوں پمفلٹ تقسیم ہوئے رابرٹ راجرز ہی دراصل پہلا امریکی ہیرو تھا۔ جس نے تربیت یافتہ فوج بے سرو سامانی کی حالت میں بھی فتوحات کے جھنڈے گاڑ سکتی ہے اس نے اپنی رینجرز کے لیے 28رولز آف رینجنگ ترتیب دئیے اسے غیر روایتی جنگ کے پہلے نصاب کی حیثیت حاصل ہے۔ امریکی فوج میں انہی اصولوں کو سب سے پہلے پڑھایا جاتا ہے۔ جارجیا میں قائم امریکی فوج کا رینجر سکول اس کے نصاب کے مطابق تربیت دیتا ہے۔ اس کا اولین نقطہ یہ ہے کہ دشمن کے اڈے پر حملہ کرنے کے بعد واپسی کا راستہ بدل لو دوسرا نقطہ یہ ہے کہ دریا پار کرتے وقت دشمن کی سرحدوں میں داخل ہونے کے لیے عام راستے ہرگز استعمال نہ کیے جائیں۔ دشمن کی فوجیں زیادہ ہونے کی صورت میں ان کے بکھرنے کا انتظار کیا جائے اور خود بھی منتشر ہو جاﺅ اور مختلف راستوں سے رابطے بڑھنے کا انتظار کر و اگر آپ تعداد میں کم ہیں تو حملے کے لیے رات کے اندھیرے پھیلنے کا انتظار کرنا ضروری ہے۔ رات کی تاریکی میں واپسی کا سفر بھی آسان رہتا ہے۔ راجر ز 1768ءمیں مانٹریاٹ سے برطانیہ واپس پہنچا مگر وہ شراب کا رسیا تھا۔ اسے جارج واشنگٹن نے خدمات کے لیے کئی پیشکشیں کیں مگر کانٹی نینٹل فوج نے اسے ایک جاسوس سمجھا چنانچہ وہ فلڈلفیا کے قریب گرفتار ہو گیا مگر اپنی تربیت کی وجہ سے فرار ہوگیا۔ برطانیہ نے اس کے نام پر بٹالین قائم تھی۔ مئی 1769ءمیں ہیلری کلنٹن نے اسے رینجرز کے نام برطانیہ میں نئی فوج بنانے کی دعوت دی مگر اس نے معذوری کا اظہار کیا۔ تب کینیڈا میں جنرل نے راجرز کو نا اہل اور نا قابل اعتبار قرار دے دیا۔ 1771ءمیں نیویارک واپس پہنچا امریکی بحریہ نے گرفتار کر کے اسے جیل میں ڈال دیا مگرایک ہی سال کی قید کے بعد 1782ءمیں وہ رہا ہو کر لند ن واپس پہنچ گیا۔اس کے نیو ہیبر شائر کے علاقے میں داخلے پر پابندی عائد تھی۔ برطانوی فوج سے ملنے والی تھوڑی سی پنشن پر اس نے اپنی موت تک گزارا کیا۔ لندن میں خبر شائع ہوئی لیفٹیننٹ کرنل انتقال کر گیا تھا وہ جنگ کے آخری حصے میں امریکہ میں بھی رہا۔ وہ غیر معمولی طاقت کا حامل تھا مگر اس نے جیل بھی کاٹی ۔انہی وجوہات کی بنا پر اس کے آخری ایام انتہائی کسمپرسی میں گزرے اس کے جنازے میں محض 2افراد ماتم کو نہ تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں