اسلام

islam_nofil_ki_ahmiyat
EjazNews

اسلام لانے کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید کو مکمل طور پر قبول کرنا، اطاعت و فرمانبرداری کرنا اور شرک اور مشرکوں سے مکمل دُوری اختیار کرنا۔
اسلام کے ارکان
اللہ تعالیٰ اور رسول کی گواہی دینا، نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج ہیں۔
ایمان قول و عمل کا نام ہے۔
ایمان میں کمی بیشی آتی رہتی ہے۔ قول، دل اور زبان دونوں سے ہوتا ہے۔ دل کے قول کا مطلب ہے: اقرار کرنا اور دلی تصدیق کرنا۔ فرمانِ الٰہی ہے: ’’اور وہ صداقت کے ساتھ آیا اور (دین) کی تصدیق کی۔ یہی لوگ حقیقی متقی ہیں۔ (سورہ زمر:۳۳)۔ اور دل کے عمل کا مطلب ہے: دل سے اطاعت و فرمانبرداری کرنا۔ فرمانِ الٰہی ہے: ’’اور تم رجوع کرو اپنے رب کی طرف اور مطیع و فرمانبردار ہو جاؤ‘‘۔ (سورہ زمر:۵۴)
زبان کے قول کا مطلب ہے تلاوتِ قرآن کرنا۔ تمام اذکارِ مسنونہ، نماز اور حج ادا کرنا۔
ایمان میں گناہوں سے کمی بیشی ہوتی ہے۔
ایمان میں زیادتی کی مثال یہ فرمانِ الٰہی ہے: ’’اور اہل ایمان کا ایمان مزید بڑھ جاتا ہے‘‘۔ (سورہ مدثر:۳۱)۔ اور اسی طرح یہ فرمان بھی ہے: ’’اور جب قرآن کی آیات ان پر پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے‘‘۔ (سورۃ الانفال:۲)۔
ایمان میں کمی کی مثال یہ ہے: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:ایمان کپڑے کی طرح پرانا ہوتا رہتا ہے۔ تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان کو تمہارے دلوں میں تازہ کرتا رہے۔ (مستدرک حاکم)۔
ارکانِ ایمان:
اللہ تعالیٰ، فرشتوں، کتابوں، رسولوں، قیامت، اچھی بری تقدیر کے برحق ہونے پر ایمان لانا، ضروری ہے۔
تقدیر پر ایمان لانے کے دو مراتب ہیں۔ پہلا مرتبہ علم ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے: ’’تم جان لو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور بیشک اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کو احاطہ کئے ہوئے ہے‘‘ (سورہ طلاق)۔ دوسرا مرتبہ تقدیر کو لکھا ہوا ماننا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے: ’’اور ہر چیز کو ہم نے لوحِ محفوظ میں شمار کیا ہوا ہے‘‘۔ (سورئہ یاسین)۔ مزید فرمایا: ’’(تقدیر) کا علم میرے رب کے پاس کتاب میں ہے۔ میرا رب نہ تو بھولتا ہے اور نہ ہی بھٹکتا ہے۔ (سورئہ طٰہ)۔ تیسرا مرتبہ ہے اللہ تعالیٰ کی چاہت پر ایمان لانا۔ فرمانِ الٰہی ہے: ’’اور تم نہیں چاہتے مگر اللہ تعالیٰ چاہتا ہے‘‘۔ (سورۃ الانسان)۔ چوتھا مرتبہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق پر ایمان لانا ہے۔ اِرشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے‘‘ (سورہ زمر)۔
اسلام کو توڑنے والے دس اُمور
شرک کرنا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانا اور غیر اللہ کے لئے ذبح کرنا، ایک مسلمان کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ’’بے شک اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شرک کرنے والوں کو معاف نہیں کرے گا۔ اور اس کے علاوہ جس کو چاہے گا معاف کر دے گا۔ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے تو وہ بہت بڑا گناہ کماتا ہے۔ (سورۃ النسا)۔
اپنے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان واسطوں اور وسیلوں کو مقرر کرنا اور ان سے دعائیں مانگنا بھی شرک ہے۔ (مشرکین اللہ کے علاوہ جن معبودوں کو پکارتے تھے انہیں وہ اللہ تعالیٰ کی قربت کے حصول کا وسیلہ اور ذریعہ سمجھتے تھے) مشرکین اپنے معبودوں کے متعلق کہتے تھے: ’’یہ لوگ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں‘‘۔ (سورہ یونس)۔ (نیز یہ بھی گمان رکھتے تھے کہ:’’ہم تو ان معبودوں کی صرف اس لئے عبادت کرتے ہیں تاکہ ہمیں یہ اللہ کی قربت کا ذریعہ بنیں۔‘‘سورۂ الزمر)
جو شخص مشرکوں کو کافر نہ کہے یا ان کے کفر میں شک کرے یا ان کے مذہب کو اچھا سمجھے تو ایسا شخص خود بھی کافر ہے۔
جو شخص یہ اعتقاد رکھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت سے بڑھ کر کسی دوسرے کی ہدایت و رہنمائی ہے یا کسی انسان کا حکم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر ہے۔ جیسے کہ لوگ موجودہ طاغوتی حکمرانوں کے احکام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات سے (قولاً نہیں، عملاً) افضل مانتے ہیں تو ایسے لوگ کافر ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو ناپسند کرنایا اس سے بغض و نفرت کرنا بھی کفریہ فعل ہے اگرچہ عمل بھی کرتے ہوں۔ فرمانِ الٰہی ہے: ’’یہ (سزا) اس لئے ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ دین کو ناپسند کرتے ہیں۔ سو اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کو ضائع کر دیا‘‘ (سورہ محمد)۔
جو شخص اللہ تعالیٰ کے دین کو یا ثواب و عتاب (جیسے حدود میں ہاتھ کاٹنے اور زنا ہونے پر سنگسار کرنے کی سزا وغیرہ) کے ہونے پر مذاق کرے، طنز کرے، تو وہ کافر ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ’’اور اگر ان سے پوچھا جاتا ہے کہ (یہ کام کیوں کرتے ہو) تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو کھیل رہے تھے اور مذاق کررہے تھے۔ فرما دیجئے کہ کیا اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسول ہی مذاق کے لئے ہیں؟ اب کوئی معذرت نہ کرو، تم نے اپنے ایمان کے بعد کفر کر لیا ہے‘‘ (سورہ توبہ)۔
جادو کرنا، جادوگری کے ذریعے انسان کو اپنی خواہشات کے مطابق معمول بنا لینا۔ جیسے کہ کسی شخص کی بیوی کو اس کے شوہر سے متنفر کرنا۔ یا اپنے معمول سے شیطانی کام کرنا۔ لہٰذا جو جادو کرے یا اس فعل سے راضی ہو جائے وہ کافر ہے۔
مسلمانوں کے خلاف مشرکوں کی مدد کرنا۔ ’’اے ایمان والو! یہودونصاری کو دوست نہ بناؤ۔ یہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ یہ جو تم میں سے ان (کافروں) کو دوست بنائے گا تو وہ انہی میں شامل ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔ (سورۃ المائدہ)۔
جو اعتقاد رکھے کہ بعض لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت سے خارج بھی ہو سکتے ہیں یعنی ان کے لئے یہ جائز ہے تو ایسا عقیدہ رکھنے والا کافر ہے۔
اللہ تعالیٰ کے دین سے اعراض کرنا، منہ پھیرنا، نہ سیکھنا، نہ عمل کرنا۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’اور اس شخص سے زیادہ ظالم کون شخص ہے جو رب کی آیات کو سن کرمنہ پھیر لیتا ہے۔ بے شک ہم مجرموں سے انتقام لیں گے‘‘۔ (سورہ سجدہ)۔

اپنا تبصرہ بھیجیں