اس وائرس کو سنجیدگی سے لیجئے، اپنوں کیلئے

corona_virus_pakistan

یہ بات اٹل حقیقت ہے کہ جس کی موت جب آنی ہے تب ہی آنی ہے، جیسے آنی ہے ویسے ہی آنی ہے۔ جو جتنی زندگی لکھوا کر لایا ہے اتنی ہی پائے گا، نہ کم نہ زیادہ ۔ تو سوچئے پھر ہم ادویات کا استعمال کیوں کرتے ہیں، ہم ورزش کیوں کرتے ہیں، ہم مختلف ممالک میں رہنے والے مختلف طرح کے ٹوٹکے کیوں استعمال کرتے ہیں۔ ہم صحت مندی کیلئے ہزار جتن کیوں کرتے ہیں۔ اس کا آسان سے جواب یہ ہے کہ ہم جتنی زندگی اللہ سے لکھو ا کر لائے ہیں اسے صحت مندی کے ساتھ گزارنے کیلئے اور اس کا شکر بجا لانے کیلئے۔
لیکن کرونا وائرس کو لے کر ہمارے ہاں ایک عجیب سا طرز عمل دیکھنے میں آرہا ہے۔ لوگ اس وائرس کو سنجیدگی سے لے ہی نہیں رہے۔ لوگوں کی گہما گہمیوں پر نظر یں دوڑائیں تو یقین نہیں آتا کہ ان سب کو یہ فکر ہے بھی کہ ہمارے ملک میں کرونا وائرس جیسی کوئی مہلک بیماری داخل ہو چکی ہے۔ جو صرف ان کیلئے نہیں دوسروں کیلئے بھی سخت مسائل کا باعث بن رہی ہے۔ کیونکہ یہ بیماری ایک انسان سے دوسرے انسان کو لگتی ہے۔ اور وائرس زدہ انسان نے جس چیز کو چھوا ہوتا ہے اس سے بھی یہ بیماری دوسروں کو منتقل ہو نے کا اندیشہ قائم رہتا ہے۔
اب میں آپ کے سامنے اس وائرس سے ہلاک ہونے والے دنیا بھر کے لوگوں کے اعداد و شمار رکھتا ہوں۔
اس وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد دنیا بھر میں 88563ہے جبکہ اس وائرس میں ہلاکتیں دنیا بھر میں ہو رہی ہیں لیکن اٹلی چونکہ اس وائر س سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے ۔اس لیے وہاں ہلاکتیں بھی دنیا بھر سے زیادہ ہو رہی ہیں اور اطلاعات کے مطابق وہاں ہونے والی ہلاکتیں چین سے بھی بڑھ چکی ہیں ۔ غیر ملکی رپورٹ کے مطابق 3405افراد اس وقت ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ وائرس کے شکار 41035افراد ہے۔ چین میں ہلاکتیں 3248ہوئی ہیں۔ جبکہ چین نے اس وائرس پر تقریباً قابو پالیا ہے اور اب وہاں پر نئے مریض بھی منظر عام پر نہیں آرہے ۔
دوسری جانب اگر ہمارے خطے کے قریبی ملک کی بات کی جائے تو وہ ایران ہے یہ یورپ کے بھی قریب لگتا ہے ۔ایران میں اس وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 1284ہے۔ جبکہ متاثرین 18407ہے۔ سپین میں وائرس سے شرح اموات 831ہو گئی ہے۔ جبکہ وہاں پر 18ہزار سے زائد افراد اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔ فرانس میں اس وائرس سے 372افراد ہلاک ہوئے ہیں ۔ امریکہ میں 217افراد اس وائرس کی نذر ہو چکے ہیں۔ برطانیہ میں 144، جنوبی کوریا میں 94،نیدر لینڈ میں 76، سوئزر لینڈ میں 43، بیلجیم میں 37، جاپان میں 33، کینیڈا میں 12،انڈونیشیا میں 32، فلپائن میں18، عراق13 ،سان مرینو14، الجیریا میں 10 افراد اس وائرس کی وجہ سے دنیا فانی سے جا چکے ہیں۔
یہ ہلاکتیں دنیا بھر میں ہو ئی ہیں ۔ پاکستان میں بھی ایک مصدقہ ہلاکت کی اطلاع مل چکی ہے۔ اس وائرس کے مریضوں کی تعداد بھی دن بدن بڑھ رہی ہے۔ اس ساری صورتحال میں ہم یہ نہیں کہتے کہ آپ کام پر نہ جائیں، محنت مزدوری نہ کریں بلکہ یہ کہتے ہیں کہ کچھ دنوں کیلئے مل جل کر رہنے کی عادت کو چھوڑ دیں۔ اگر آپ چھ لوگوں کے درمیان جاتے ہیں اور ان کو السلام علیکم با آواز بلند کہتے ہیں تو اس سے بھی السلام علیکم کرنے کا وہی ثواب ملتا ہے جو ہاتھ ملانے سے ملتا ہے۔ آپس کے میل جول کیلئے گلے ملنا کہیں بھی شریعت کی رو سے ثابت نہیں ہے تو پھر کچھ دنوں کیلئے اگر آپ ایک دوسرے کے گلے نہیں ملیں گے تو کیا ہو گا۔ یہ دلوں میں فاصلے بڑھانے کی بات نہیں ہے بلکہ یہ بہت سی ایسی زندگیوں کو بچانے کی بات ہے جو ہماری وجہ سے مشکلات میں آسکتی ہیں۔کیونکہ یہ وائرس خطرناک نہیں خطرناک ترین ہے۔
اگر میں اپنے ملک میں صحت کے معاملات کو دیکھوں تو حیرت انگیز طورپر شرمندگی کے سوا کچھ نہیں ملے گا ۔ ایسی صورتحا ل میں کیا ہم اس وائرس کا امیر ملکوں کی طرح مقابلہ کر سکتے ہیں جواب نہیں۔ چین کی معیشت اتنی مضبوط ہے کہ وہ اس وائرس کے بعد نہ ہونے والی ٹریڈ کے باوجود نہیں گرے گا لیکن ہماری معیشت اس قدر کمزور ہے کہ اگر یہ وائرس خدانخواستہ پھیل گیا تو ہم کسی طرح بھی اسے سنبھال نہیں سکتے۔
اس لیے اس وائرس کو سنجیدگی سے لیجئے ، اپنوں کیلئے ۔

(الف سلیم)

اپنا تبصرہ بھیجیں