اداکار حبیب فنکار ہی نہیں انسان بھی بڑے تھے

habib
EjazNews

بعض اوقات کچھ انسانی تعلقات بھی ایسے رشتوں میں ڈھل جاتے ہیں کہ جوپھر امَر ہوکر ذہن پر نقش ہوجاتے ہیں،بلکہ اکثر اوقات تو یہ باہمی انسانی تعلقات، خونی رشتوں کی سی اہمیت اختیار کرلیتے ہیں۔ اگرچہ میرا ان سے خونی رشتہ تو نہیں تھا، لیکن پھر بھی بہت بڑا انسانی رشتہ ضرورتھا۔ یہ 2003ء کی بات ہے اُن دنوں مَیں لاہور میں قومی بینک کی ایک برانچ میں بطور منیجر تعینات تھا۔ ایک روز حسبِ معمول اپنے کام میں مصروف تھا کہ اچانک میری نظر کیش کائونٹر کی لمبی لائن پر پڑی، اور وہاں کھڑے بہت سے لوگوں میں سے ایک لمبے تڑنگے پُرکشش شخص پر میری نظریں ٹھہر سی گئیں، جو ہاتھ میں چیک تھامے اپنی باری کا انتظار کررہے تھے۔ میں نے کئی باراس شخص کو غور سے دیکھنے کے بعداپنے نائب قاصد کو اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ’’ اُن صاحب کو میرے پاس اندر لے آئو۔‘‘ پھر چند ہی لمحوں میں جب وہ مسکراتے ہوئے میرے کیبن میں آئے، تو اس مروّت اور اپنائیت سے مخاطب ہوئے، جیسے برسوں کی شناسائی ہو۔ میں نے بے ساختہ کہا کہ’’ آپ کو اس طرح قطار میں کھڑا نہیں ہونا چاہیے تھا، اس معمولی سے کام کے لیے ہمیں بتا دینا چاہیے تھا۔‘‘ جس پر انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ’’اس طرح کے کاموں کے لیے اپنا تعارف کرانا مجھے اچھا نہیں لگتا۔‘‘ میں نے ان سے چیک لے کر کیش کائونٹر پر بھجوا دیا اور انہیں بیٹھنے کا اشارہ کیا، جس پر وہ شکریہ ادا کرتے ہوئے سیٹ پر براجمان ہوگئے۔یہ ماضی کے ناموَر فلم اسٹار حبیب سے میری پہلی ملاقات تھی۔ جب میں نے انہیں بتایا کہ ’’آج آپ کو اس طرح قطار میں کھڑا دیکھ کر مجھے اپنے زمانہ ٔ طالب علمی کے وہ دن یاد آگئے، جب اسی طرح قطار میں کھڑے ہوکر آپ کی فلموں کے ٹکٹ خریدا کرتے تھے۔‘‘ حبیب صاحب کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی اور کہنے لگے ’’ہاں صاحب! وقت وقت کی بات ہے۔‘‘ پھر چند رسمی کلمات کے بعد میں نے حبیب صاحب سے پوچھا ’’آپ چائے پینا پسند کریں گے؟‘‘ تو ان کا جواب ان کی خوش ذوقی کا آئینہ دار تھا۔ کہنے لگے ’’صاحب اس شدّت کی گرمی اور کمرے کے یخ بستہ ماحول میں چائے کی آفر ٹھکرانا بدذوقی ہی تو ہوگا۔‘‘
اس کے بعد ہر تیسرے چوتھے روز حبیب صاحب سے ملاقات ایک معمول بن گیا، بلکہ اکثر اگر کہیں قریب سے گزرتے، تو میرے پاس آجاتے اور پھر دیر تک باتوں کا سلسلہ اور کام ساتھ ساتھ جاری رہتا اور یوں حبیب صاحب سے دوستی ایک بے لوث انسانی رشتے میں بدلتی چلی گئی، پھر ملاقاتوں کا سلسلہ دفتر سے گھر تک بڑھ گیا۔ ایک دن حبیب صاحب دفتر میں میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اسی وقت میرے عزیز دوست اور نام وَر کالم نگار، صحافی، حسن نثار بھی آگئے۔ وہ بھی حبیب صاحب کے فن کے دلدادہ تھے۔ جب واپس جانے لگے، تو کہنے لگے ’’تو کل پھر آپ میرے بیلی پور والے نئے گھر آرہے ہیں ناں؟‘‘ میں نے کہا ’’ہاں، کیوں نہیں۔‘‘ کہنے لگے،’’ پھر حبیب صاحب کو بھی ساتھ لیتے آئیے، دوپہر کا کھانا اکٹھے کھائیں گے۔‘‘ اگلے روز حسبِ پروگرام میں نے حبیب صاحب کو رستے سے لیا اور ہم بیلی پور کے لیے رواں دواں ہوگئے۔ بیلی پور چوں کہ شہر سے باہر سندر گائوں کے نواح میں واقع ہے، اس لیے حبیب صاحب رستے بھر بِیتے دنوں کی یادیں تازہ کرتے رہے۔ ہماری گاڑی دائیں بائیں پھلوں کے باغات سے گزر رہی تھی کہ ایک جگہ اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’’یہاں ہم اکثر پنجابی فلموں کی شوٹنگ کے لیے آتے تھے۔‘‘ اس دوران میں نے جب ریڈیو آن کیا، تو انائونسر کہہ رہا تھا….’’اپنے وقتوں کا ایک خُوب صُورت نغمہ، جو ماضی کے مشہور فن کاروں حبیب اور نغمہ بیگم پر فلمایا گیا، لیجیے، آپ بھی سنیے۔‘‘ اور حُسنِ اتفاق دیکھیے کہ گانا سنتے ہی حبیب صاحب نے حیرانی و مسّرت کی مِلی جُلی کیفیت سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا، ’’جناب! حیرت انگیز طور پر ہم اس وقت عین اُسی باغ کے سامنے سے گزر رہے ہیں، جہاں لگ بھگ تیس برس قبل یہ گانا پکچرائز کیا گیا تھا۔‘‘ واپسی پر ایک اور عجیب اتفاق ہوا، جس نے ایک لمحے کو حبیب صاحب کو اداس کر ڈالا۔ جب ریڈیو پر ایک گانا، جو غالباً حبیب صاحب ہی کی فلم سے تھا اور نغمہ بیگم پر پکچرائز کیا گیا تھا، بول تھے:’’پتا سانوں پِچھوں کِسے یاد وی نئیں کرنا۔‘‘ گانا ختم ہوا، تو حبیب صاحب کہنے لگے ’’یہاں تو کوئی بغیر مطلب جیتے جی یاد نہیں کرتا، مرنے کے بعد کون یاد کرے گا۔‘‘
حبیب صاحب اور میرے تعلقات 13برس پر محیط تھے۔ وہ پاکستان فلم انڈسٹری کے سب سے زیادہ پڑھے لکھے اداکار تھے، جنہوں نے تین ماسٹرز (ایم اے) کر رکھے تھے۔ وہ ایک دردمند اور محبِ وطن پاکستانی تھے۔ جب بھی ملتے، وطنِ عزیز میں جا بہ جا ہونے والی دہشت گردی کی عفریت سے متعلق مضطرب نظر آتے۔ وہ معاشرے میں قائم فرسودہ روایات کے سخت خلاف تھے۔ 1994ء میں انہوں نے کاروکاری، وَنی اور وٹّے سٹّے کی شادی جیسی جاہلانہ اور ظالمانہ رسوم کے قلع قمع کے لیے اردو اور سندھی میں ’’باغی‘‘ نامی ایک فلم بھی بنائی۔ صوبہ سندھ، جو مذکورہ جاہلانہ رسومات سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔ 1999ء میں جب اُس وقت کی حکومت کو فلم سے متعلق علم ہوا، تو اس نے حبیب صاحب سے ایک معاہدے کے تحت کچھ ایڈوانس رقم دے کرفلم ’’باغی‘‘ خرید لی اور طے پایا کہ حکومتِ سندھ خود اپنی نگرانی میں اسے گائوں گائوں،، قریہ قریہ دکھانے کا بندوبست کرے گی، جس کے بعد باقی رقم دی جائے گی، لیکن بدقسمتی سے بقیہ معاوضے کی ادائیگی کی گئی، نہ ہی کہیں فلم چلائی گئی۔ اس حوالے سے حبیب صاحب آخری دم تک اپنے حق کے لیے آواز بلند کرتے رہے، لیکن حکمرانوں کے کان پر جون تک نہ رینگی۔ انہیں مرتے دم تک یہی صدمہ رہا کہ کاروکاری اور ونی کے خلاف جہاد پر مبنی ان کی فلم چلی، نہ ہی زندگی بھر کی جمع پونجی کی ادائیگی کی گئی۔ فروری 2016ء میں جب میں ایک حادثے کے سبب صاحبِ فراش تھا، ایک روز ان کے صاحب زادے، فہد حبیب نے فون پر اطلاع دی کہ’’ ابوّ، اتفاق اسپتال میں کومے کی کیفیت میں ہیں۔‘‘ چناں چہ میں وہیل چیئر پر اسپتال پہنچا، جہاں سی سی یو وارڈ میں وہ دنیا و مافیہا سے بے نیازو بے سدھ لیٹے ہوئے تھے۔ پھر 25فروری 2016ء کو جب ٹی وی پر خبر آئی کہ حبیب صاحب اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے، تو ایسا لگا جیسے کسی بہت ہی عزیز دوست کا ساتھ چِھن گیا ہو اور مَیں یک دَم تنہا ہوگیا ہوں۔ سچ ہے انسانی رشتے وقت کی گرد سے بھی ماند نہیں پڑتے۔

خاور نیازی

اپنا تبصرہ بھیجیں