آدھا پتھر آدھا انسان

آدھا_پتھر_آدھا_انسان

بادشاہ نے کہا تمہاری اس حالت نے میرے دل کو پاش پاش کر ڈالا۔ اب یہ بتاﺅ کہ کس ظالم نے تمہیں انسان سے پتھر بنا دیا۔آخراس کا سبب کیا ہے؟۔
وہ بولا آپ میرے مہمان ہیں۔ اس لیے جی نہیں چاہتا کہ اپنا غم ظاہر کرکے آپ کی طبیعت بھی رنجیدہ کردوں۔
بادشاہ نے کہا میں تمہاری کہانی ضرور سننا چاہتا ہوں ۔ ممکن ہے تمہارے کام آسکوں۔
تب اس نے اپنا قصہ یوں شروع کیا ۔ میرا اوران مچھلیوں کا قصہ عجیب و غریب ہے جو سنے گا عبرت پائے گا۔ اب سنیے! میرے والد بزرگوار اس ملک کے بادشاہ تھے۔ ان کانام شاہ محمود تھا۔ ستر سال تک حکومت کی۔ ظالم کو سزا اور مظلوم کی داد دی۔ عدل وانصاف سے خلق خدا کو راضی رکھا۔شیر اور بکری کو ایک گھاٹ پانی پلایا۔ ان کی وفات کے بعد تاج و تخت کا وارث میں ہوا۔
سیرو شکار کا میں بچپن سے شوقین تھا۔ دوسرے تیسرے روز شکار کو نہ جاتا تو چین نہ پاتا۔ ایک روز کی بات ہے میں اپنے ساتھیوں سمیت جنگل میں ہرن کا شکار کھیل رہا تھا کہ اچانک میری نظرایک بہت ہی خوبصورت ہرن پر پڑی۔ جی میں آئی کہ اسے جیتا پکڑنا چاہیے۔ بس پھر کیاتھا میں نے گھوڑا اس کے پیچھے ڈال دیا۔ جوں جوں میں گھوڑے کو تیز دوڑاتا، ہرن اور بھی تیز ہو جاتا۔ ایسی ایسی چوکڑی بھرتا کہ سبحان اللہ! ہوتے ہوتے میں اس کے پیچھے دور تک نکل آیا۔ مگر وہ اچانک ہی نظروں سے اوجھل ہوگیا، میں نے ادھر ادھر دیکھا واپسی کا کوئی راستہ نہ پایا ۔ بڑا فکر مند ہوا۔ یا خدا اب کیا ہوگا۔ شام ہونے کو ہے۔ راستہ سجھائی نہیں دیتا۔ خوں خوار درندوں کی جگہ ہے۔ کیوں کر جان بچا سکوں گا!۔
ابھی میں اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ اچانک ایک خوفناک قہقہہ گونجا۔ چونک کر ادھر ادھر دیکھا اور جو دیکھا وہ ہوش اڑا دینے کے لیے کافی تھا۔ ایک لمبے لمبے بالوںاور بڑے دانتوں والی چڑیل کھڑ ی قہقہے لگا رہی تھی۔ ایک بار تو خوف کے مارے بدن تھر تھرا ٹھا۔ ہاتھ پاﺅں ڈھیلے پڑ گئے۔ مگر پھر جلد ہی سنبھل گیا ۔ تلوار کے دستے پر ہاتھ مارا اور اس کی طرف لپکا کہ ایک ہی وار میں گردن مار دوں ۔ مگر اس چڑیل نے کچھ پڑھ کر میری طرف پھونک ماری اور میں ایک پنجرے میں بند ہو کر رہ گیا۔ بہت سٹ پٹایا مگر بے سود۔ وہ باہر کھڑی قہقہے لگاتی رہی۔
میں نے غصے سے کہا اے کم بخت! میں نے تیرا بگاڑا کیا ہے جو تو مجھے یوں گھیر بیٹھی ہے؟۔
وہ بولی بے شک تونے میرا کچھ نہیں بگاڑا لیکن شاید تو نہیں جانتا کہ میں ہرنی بن کر تجھے یہاں تک لائی ہوں۔ اگر تو میری ایک شرط مان لے توآزاد کر سکتی ہوں۔
میں نے کہا تجھ سے خدا سمجھے۔ میں اگر یہ جانتا کہ ہرن کے روپ میں تو ہے تو اسی وقت تیروں سے چھلنی کر دیتا۔ بتا! تو مجھ سے کیا چاہتی ہے؟۔
تب وہ بولی تو مجھ سے شادی کر لے تو ابھی رہا کر دوں گی۔

میںنے اپنی جان بچانے کو کہہ دیا، مجھے تیری یہ شرط منظور ہے۔ مگر مجھے اس پنجرے سے باہر تونکال اور ہاں ! شادی یہاں جنگل میں نہیں ہوگی تو میرے ساتھ چل، شہر میں چل کے تجھ سے شادی کروں گا۔
وہ کہنے لگی اگر تونے میرے ساتھ دھوکا کیا تویاد رکھ ایسی سزا دوں گی کہ عمر بھر روتا رہے گا۔
میں نے کہا تو خاطر جمع رکھ میں اپنا وعدہ پورا کروںگا۔
تو لے! میں تجھے آزاد کر تی ہوں۔ یہ کہہ کر اس نے کوئی منتر پڑھا اور میں پنجرسے باہر آگیا۔
پھر کہنے لگی میں کل ایک عورت کا روپ دھار کر تیرے محل میں آﺅں گی۔ اب تو جا اور شا دی کی تیاری کر۔
اس نے پھر کوئی منتر پڑھا تو میں ایک لحظے میں اپنے محل کے باہر کھڑا تھا۔ خدا کا شکر ادا کیا کہ چڑیل سے جان چھوٹی۔ اب جو ہوگا دیکھا جائے گا۔
دوسرے روز وہ میرے محل میں آگئی۔ اس کے ساتھ ایک حبشی غلام بھی تھا۔ دل زور زور سے دھڑکنے لگا کہ اب کیا کروں !۔
میں نے دونوں کا خیر مقدم کیا۔ اپنے کمرے میں لا بٹھایا خود بہانہ کر کے باہر نکل آیا۔ باہر آکر دس تلوار بازوں کو حکم دیا کہ اس چڑیل اور حبشی غلام کا کام تمام کردیں۔ انہوں نے تلواریں سونت لیں اور باز کی طرح ان پر جھپٹے پہلا وار حبشی غلام پر جو چڑیل کا شوہر تھا، پڑا۔ گردن کھٹ سے وہ جا پڑی۔ چڑیل بھاگ اٹھی مگر ایک ٹانگ سے ہاتھ دھو بیٹھی۔
میں نے اطمینان کا سانس لیا کہ خدا نے اس جادوگرنی سے چھٹکارا دلایا۔ مگر مجھے کیا معلوم تھاکہ وہ رات کو پھر لوٹ کر آئے گی اور مجھ سے انتقال لے کر جائے گی۔ رات کو جب سب سو گئے تو اچانک میرے کمرے کا دروازہ کھل گیا۔ دیکھا تو سامنے وہ بد ذات کھڑی تھی۔ غصے میں آگ بھبھوکا ہو رہی تھی۔ آﺅ دیکھا نہ تاﺅ جھٹ منتر پڑھا اور پھر اونچی آواز میں بولی ”میرے جادو کی طاقت سے تیرا آدھا دھڑ پتھر کا بن جائے “۔اوراسی وقت میرا آدھا جسم پتھر بن گیا۔
اب تو قیامت تک اسی طرح رہے گا۔ تو نے مجھے دھوکا دیا ہے اس کی سزا یہی ہے۔ یہ کہہ کر وہ نظروں سے غائب ہو گئی۔ لیکن جاتے جاتے تمام شہر کو جھیل بنا دیا اور آدمیوں کو مچھلیوں کے روپ میں بدل دیا۔ سرخ مچھلیاں مجوسی ہیں۔ زرد ، یہودی ، سبز عیسائی اور سفید مسلمان ہیں۔ اصل میں یہ سب میری رعایا ہے۔ چاروں طرف جو پہاڑ نظر آتے ہیں، یہ میرے قلعے تھے جنہیں اس چڑیل نے پہاڑوں میں بدل دیا۔ یہی نہیں بلکہ و ہ ظالم عورت ہر روز میری پیٹھ پر سو کوڑے گن کے لگاتی ہے۔ اگر بھول جاتی ہے تو پھر سے شمار کرتی ہے۔
بادشاہ نے یہ داستان سنی تو بڑا رنجیدہ ہوا۔ کہنے لگا ”اب تمہارے بچنے کی کوئی تدبیر ہو سکتی ہے کہ نہیں ؟“۔
ہاں! مگر بہت مشکل ہے۔ اس نے جواب دیا۔ بادشاہ نے کہا تم بتاﺅ تو سہی۔ شاید کوئی صورت نکل آئے۔
تب وہ بولا کہتے ہیں کہ ایک بہت ہی سرکش دیو جسے حضرت سلیمان ؑ نے بوتل میںبند کر کے سمندر کی تہہ میں قید کر رکھا ہے، چاہے تو اس جادوگرنی کی گردن مروڑ سکتاہے ۔اس کے علاوہ کوئی صورت نہیں۔
بادشاہ نے جب یہ سنا تو خوشی سے باچھیں کھل گئیں۔ بولا:
تم اب فکر نہ کرو۔ خدا نے چاہا توتمہاری سزا عنقریب ختم ہو جائے گی۔ جادوگرنی کچھ دم کی مہمان ہے۔
وہ حیران ہو کر بولا یہ کیا فرما رہے ہیں آپ؟۔ مجھے یقین نہیں آتا!۔
بادشاہ نے کہا میراایک خاص ماہی گیر ہے۔ اسی نے مجھے یہاں کا پتا بتا یا تھا۔ ہاں! اور یہ دیو، اس ماہی گیر کا جگری دوست ہے کیونکہ ماہی گیر ہی نے اسے سمندر سے نکال کر آزادی بخشی ہے۔ میں آج ہی اس سے ساری بات کہتا ہوں۔
یہ کہہ کر بادشاہ واپس اپنے خیمے میں آیا، وزیر کے ذریعے ماہی گیر کو بلوایا اور پھر اسے ساری کہانی سنا دی۔ ماہی گیر نے ہاتھ باندھ کر عرض کیا ”حکم ہو تو دیو کوبلاﺅں ؟۔“
بادشاہ نے کہا ”ہاں جلدی کرو“۔
ماہی گیر نے دیو کا نام لے کر تین بار پکارا۔ چند سیکنڈ بعد ایک زور کی آندھی آئی، زمین پر لرزہ سا طاری ہوگیا۔ دیو ماہی گیر کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا تھا اس نے کہا:
اے میرے آدم زاد دوست! بول مجھے کس لیے بلوایا ہے ؟۔
جواب میں ماہی گیر نے کہا میرے دوست! میں نے تمہیں یوں تکلیف دی ہے کہ ہمارے بادشاہ سلامت کے ایک دوست پر ایک جادوگرنی نے بڑا ستم ڈھایا ہے۔ ہم نے سنا ہے کہ وہ جادوگرنی تمہارے سامنے بے بس ہے۔ تمہارا نام سن کر کانوں پر ہاتھ دھرتی ہے۔
دیو نے پوچھا اس کی کوئی نشانی بتاﺅ۔
ماہی گیر نے جواب دیا اس کی ایک ٹانگ آدھی کٹی ہوئی ہے۔
دیو بولا ابھی پکڑتا ہوں اس بد ذات کو۔
یہ کہہ کر اس نے اپنا ایک ہاتھ پھیلایا۔ ہاتھ پھیلتا گیا،پھیلتا گیا ، جیسے زمین کے آخری سرے تک چلا گیا ہو۔
چند ہی سیکنڈ بعد لنگڑی چڑیل دیو کی مٹھی میں دبکی چلا رہی تھی جیسے انسان کے ہاتھ میں ننھی سی چڑیل ہو۔
یہی ہے وہ چڑیل؟۔ دیو نے نفرت سے پوچھا۔
ہاں ! ماہی گیر نے جواب دیا۔
تب دیو نے چڑیل سے کہا شاہ محمود کے بیٹے کی رعایا کو پھر سے انسان بنا دے، اس کے قلعوں کو اصل شکل میں لا اور شہزادے کا آدھا دھڑ پھر سے گوشت پوست کابنا دے، ورنہ ابھی مروڑ کر رکھ دوں گا۔
جادوگرنی نے دو تین مرتبہ کچھ منتر پڑھ کر پھونکاتو ہر چیز اپنی اصلی حالت پر آگئی۔ مچھلیاں انسان بن گئیں، پہاڑ قلعوں میں تبدیل ہو گئے اور جھیل دوبارہ شہر بن گئی۔ شاہ محمود کے بیٹے کاجسم ٹھیک ٹھاک ہوگیا۔ جب سب کچھ ٹھیک ہوگیا تو دیو نے جادوگرنی کو مٹھی میں زور سے بھینچا اور زمین پر دے مارا اس کی روح پرواز کر گئی۔ مگر لاش زمین پر پڑی رہ گئی۔
تب دیو نے پوچھا اے میرے آدم زاد دوست! اس چڑیل کا کام تو میں نے تمام کر دیا کوئی اور خدمت؟۔
ماہی گیر نے کہا اب تم جاسکتے ہو میرے دوست۔
دیو نے زمین سے پاﺅں اٹھائے اور دیکھتے ہی دیکھتے نظروں سے اوجھل ہوگیا۔
اس کے بعد دونوں بادشاہ !ایک دوسرے سے بغل گیر ہو گئے۔ شاہ محمود کے بیٹے نے اپنے مہمان بادشاہ کی شاندار دعوت کی۔ تحفے کے طورپرقیمتی جواہرات پیش کیے، اپنے باپ کی بے مثال تلوار بھی تحفے میںدے دی۔
مگر بادشاہ نے کہا اے شہزادے! ہمیں ان جواہرات سے کوئی سروکار نہیں۔ ہاں ! اگر تم ہمیں کوئی تحفہ دینا ہی چاہتے ہو تو جو ہم مانگیں وہ دو۔
شہزادے نے کہا حضور حکم فرمائیں۔ جان تک نثار کر دوں گا۔
تب بادشاہ بولا ! ہمارا کوئی بیٹا نہیں ہے۔بس اسی ہیرے کی ہمارے خزانے میں کمی ہے ۔ اگر تم چاہو تو ہم تمہیں اپنا بیٹا بنالیں۔ تمہارا نور اپنی آنکھوں میں سما لیں۔
شہزادہ بولا !مجھے کیا انکار ہو سکتا ہے۔ آپ ایسے شفیق اور سخی بادشاہ کی فرزندی میرے لیے باعث فخر ہے۔
بادشاہ نے شاہ محمود کے بیٹے کو اپنا بیٹا بنا لیا اور اپنے ساتھ لے کر وطن لوٹا۔ سارے ملک میں خوشی کا جشن منایا گیا۔ پھر ماہی گیر کوبلایا کہ بتا تیرے کتنے بچے ہیں ؟ اس نے بتایا کہ صرف ایک لڑکی ہی لڑکی ہے۔ تب بادشاہ نے ماہی گیر کی لڑکی کو اپنے بیٹے سے بیاہ دیا۔ ماہی گیر کو وزارت کا عہدہ دیا اور پہلے وزیر کو شہزادے کے ملک میں بھیج دیا کہ وہاں کا انتظام سنبھالے۔ ساتھ یہ تاکید بھی کر دی کہ رعایا سے انصاف کرنا، ظالموں کو موت کی سزا دینا اور مظلوموں کی حمایت کرنا ۔ کوئی بھوکا نہ رہے، کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔
اتنے میں رات کی سیاہی صبح کے اجالے میں بدلنے لگی۔ پھر اذان کی آواز آئی اور سلطان شہریار نماز ادا کرنے چلا گیا۔ شہر زاد نے اپنی بہن سے کہا اگر جان بچ گئی تو آج رات نئی کہانی شروع کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں