آریوں کی برصغیر میں آمد

ماقبل تاریخ زمانے کا دوسرا دور وہ ہے جب کہ آریا قوم ایران و افغانستان ہوتی ہوئی مغربی پاکستان میں آئی اور پھر ستلج اتر کر وادی گنگا میں پہنچ گئی۔ اس کا شمال ہندکے علاقوں میں پھیلنا اور بس جانا نہ صرف وہاں کی پرانی آبادی میں بلکہ خودآریوں میںایک نمایاں انقلاب کا باعث ہوا۔ وہ قدیم باشندوں سے خلط مل ہو کر اپنی امتیازی صفات کھو بیٹھے اور پنجاب سے آگے جانے کے بعد ایک فرنگی مبصر کے الفاظ میں ”آریا سے ہندو بن گئے !“
واضح رہے کہ آریا کسی جداگانہ نسل انسانی کانام نہیں بلکہ آریا (بہ معنی شریف) سید و میرزا کی طرح ایک اعزازی لقب تھا ۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کسی زمانے میں یہ برادری بڑھتے بڑھتے ایک کثیر التعداد قوم بن گئی اور گو اس کا اصلی وطن متعین نہیں ہوسکا، تاہم ایک طرف وادی والگا اور گرجستان (یعنی جورجیہ )اور دوسری طرف مجارستان (ہنگری) تک اس کے آثار پائے گئے ہیں ۔ ممکن ہے وہ اسی طرف سے پلٹ کر ایشیائے کوچک آئی ہو اور پھر اس کے گروہ ایران ہو کر کابل و پاکستان میں پہنچنے ہوں۔ ان کی آمد کا ٹھیک زمانہ معلوم نہیں مگر اس بات کے معقول شواہد موجود ہیں کہ تخمیناً 15سو قبل مسیح تک پاکستان کے نووارد آریااور ان کے ہم قوم ایرانی ایک ہی زبان بولتے تھے اور ان کی زبانیں چند صدی بعد ایک دوسرے سے مختلف ہوئیں۔ لہٰذا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ دوسری ہزاری قبل مسیح میں افغانستان کے پہاڑوں کے پار آئے اور ان کی سب سے قدیم مذہبی کتاب ”رگ وید“ بھی اسی قیاس کی تائید کرتی ہے۔ (کیمبرج ہسٹری آف انڈیا جلد اول )
آریوں کی سب سے قدیم اورضخیم مذہبی کتاب ”رگ وید“ جس کے دس منڈل اور ایک ہزار سے زیادو بھجن ہیں اس تاریک دور میں تارا منڈل کا کام دیتی اور ہماری کچھ نہ کچھ رہنمائی کرتی ہے۔ اس کے بعض بھجن بہت پرانے ہیںاور بعض بعدمیں داخل کیے گئے۔ ان کی زبان چغل کھاتی ہے کہ قید تحریر میں آنے تک ان میں کافی تحریف و ترمیم ہوتی رہی۔ پھر قلمی نسخوں میں غفلت و سہو یا حکم و اصلاح کی کوشش نے فساد ڈالا اور یہ کتاب مختلف بلکہ متضاد عقائد کا مجموعہ بن گئی۔ تاہم اہل تفحص نے بڑی دیدہ ریزی کے بعد سب سے قدیم اقوال و اشعار کی نشاندہ کی جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک نوخیز اور جواں ہمت قوم کے گیت ہیں جو مناظر فطرت دیکھ کر جھومنے لگتی تھی۔ مجسم دیوی دیوتاﺅں کادخل نہیں ہونے پاتا تھا اورصرف وہ قوتیں جو نور و حرارت یا برق و باراں کو پیدا کرتی ہیں اس قوم کی معبود تھیں۔ مردان جنگی کا محبوب دیوتا اندر نیلے عفریت یعنی آسمان پر بجلی کے کوڑے مار کر پانی کو قید سے چھڑاتا اور زمین کے کشت و خیاباں پر اسے برساتا ہے۔ لڑائی کے وقت پجاری اسی کو پکارتے ہیںکہ دشمنوں پر غلبہ دلائے۔ یہی وہ اندر ہے جس کو چند صدی کے بعد صرف پریوں کااکھاڑا جماتا اور دن رات ناچ رنگ دیکھنے میں محفو بتایا جاتا ہے !
بعد کے بھجن اور اتھروویدسے پتا چلتا ہے کہ آریا لوگ جادو، منتر کے قائل تھے اور نیچ ذات کے پجاریوں کا کام ہی عملیات اور شعبدہ بازی تھا۔ لیکن تاریخی اعتبار سے کہیں زیادہ کارآمد بات یہ منکشف ہوتی ہے کہ ان بھجنوں کے کہنے والے کابل ندی سے لے کر سرستی تک کے علاقے سے با خوبی واقف تھے اور ہر چند ان کی زیادہ تعدادسندھ و ستلج کے درمیان آباد تھی لیکن وہ آہستہ آہستہ مشرق کی طرف منتقل ہو رہے تھے جس کا ایک بڑا سبب غالباً یہ تھا کہ تازہ دم آریوں کا ایک اور ٹڈی دل چترال و صوات کے راستے وادی سندھ میں داخل ہو رہا اور پہلے بسنے والوں کو جمنا گنگا کے علاقوں میں دھکیل رہا تھا۔
اس عہد کے متعلق جو ہمیں پہلی ہزاری قبل مسیح تک لے آتا ہے۔ اہل تحقیق ویدوں کے علاوہ ان کی شرحوں سے مدد لیتے ہیں۔ یہ کتب برہمنا کے نام سے موسوم ہیں اور ان میں کہیں کہیں ایسی تمثیلات مل جاتی ہیں جو مورخ کے لیے بہت قیمتی ہیں۔ ان کا رگ وید سے مقابلہ کیا جائے تو بعض دلچسپ فرق ظاہر ہوتے ہیں۔ مثلاً رگ وید میں شیر ببر کا ذکر آتا ہے لیکن بلا ایال شیر کانام نہیں ملتا جس کے معنی یہ ہیں کہ رگ وید کے بھجن لکھنے والے موجودہ پاکستان سے آگے وادی گنگا میں نہیں پہنچے تھے جہاں شیروں کی کثرت ہے۔ ایک برہنما میں یہ افسانہ بھی محفوظ رہ گیا ہے کہ وادی ہاکا راجا ماتھو اور اس کا پروہت سرستی ندی کے کنارے مقیم تھے کہ اگنی کاشعلہ چمکتا اورآگے بڑھتا نظر آیا۔ راجہ اور پروہت اس کے پیچھے پیچھے گنڈک کے پاراتر گئے۔ چنانچہ اب گنڈک پار بہت سے برہمن آباد ہیں اور کھیتی ہونے لگی ہے“ اس کہانی کو پڑ ھ کر آریوں کے مشرق میں پھیلنے کی ایک دھندلی تصویر خیال میں آجاتی ہے کہ ان کے گروہ پنجاب کے میدانوں سے اٹھ اٹھ کر وادی گنگا میں بڑھ رہے ہیں اور جہاں راجہ کا قدم جاتا ہے وہیں پروہت ساتھ ساتھ جاتے اورپوجا پا ٹ کا نقشہ جماتے ہیں انہی مذہبی کتابوں سے ہم آریوں ے قدیم تمدن کابھی ایک حد تک پتا چلا سکتے ہیں کہ ستلج کے پار جانے سے پہلے ہی ان میں بہت سے قبیل اور برادریاں الگ الگ تھیں لیکن زبان اور مذہبی رسم میں فرق نہ تھا اور جات پات کی کوئی تفریق پیدا نہ ہوئی تھی۔ اگرچہ آبادی کے مختلف طبقے ضرورتھے جن میںسب سے اول امیروںکا طبقہ ”راجینا“ تھا۔اور دوسرے درجے پر وہ لوگ اور پروہت جو نذر نیاز اور قربانی کی رسمیں ادا کرتے اور دیوتاﺅں کے بھجن گاتے تھے باقی لوگ جن کا پیشہ زراعت یا گلہ بانی تھا ”ویش“ کہلاتے تھے ۔ تاجروں یا صنعت گروں کے الگ کسی فرقے کا اس ابتدائی تمدن میںذکر نہیں آتا ۔ حالانکہ ان کی عورتوں کے زیور اور مردانہ زرہ بکتر وغیرہ قدیم اسلحہ نہ صرف کتابوں میں مذکورہیں بلکہ کہیں کہیں کھدائیوں میں دستیاب سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہ دست کاریاں خوب جانتے تھے۔ ساتھ ہی ضرورت کے وقت قوم کا ہر مردسپاہی کے فرائض انجام دیتا تھا اور ان میں آئے دن آپس میں کشت و خون کے معرکے ہوتے رہتے تھے۔ اور یہ نہیں تو قومی دشمنوں سے لڑائیاں ٹھنی رہتیں جن کی زمینیں آریوں نے چھین لی تھیں۔ یہ کالے رنگ کے دراودی تھے جنہیںنو وارد آریا از رہ حقارت ”داس یوس“ کہتے اورلڑائی میں گرفتار کر کے اپنا غلام بنا لیتے تھے۔ یوں بھی ان کی جان کچھ قیمت نہ رکھتی تھی، اور ان کے زن و مرد کا قتل عام کرنا معمولی سی بات تھی۔
گھوڑوں کی بہت قدر کی جاتی تھی اورلڑائی میں یادوڑ کے وقت وہ تانگوں یا جگ مگاتی رتھوں میں جوتے جاتے تھے۔ لیکن قدیم آریوں کی اصلی دھن دولت ،گائے ، بھینس اور دودھ ، مکھن ان کی مرغوب غذا تھی۔ وہ گوشت کھاتے تھے۔ خاص کر تیر تہوار کی قربانیوں میں بجار کا گوشت بہت پسند کیا جاتاتھا۔ ان کا تمدن ابھی تک سادہ اور دیہاتی تھا۔ گاﺅں کی حفاظت کے لیے لکڑیاں گاڑ کر مضبوط باڑ بنالی جاتی تھی۔ مکانات لکڑی اور شہتیر کے بنے ہوتے تھے مگر اینٹ پتھر ی عمارتوں کا پتا نہیں چلتا۔ ہر گروہ یا برادری کئی کئی بستیوںمیں پھیل گئی تھی۔ ہر کنبے کا بزرگ خاندان اپنے گھرانے کا حاکم ہوتا لیکن پوری برادری پر ایک سردار یا راجہ کی حکومت ہوتی اور غالباً اسے برادری والے منتخب کیا کرتے تھے۔ ان کے ہاں شادی اکثر دولھا دلہن کی مرضی سے ہوتی اور بیوی کی عزت کی جاتی تھی ۔ جبر یہ بیوگی اوربچپن کی شادی کا قدیم آریوںمیں کوئی رواج نہ تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں