اسٹرابیری کا استعمال کینسر کے مرض کو روکتا ہے:ڈاکٹر نسرین صدیق

staberary

اسٹرابیری خوبصورت سرخ رنگ کا پھل ہے جو ہر جگہ پھلوں کی دوکانوں اور ریڑھیوں پر سجا نظر آتا ہے۔ یہ200سال قبل مسیح میں روم میں اگائی گئی تھی جبکہ موجودہ دور میں فرانس نے1750میں پہلی بار اسٹرابیری کی کاشت شروع کی تھی۔ اسٹرابیری کی کاشت کے لئے معتدل درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ زیادہ تر یہ خوبصورت اور خوش ذائقہ پھل مارچ سے جون کے دوران مارکیٹ میں ملتا ہے۔ اس کا تعلق گلاب کے خاندان سے ہے۔ اس کی سب سے اچھی خصوصیت یہ ہے کہ اسے گملے میں بھی لگایا جاسکتا ہے۔ سرخ رنگ کا یہ پھل جتنا خوبصورت نظر آتا ہے اتنا ہی یہ ہماری صحت کے لئے مفید بھی ہے۔ یہ ذائقے میں نہایت لذیذ اور رس سے بھرپور ہوتی ہے۔ اس میں غذائی اجزاء کی کثرت اور حراروں میں کمی کی وجہ سے نہ صرف صحت کے لئے مفید ہے بلکہ اس کے کھانے سے وزن بھی نہیں بڑھتا۔ اسٹرابیری کو بڑے پیمانے پر کھانے پینے کی اشیاء مثلاً جام جیلی، اسکوائش، آئس کریم، ملک شیک، مٹھائیوں اور کیک وغیرہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اسٹرابیری کا روزانہ استعمال جسم کی قوت مدافعت بڑھاتا ہے اس میں وٹامن سی وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ وٹامن سی جسم کے دفاعی نظام کو مضبوط کرتا ہے۔ یہ جلد کو صحت مند اور توانا رکھنا ہے اس میں فائبر ، فولیٹ، انٹی آکسیڈنٹ اجزا، پوٹاشیم، میگنیشیم ، جسٹ ، آیوڈین، فلیونائیڈز، وٹامن بی2، بی5، بی6اور مینگینز کی کافی مقدار پائی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق وٹامن سی انٹی آکسیڈنیٹ ، ایلیک ایسڈ کی وجہ سے اسٹرابیری کا استعمال کینسر کے مرض کو روکتا ہے خاص طور پر پھیپھڑوں، معدے کی نالی، چھاتی، زبان اور جگر کے کینسز کو روکنے میں اسٹرابیری اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ اینٹی آکسیڈنٹ اور وٹامن سی کی وجہ سے آنکھیں تندرست رہتی ہیں اس سے موتیے کے مرض کی روک تھام میں مدد ملتی ہے جس سے بڑھاپے میں بینائی ختم ہونے کے خطرے میں کمی آجاتی ہے۔ اسی طرح اس کے کھانے سے امراض قلب اور ذیابیطس سے بھی تحفظ ہوتا ہے۔ پوٹاشیم کی موجودگی کی وجہ سے یہ بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں نہ صرف مدد دیتی ہے بلکہ ہائی بلڈ پریشر کو کم بھی کرتی ہے اگر اسٹرابیری کا استعمال باقاعدگی سے جاری رکھا جائے تو کمزور حافظہ بہتر ہوجاتا ہے اور بڑھاپے میں بھی یاداشت متاثر نہیں ہوتی اور کسی بھی کام کے دوران کام پر بھرپور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت قائم رہتی ہے۔سٹرابیری میں موجود میگنیشیم کی وجہ سے ہڈیاں مضبوط رہتی ہیں اگر حاملہ خواتین دن میں آٹھ دس اسٹرابیری کھالیں تو ان کی فولٹ کی کمی تو پوری ہوتی ہی ہے ساتھ ہی ان کے ہونے والے بچے پر بھی مفید اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس میں موجود فائبر کی وجہ سے قبض کا خطرہ کم ہوجاتا ہے اگر چہرے پر داغ دھبے ہوں یا سن برن کے نشانات ہوں تو سٹرابیری کو درمیان سے کاٹ کر جلد پر مساج کرنے سے ان تکالیف سے نجات مل سکتی ہے۔ اسی طرح اگر دانتوں پر پیلامیل جما ہو تو سٹرابیری کا ٹکڑا کاٹ کر ملنے سے یہ ختم ہوجاتا ہے۔
جاپان میں ایک نایاب سٹرابیری پائی جاتی ہے جو سفید رنگ کی ہوتی ہے۔ یہ نہ صرف منفرد ہے بلکہ قیمتی بھی ہوتی ہے۔ دراصل جاپان کے ایک شہری نے چند سال قبل سفید سٹرابیری کی کاشت شروع کی تھی یہ واحد شخص ہے جو دنیا میں سفید سٹرابیری کاشت کرتا ہے یہ سرخ سٹرابیری کے مقابلے میں بڑے سائز کی ہوتی ہے اس جاپانی کے مطابق اس نے کئی سال کی محنت کے بعد اور مختلف تکنیک کے ذریعے سفید سٹرابیری حاصل کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں